حسن زیب ملک - بال بال قرض میں بال بال قرض میں

تقسیم ہند کے وقت سرکاری خزانے میں کل رقم چار سو کروڑ روپے تھے ہندوستان کے حصے میں تین سوکروڑ اور پاکستان کو سو کروڑ روپے ملنے تھے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ متحدہ ہندوستان نے تین سو کروڑ کا بیرونی قرضہ بھی ادا کرنا ہے اسلئے ہندوستان نے پاکستان کے پیسے روک دیئے ‘پاکستان مسئلے کو ثالثی ٹریبونل لے گیا جس نے پاکستان کو 75 کروڑ دینے کا فیصلہ سنا دیا‘ہندوستان نے کشمیر کے مسئلہ کے حل اور قرض کے مسائل اٹھا کر 75کروڑ میں سے بھی صرف 20کروڑ ادا کردیئے اور بقایا رقم ہڑپ کرلی‘ قصہ مختصر ان 20کروڑ روپوں سے آغاز ہوگیا‘اس وقت20کروڑ روپے ایک بڑی رقم تھی‘کچھ قائداعظم کے ذاتی دوستوں نے مدد کی اور کاروبار حکومت چل پڑا‘ 1958ءتک کوئی قرض نہےں لیاگیا صرف ایک دوبا رامریکہ نے غذائی اجناس بطور امداد دیں لیکن نقد رقم کبھی نہےں لی گئی ‘1958ءمیں پہلی بار ہم آئی ایم ایف گئے اور صرف تین لاکھ ڈالر قرض لے لیاگیا ‘1965ءکی جنگ کے باعث معیشت کو نقصان پہنچا تو ہم پھر عالمی ادارے کے پاس چلے گئے اس با ر قرض صرف چار لاکھ ڈالر تھا اور پھر ہم نے پیچھے مڑ کر نہےں دیکھا حتیٰ کہ 2008ءمیں7.2ارب ڈالرقرض لے لیاگیا‘31 جنوری 2020ءتک آئی ایم ایف اور دیگر عالمی اداروں اور ملکوں کا قرض کل ملا کر106.9ارب ڈالر ہے حالانکہ2006ءمیں یہ قرض صرف37.2 ارب ڈالر تھا‘ آپ بدقسمتی دیکھیں30جون 2018ءکو کل قرضہ انتیس ہزار آٹھ سو اناسی ارب روپے تھا۔

 2019ءکی پہلی سہ ماہی میں یہ قرض30798 ارب ہوگیا صرف تین ماہ بعد 2019 کی دوسری سہ ماہی میں 33229ارب ہوگیا‘مزید تین ماہ بعد یعنی 2019 کی تیسری سہ ماہی میں 35094 ارب ہوگیا 2019 کی چوتھی سہ ماہی میں 40223 ارب ہوگیا اور 2020کی پہلی سہ ماہی میں 41489 ارب روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا یعنی 15ماہ میں 11 ہزار 610ارب روپے کا ریکارڈ قرضہ لے لیاگیا‘ یہ قرض جی ڈی پی کا 94.3فیصد ہے آپ یہ بھی نوٹ کرلیں کہ یہ قرض2008 میں6435 ارب روپے تھا 2013ءمےں15096ارب روپے تھا لیکن اب یہ 41489ارب روپے ہے حیران کن انکشاف یہ بھی ہے کہ پاکستانی بینکوں نے نجی صارفین کو چھوٹے قرضے دینا بھی بند کردیئے ہےں کیونکہ انہوں نے حکومت کو روزانہ کے حساب سے اربوں روپے قرض دینا ہوتا ہے یہ اعداد وشمار بھی حیران کن ہےں کہ پی پی پی نے 2008ءسے 2013ءتک 8ہزار ارب روپے قرض لیا جبکہ2013ءسے 2018ءتک ن لیگ کی حکومت نے 14ہزار ارب روپے قرض لئے ‘قرضوں کا ملکی معیشت کو کیا نقصان ہوتا ہے یا ان قرضوں کا عام آدمی پر کیا اثر پڑتا ہے اس کا جواب بھی حیران کن ہے حکومت بجٹ کا نصف حصہ قرضوں کی ادائیگی میں صرف کررہی ہے امسال حکومت نے 3200ارب روپے ادا کرنے ہےں یہ جملہ رقم شہریوں سے وصول کی جانی ہے دوسری طرف چونکہ بینکوں سے قرض حکومت لے رہی ہے اسلئے کاخارنہ دار فارغ بیٹھے ہوئے ہےں حکومت نے شرح سود13.25فیصدمقرر کرکے کارخانہ داروں کو مکمل طور پر فارغ کردیا ہے نتیجتاً ہزاروں لوگ بیروزگار ہوگئے ہےں حکومت اس بلند شرح سود سے قرضے لے رہی ہے چونکہ یہ مقامی قرضے میں ان کی ادائیگی روپے میں ہی ہونی ہے اسلئے یہ رقم شہریوں سے ہی ٹیکسوں کے ذریعے وصول کی جانی ہے موجودہ بجٹ میں کل ٹیکس5500 ارب روپے ہےں مطلب یہ رقم ہم سے ہی وصول ہونی ہے۔

 مسئلہ یہیں سے شروع ہوا کہ عوام کو تو گھبرانا نہےں کی تلقین کردی گئی لیکن حکومتی اخراجات بیک جنبش قلم دگنے کردیئے گئے ےعنی بجٹ مےں حکومتی اخرجات مےں 3700ارب روپے کابےک جنبش قلم اضافہ کردےاگےاجسکا خمیازہ عوام بھگت رہے ہےں‘سب سے بڑا نقصان شرح سود میں اضافہ کرنے سے ہواحکومت جب بےنکوں سے بھاری قرض لے توکارخانہ داروں کو قرض نہےں ملے گا ےاوہ لیں گے نہےں‘ کارخانہ دار بینکوں سے قرض نہےں لیں گے تو کارخانے نہےں چلیں گے کارخانے نہےں چلیں گے تو مزدور بے روزگار ہوجائیں گے یوں مال بننا بند ہوجائے گا‘مارکیٹیں سنسان ہوجائیں گی‘ تاجر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں گے ‘گاہک ہوں گے نہ مارکیٹ میں پیسہ ہوگا ‘بے روزگاری بڑھ جائے گی مارکیٹ سے پیسے آنا بند ہوجائیں گے تو حکومت مزید ٹیکس لگا کر اپنا بجٹ خسارہ اور اخراجات پوری کرنے کی کوشش کریگی اور یہی سب پاکستان میں پچھلے پندرہ ماہ سے ہورہا ہے‘ حکومت سرچھپاتی ہے تو پاﺅں ننگے ہوجاتے ہےں اور پاﺅں چھپاتی ہے تو چادر سر سے سرک جاتی ہے‘ عوام کےساتھ بھی یہی ہاتھ ہوگیا ہے شہری جیسے تیسے روٹی خریدتے ہےں تو سالن بنانا مشکل ہوجاتا ہے اور سالن بناتے ہےں تو نانبائی کے پاس جانے کی سکت نہےں رہتی ‘کپڑے خریدتے ہےں تو جوتے نہےں ہوتے اور جوتے لیتے ہےں
تو تن ننگا ہوجاتا ہے‘ یہ عجیب سی حالت ہے حکومت بھی حیران ہے اور عوام بھی خالی خالی آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھ رہے ہےں کسی کو سمجھ آرہی ہے نہ کچھ سجھائی دے رہا ہے۔

 

بشکریہ روزنامہ آج