حسن زیب ملک - سالانہ ترقیاتی پروگرام سالانہ ترقیاتی پروگرام

 ہم ہر سال 3 ہزار ارب روپے ترقیاتی کاموں کے نام پر اےک اےسے مشق کی نذر کردےتے ہیں جس کا حاصل وصول کچھ نہیں‘اعداد و شمار نکالیں تو آپ حیران رہ جائیں گے پچھلے دس برس میں وفاق نے تےرہ ہزار ارب روپے کے ترقیاتی کام کئے ہیں صوبوں نے الگ سے گےارہ ہزار ارب روپے خرچ کئے ہیں‘ ان ترقیاتی کاموں میں سکولوں ‘ کالجوں ‘ یونیورسٹیوں کی تعمیر ‘ ہسپتال اور دیگر طبی ادارے ‘ پل ‘ سڑکیں ‘ گلیاں ‘ نالیاں اور دیگر سرکاری عمارات شامل ہیں‘ ورکس اینڈ سروسز کے اعداد و شمار کھنگھا لیں تو پتہ چلتا ہے کہ پچھلے ایک عشرے مےں ہم ساڑھے 3 ہزار ارب روپے کی سڑکیں بنا گئے ہیں‘ تھوڑا سا اور کھوج لیں تو پتہ چلتا ہے کہ اسی عرصے میں مملکت خداداد میں ساڑھے بارہ سو ارب کی گلیاں اور نالیاں بنی ہیں ‘ میٹرو بس موٹرویز اور ہائی ویز اس کے علاوہ ہیں‘ بجٹ2016/17 میں ترقیاتی کاموں کےلئے وفاق نے 1650 ارب روپے اور صوبوں نے 1200 ارب روپے رکھے تھے‘ بجٹ 2017/18 میں وفاق نے 1750 ارب اورصوبوں نے 1235 ارب روپے بجٹ2018/19میں وفاق نے 1400 ارب اور صوبوں نے 1100 ارب اور بجٹ 2019/20 میں یہ رقم کم و بیش اتنی ہی تھی ‘ سادہ الفاظ میں آپ یہ سمجھ لیں کہ کوئی ایک چوتھائی بجٹ ایسے کاموں میں صرف ہو جاتا ہے جن کو اگلے سال دوبارہ کرنا پڑتا ہے‘ وجوہات آگے چل کر آپ کو پتہ چلیں گی‘ فرض کریں10 کلو میٹر لمبی سڑک ایک لمبے چوڑے طریقہ واردات کے بعد منظور ہو جاتی ہے۔

 اس کےلئے اے ڈی پی میں 20 کروڑ روپے رکھے جاتے ہیں ٹینڈر ہوتا ہے لمبی چوڑی کمیشنوں کے بعد ٹھیکہ دےدیا جاتا ہے ٹھیکیدار آتا ہے مزدور اور مشینری لے کر آتا ہے سڑک بنا کر چلا جاتا ہے پھر سے کمیشن دے دے کر اپنا بل منظور کراکے غائب ہو جاتا ہے‘ سڑک کے ا طراف میں نکاسی کا کوئی انتظام نہیں ہوتامکانات جس طرف بنے ہوں نالیاں مخالف سمت مےں رکھ لی جاتی ہیں لوگ بیلچے کدالےں اٹھا کر سڑکوں کو برباد کرنے پر تلے رہتے ہیں ‘ایک دو سال میں بارش اور نالیوں کے پانی سے سڑک ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے لیکن اس ٹوٹ پھوٹ سے بھی پہلے محکمہ سوئی گیس والے کاروائی ڈال دیتے ہیں‘ نئی نویلی سڑک بنے ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیںہوئے ہوتے کہ سوئی گیس کے بڑے بڑے پائپ ایم این اے کے فنڈز سے منظور ہو کر آ جاتے ہیں اور بڑی بڑی مشینیں20 کروڑ کی سڑک ادھےڑ کر رکھ دیتی ہیں‘ وہ ابھی گئے بھی نہیں ہوتے کہ واپڈا والے آدھمکتے ہیں اور سڑک کے عین بیچوں بیچ کھمبے کھڑے کرکے ہنستے مسکراتے لوٹ جاتے ہیں‘ ادھر سے ٹیلی فون والے آجاتے ہیں اور وہ اپنی تار کھول کر بیٹھ جاتے ہیں‘ 20 کروڑ کی سڑک کھڈوں میں تبدیل ہو جاتی ہے اوراب یہ پھر سے 25 کروڑ میں آئندہ سال بنے گی ۔ یہ عوام کے پیسوں پر سیدھا سادا ڈاکہ ہے لیکن 72 سال میں تواتر سے پڑنے والا یہ ڈاکہ ابھی تک کسی کے نوٹس میں نہیں آیا‘ آپ دیکھ لیں انگریز کی بنائی ہوئی عمارات ابھی تک صحیح سالم ہیں‘ مغلوں کی شاندار عمارات موجود ہیں‘ سکھوں کی بنائی ہوئی عمارات کھڑی ہیں۔

 لیکن ہماری بنائی ہوئی سڑک اور عمارت دو چار سال نہیں گزار پاتی‘ آسان اور سادہ فارمولا ہے سڑک بنے تو ٹینڈر دیتے وقت ایک خانے میں یہ بھی درج کر دیں کہ یہ سڑک کتنے عرصے کے لئے بن رہی ہے مثلاً20 سال کا عرصہ ہو تو قانون بنا دیں کہ اس عرصے میں اگر یہ سڑک ٹوٹ پھوٹ گئی تو ٹھیکیدار ذمہ دار ہو گا‘ سزا کا تعین بھی کیا جا سکتا ہے یا وہ صرف مرمت کرکے دےدے تو یہ بھی کافی ہو گا‘ ٹینڈر دیتے وقت محکمہ سوئی گیس ‘ ٹیلی فون ‘ ورکس اینڈ سروسز واپڈا کے حکام کو بھی بلایا جائے یا ایک ہی چھت کے نیچے ان سب محکموں کے دفاتر قائم کئے جائےں‘ ٹینڈر منظور ہو تو سوئی گیس والے پائپ بچھا دیں ‘ پبلک ہیلتھ انجےنئرنگ والے نالیاں بنا دیں ‘ واپڈا والے کھمبے نصب کردیں‘ ٹیلی فون والے اپنی تار بچھا دیں اس کے بعد ٹھیکیدار آکر سڑک بنا دے‘ آپ یقین کریں صرف سڑکوں کے لئے یہ قانون بنا کر پاکستان2 ہزار ارب روپے سالانہ بچا سکتا ہے ‘2 ہزار ارب روپے کتنی بڑی رقم ہے اس کا اندازہ آپ یوں لگالیں کہ صحت کا بجٹ صرف 140 ارب روپے اور تعلیم کا بجٹ145 ارب روپے ہے‘ غربت مکاﺅ پروگرام کے لئے صرف 80 ارب روپے ہوتے ہیں ‘ہائر ایجوکیشن کا بجٹ 103 ارب روپے تھا جسے یہ کہہ کر 59 ارب روپے کر دیا گیا کہ ملک غریب ہے یعنی ہم تعلیم اور صحت کا بجٹ دس گنا کر سکتے ہیں اور غربت مکاﺅ پروگرام کے لئے 200 ارب روپے رکھ سکتے ہیں اگر کل قرضے نکالیں تو وہ106 ارب ڈالر ہیں صرف اے ڈی پی کو قانون کے دائرے میں لا کر 20 سال میں پاکستا ن کا جملہ قرض ختم ہو سکتا ہے ۔

 

بشکریہ روزنامہ آج