پنجاب کا تاجر اغواءہوگیا‘ پانچ لاکھ میں جان کی امان پائی تو سیدھا پولیس کے پاس پہنچ گیا ایف آئی آر لکھوائی پولیس نے سی ڈی آر نکلوایاملزم گرفتار ہوئے تو پتہ چلا کہ اغواءکار حاضر سروس پولیس اہلکار ہیں‘ پنجاب کے تاجر نے تو حیران ہونا ہی تھا عوام بھی ہکا بکا رہ گئے‘ آپ پولیس کا نظام لے لیں کانسٹیبل کا گریڈ 7 ہے اور تنخواہ کوئی پچیس تیس ہزار ہے‘ ایس پی او بیچارے تو 15 ہزارمیں مرکھپ رہے ہیں ‘حوالدار 9 سکیل میں ہوتا ہے تنخواہ کوئی 30 یا 32 ہزار ہے‘ اے ایس آئی گیارہ گریڈ میں ہوتا ہے تنخواہ 40 ہزار تک ہے سب انسپکٹر کا سکیل 14 ہے اور وہ پورا مہینہ 50 ہزار کےلئے ہلکان ہوا جاتا ہے اور انسپکٹر 16 گریڈ میں 65 ہزار لے رہا ہوتا ہے‘ ان جملہ اہلکاروں کےلئے کوئی میڈیکل الاﺅنس نہیں‘ ان کے بچوں کےلئے کوئی سکول نہیں‘ کوئی سکالر شپ نہیں‘ وردی وہ ملتی ہے جو پہننے کے قابل نہیں ہوتی‘ سرکاری جوتے قابل استعمال نہیں ہوتے‘ دھوبی‘ استری‘ رہائش‘ نائی‘ پالش کے کوئی پیسے نہیں ملتے‘ آپ حیران ہوجائیں گے کانسٹیبل کو بیٹی کی شادی کےلئے دس ہزار قرضہ‘ حوالدار کو 14 ہزار‘ اے ایس آئی کو 16 ہزار اور سب انسپکٹر کو 18 ہزار قرضہ ملتا ہے‘ 10 برس کی نوکری سے قبل شہادت کی صورت میں کانسٹیبل کی بیوہ کو 900 روپے ماہوار پنشن‘ حوالدار کی بیوہ کو ایک ہزار‘ اے ایس آئی کی بیوہ کو 11 سو اور سب انسپکٹر کی بیوہ کو 1600 ماہوار روپے پنشن ملتی ہے‘ اور حیران کن امر یہ ہے کہ 24 گھنٹے ڈیوٹی تو لی جاتی ہے لیکن کھانے کےلئے 24 روپے نہیں دئیے جاتے ‘شہید ہونے پر 30 لاکھ تو کسی نہ کسی طرح مل ہی جاتے ہیں لیکن زندہ رہنے کےلئے صرف 700 روپے ماہوار دئیے جاتے ہیں آپ اے ایس آئی کو لے لیں یہ عموماً چوکی انچارج یا بیٹ افسر ہوتا ہے یہ پولیس کی موبائل وین میں فرنٹ سیٹ پر براجمان آپ کو ملتا ہے، اس موبائل وین کی بیٹری خراب ہوتی ہے ‘ٹائر پھٹے پرانے ہوتے ہیں‘ انجن کمزور ہوا ہوتا ہے۔
چھت میں بڑے بڑے سوراخ ہوتے ہیں اور ڈیزل عموماً نہیں ہوتا ‘ گاڑی دھکے لگا لگا کر سٹارٹ ہو بھی جائے تو ڈیزل کا انتظام اے ایس آئی نے کرنا ہوتا ہے‘ ٹائر ٹیوب بھی اس نے ڈلوانا ہوتا ہے ڈرائیور اوردو سپاہوں کے کھانے کا بندوبست بھی اسی نے کرنا ہوتا ہے‘ یہ انتظام کہاں سے ہوتا ہے یہ آخر میں بتاﺅںگا آپ ایس ایچ او کو لے لیں سب انسپکٹر کے گلے میںعموماً پورا تھانہ ڈال دیا جاتا ہے ایس ایچ او کو کوئی فنڈ نہیں ملتا موبائل گاڑی ایک ہی ہوتی ہے بیٹ کئی ہوتے ہیں ایس ایچ او کی اولین ڈیوٹی اپنے لئے گاڑی اور پھر اس کےلئے پٹرول کا انتظام ہے ‘مہمان بھی آتے جاتے ہیں افسران بھی دورے کرتے ہیں کھلی کچہری بھی منعقد کرنا پڑتی ہے ناظمین کا اجلاس بھی بلانا پڑتا ہے ملزمان کی گرفتاری کےلئے دوسرے علاقوںمےں بھی جانا پڑتا ہے اور ڈرائیور اور 2 گن مینوں کے کھانے پینے کا انتظام بھی ایس ایچ کے ذمے ہوتا ہے‘ کاغذ اور قلم بھی لاناپڑتا ہے عدالتوں کے چکر بھی لگانے ہوتے ہیں ‘آپ پولیس ناکے بھی دیکھ لیں پولیس افسران 2سپاہوں کو پچاس روپے کی ٹارچ پکڑا کر غیر معیاری بلٹ پروف جیکٹ پہنا کر اور نہ چلنے والی بندوق پکڑا کرناکے پرکھڑا کر دیتے ہیںان کی حفاظت کا کوئی بندوبست ہوتا ہے نہ کسی بھاگنے والی گاڑی کا پیچھا کرنے کےلئے کوئی پٹرولنگ کار ہوتی ہے اور آپ اب سمگلروں اور جرائم پیشہ افراد کا حال جان لیں انکے پاس عموماًبیس پچیس لاکھ کی گاڑی ہوتی ہے ‘2 لاکھ کی کلاشنکوف اور دو لاکھ کا9 ایم ایم پستول ہوتا ہے ٹینک پٹرول سے بھری ہوتی ہے اور جیب نوٹوں کے بوجھ سے دہری ہوئی جاتی ہے گولیاں بے حساب ہوتی ہےں۔
جتنا دل چاہتا ہے گولیاں چلا دیتے ہیں ‘فرض کریں یہ کسی پولیس والے کو مار دیں تو ٹارگٹ کلنگ کا پرچہ کرکے واردات دہشت گردوں کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے اور اگر کوئی پولیس اہلکار گولی چلا دے تو عموماً لائن حاضر یا معطل ہو جاتا ہے اور گولیوں کا حساب الگ سے محرر کو دینا پڑتا ہے آپ یہ بھی جان لیں کہ ہمارے 90 فیصد تھانوں میں رہائش کا کوئی بندوبست نہیں کسی تھانے میں کوئی میس نہیں کوئی ڈاکٹر دستیاب نہیںآپ یہ بھی جان کر حیران رہ جائینگے کہ رسک الاﺅنس صرف افسران کو ملتا ہے‘ اب پولیس والے یہ جملہ اخراجات کہاں سے پورا کرتے ہیں یہ ٹاﺅٹوں کے محتاج ہوتے ہیں یہ مقامی مشران کی راہ دیکھتے ہیں یہ جرائم پیشہ افراد سے خرچ پورا کرتے ہیں‘ جناب عالیٰ !آپ نظام بدلنے کی بات کرتے ہیں ‘آپ مثالی پولیس کی بات کرتے ہیں آپ دعوے کرتے ہیں آپ وعدے کرتے ہیں لیکن آپ پولیس کو کچھ دیتے نہیں، آپ انہیں اخراجات کی قید سے آزاد کریں‘ ڈاکٹر اور دوائی دیں‘ آپ تنخواہ میں اضافہ کریں تب ہی آپ کو پھل ملے گا ورنہ اغواءکی وارداتیں کر کر کے اور منشیات بیچ بیچ کے کچھ پولیس والے آپ کے منہ پر سیاہی ملتے رہیں گے۔
منہ کی سیاہی