تسبیح فیشن بن چکا 436

تسبیح فیشن بن چکا

زکر ازکار مسلمان ضرور کرتے ہیں۔زکر کرنے سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔زکر ازکار کیلئے کوئی وقت متعین نہیں ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت آپ زکر و ازکار کے زریعے ہر وقت کرسکتے ہیں۔زکر ہماری زندگی کی ضرورت ہے۔اپ دیکھے گے مختلف افراد کے ہاتھوں میں تسبیح ہونگے۔جس سے وہ زکر ازکار کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ زکر کرنے والے کا مثال ایک زندہ انسان کی ہے اور نہ زکر کرنے والے کا مثال ایک مردہ انسان کا ہے۔یعنی جو زکر کرتے ہیں وہ کامیاب لوگ ہیں۔اللہ تعالیٰ کی کسی بھی وقت ضروری ہے۔اج کل میں دیکھ رہا ہو کہ تقریباً ہر دوسرے شخص کے پاس کم دانے والی،اور بڑی دانوں والی تسبیح ہرجگہ نظر آتی ہے۔زکر کرنا اچھی بات ہے اس سے بہت فائدے ملتے ہیں۔لیکن آج کل چھوٹے تسبیح ہاتھوں میں رکھنے کا ایک فیشن بن چکا ہے۔میں نے خود بہت سے لوگ دیکھے کہ وہ فیشن کے طور پر تسبیح ہاتھوں میں رکھتے ہیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ تو ایک یہ ہوسکتی ہے کہ تسبیح ہمارے سابق وزیراعظم عمران خان کے ہاتھوں میں نظر آتے تھے۔عمران خان جہاں بھی نظر ائے ہیں تسبیح کے ساتھ نظر آئے ہیں۔اب چونکہ ہمارے عوام نقل کرنے کے بہت عادی ہوتے ہیں،تو اب عوام کی یہ ایک عادت بن چکی ہے۔کہ ہر دوسرے شخص کے پاس عمران خان جیسے تسبیح نظر آتے ہیں۔زکر کرنا انتہائی اچھی بات ہے،کہ کوئی اللہ تعالیٰ کا زکر ہر وقت کرتا ہے۔لیکن اس میں تقریباً پچاس فیصد لوگ فیشن کے طور پر استعمال کرتےہیں۔اورکچھ لوگ تو کھلے عام کہتے ہیں کہ عمران خان کے پاس بھی یہی تسبیح ہوتے ہیں۔تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ تسبیح ایک فیشن کے طور پر زیادہ تر لوگوں کے ہاتھوں میں نظر آتے ہیں۔دیکھے اللہ تعالیٰ کی زکر کرنا یہ ایک بہت بڑی بات ہے لیکن فیشن کے طور پر نہیں فیشن کی نیت سے نہیں ثواب کی نیت سے کرنی چاہیئے۔خواہ کوئی بھی ثواب کا کام ہوں ثواب کی نیت سے کرنی چاہیئے ناکہ فیشن کے نیت سے،ہر کام میں اللہ کی رضا کا نیت رکھنی چاہیئے۔خواہ آپ زکر کر رہے ہو ،نماز پڑھ رہے ہوں،قران کی تلاوت کر رہے ہو ،تبلیغ کا کام کر رہے ہو آپ کے دل میں صرف ایک بات ہونی چاہیئے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے کر رہا ہو تب آپ کو ثواب ملے گا،ورنہ آپ گناہگار تصورکئے جائے گے۔ایک نیکی کا کام جب آپ دکھاوے کیلئے کروں گے تو آپ گناہگار ہونگے۔کام نیکی کا ہوگا لیکن آپ کی نیت ایک دکھاوا ہے تو آپ الٹا گناہگار تصور ہونگے۔تو ہم کیوں اپنے عبادات کو دکھاوے کے نظر کرے،کیوں ایک ثواب کی کام کو اپنے لئے عذاب بنائے،کیوں اپنے گناہوں کا بوجھ زیادہ کرے۔جیسا کہ میں نے پہلے ہی زکر کیا کہ آج کل کے تسبیح فیشن کے طور پر ہاتھوں میں نظر اتے ہیں ایسا ہمیں ہرگز نہیں کرنا چاہیئے۔ہاں البتہ جو کوئی وہی تسبیح زکر کی نیت سے ثواب کی نیت سے استعمال کرتے ہیں تو یہ بہت اچھی بات ہے۔ہم سب کو چاہئیےکہ جو بھی کام ہوں ثواب کا جو بھی کام ہو ہمیں اس میں صرف یہ سوچنا چاہیئے کہ میں یہ کام کر رہا ہو صرف ثواب کی نیت سے اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہو۔کتنی اچھی بات ہے کہ ہم سب کے ہاتھوں میں تسبیح ہے۔بس اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ سب کی تسبیح اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے ہو آمین۔

بشکریہ اردو کالمز