ائی بھائی ہیں (اسی لیے اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو یہ گمان بھی نہ تھا کہ ایک اسرائیلی یہودی، اسرائیلی وزیراعظم اسحاق روبین پر قاتلانہ حملہ بھی کر سکتا ہے) اور انہیں ایک دوسرے کی ہر حال میں مدد کرنی چاہیے اور یہ کہ غیر یہودیوں کے مقابلے میں متحد رہنا چاہیے کہ وہ کتوں سے بھی بد تر ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ اسرائیلی حکومت نے معرض وجود میں آتے ہی عربوں اور فلسطینیوں کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کا آغاز کر دیا تھا۔ اقوام متحدہ ہی کی رپورٹوں کے مطابق دیکھا جائے تو آج تک اسرائیلی حکومت ہزاروں عربوں اور لاکھوں فلسطینیوں کو قتل اور تباہ و برباد کر چکی ہے۔ پچھلے دنوں ہالینڈ کے ایک بین الاقوامی قانون کے ماہر پی ون ڈیک نے عربوں کی بے دخلی پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حقیقتاً ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہودی اسرائیلی ریاست کو صرف یہودیوں کیلئے ہی مخصوص کرنا چاہتے ہیں بالکل اس طرح جیسے کہ جرمن نازی یہودیوں کو بےدخل کر کے جرمنی کو صرف نازیوں کی ریاست بنانا چاہتے تھے وہ عرب یا فلسطینی جو اب بھی اسرائیل میں موجود ہیں انکی حیثیت دوسرے درجے کے شہری کی سی ہے کہ ان سے تمام شہری حقوق چھین لیے گئے ہیں تاہم کبھی کبھار اسرائیل کے اندر سے بھی ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند ہوتی رہتی ہے۔ حال ہی میں اسرائیل کی انسانی اور سول حقوق کی لیگ کے چیئرمین نے مشرق سے متعلق اقوام متحدہ کے ایک خصوصی کمیشن کے نام اپنی ایک یادداشت میں لکھا ہے کہ فلسطین کے مزدوروں اور دیہاڑی داروں کو یہودی مزدوروں کے مقابلے میں بہت کم تنخواہ ملتی ہے کہ انکی تنخواہ پہلے تو حکومت کے پاس جاتی ہے اور پھر ان کا 20 فیصد کاٹ کر بقیہ ان کو دے دیتے ہیں۔ (یاد رہے کہ یہ حالات غزہ کی پٹی کو تہس نہس کرنے سے پہلے کے ہیں)اسرائیل کے سماجی اور سیاسی نظام کے امریکی محقق ولیم ڈان نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ دستوری طور پر اسرائیل چونکہ یہودی ریاست ہے اس لیے وہاں یہودیوں اور غیر یہودیوں میں فرق جائز ہے۔ صہیونیت اس بات کا دعویٰ کرتی ہے کہ دنیا بھر کے یہودی اسرائیل کے قدیم باشندے ہیں اور یہودی قوم ایک مشترکہ جذبہ، مسلسل جدو جہد ،واحد مذہب ہے اور ایک مخصوص تاریخ کی مالک ہے۔ صہیونی مفکر یہودیت کے اس عقیدے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں کہ یہودی خدا کی پسندیدہ نسل ہے اور اس طرح نسل پرستی کے جذبے کو مزید تقویت پہنچاتے ہیں (نازیوں کی بھی جرمن آرین کے بارے میں یہی سوچ و فکر تھی) اسرائیل میں نسل پرستی کا یہ رویہ عربوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ حکمران طبقہ یورپی یہودیوں اور افریقی و ایشیائی یہودیوں میں بھی نمایاں طور پر تفریق کرتا ہے اسی لیے افریقی ایشیائی اور عر ب یہودیوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ یورپی یہودی اعلیٰ عہدوں پر فائز نظر آتے ہیں اور ملک کے اہم فیصلوں کو اپنے ذہن کی کسوٹی پر جانچتے ہیں اور ریاستوں کے اہم فیصلوں میں صرف انہی کا عمل دخل ہے جبکہ دیگر یہودی معاشرے کی نچلی سیڑھی پر کھڑے ہیں۔ اسرائیل فسطائیت کی بدترین مثال ہے اس کی تمام پالیسیاں عرب دشمنی اور نسل پرستی پر مبنی ہیں مگر اسرائیلی لیڈروں کو یہ بات واضح طور پر سمجھ لینی چاہیے کہ یورپ کی فسطائی طاقتوں کی طرح ایک دن اس کو بھی شکست کا منہ دیکھنا پڑے گا اور عظیم اسرائیل کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔
تم کو خلوت کی ضرورت ہے نصیحت کی نہیں
اپنی صحبت میں رہو گے تو سدھر جاؤ گے