شہباز گردیزی بحیثیت نثر نگار : تعارفی جائزہ 610

شہباز گردیزی بحیثیت نثر نگار : تعارفی جائزہ

    خطہ کشمیر پوری دنیا میں اپنی بے مثال خوبصورتی کی وجہ سے جنت نظیر کے نام سےموسوم ہے ۔ اس خطے نے ممتاز شاعر اور نثرنگار بھی پیدا کیے ۔  آزاد کشمیر کے اردو ادب میں ایک تابندہ نام سید شہباز گردیزی کا بھی ہے ۔ انتہائی ذہین و باکمال شخصیت ، معتمد اعلی جموں کشمیر طلوع ادب ، چھ کتب کے مصنف ، صدر کشمیر ادیب فاؤنڈیشن (کاف) ،  با اخلاق و اعلی ظرف شخصیت ، معلم ، نامور شاعر و نثر نگار سید شہباز گردیزی 23 نومبر 1976ء کو ٹنڈو میر آدم حیدرآباد (سندھ) میں پیدا ہوئے ۔  آپ کا اصل نام سید شہباز علی شاہ گردیزی اور قلمی نام شہباز گردیزی ہے ۔ آپ کے والد مرحوم سید ضمیر گردیزی سیاسی و سماجی شخصیت تھے جن کی خدمات لائق صد تحسین ہیں ۔ سید شہباز گردیزی باکمال شاعر ہونے کے ساتھ منفرد اسلوب کے حامل نثر نگار بھی ہیں ۔ شاعری ہو یا نثر سید شہباز گردیزی کو دونوں اصناف میں ممتاز پایا ۔ آپ کی صحبت میں بہت سے نوجوان پروان چڑھے جو ادب کی صحیح معنوں میں خدمت کر رہے ہیں ۔ سید شہباز گردیزی کی ادبی خدمات کے موضوع پر وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام اباد کے زیر اہتمام سلمیٰ شریف  نے ڈاکٹرسید عون ساجد نقوی کی زیر نگرانی ایم فل اردو کا تحقیقی و تنقیدی مقالہ بھی تحریر کیا ہے ۔  شہباز گردیزی کی مطبوعہ کتب میں ” حقیقتوں کے عذاب (شعری مجموعہ ،2001 ) ،  خواب کون دیکھے گا (شعری مجموعہ ، 2009 )، اجلی مٹی (منتخب شعرا کا تذکرہ)، متاع حسن (شخصی سوانح)، جمہوریت کی دیوی (کالموں کا مجموعہ)، ضمیر با ضمیر (شخصی سوانح) شامل ہیں ۔
        سید شہباز گردیزی بحیثیت نثر نگار خدمات کو ایک مضمون میں سمونا ناممکن ہے۔ آپ کے تعزیتی کالم ، یاد نگاری ، تحسینی مضامین ، شخصی خاکے کا ایک اہم باب ہے ۔ اس سلسلے میں آپ کی تحاریر  ” پہاڑوں کا چراغ بجھ گیا ( پیر سید خلیل احمد شاہ چشتی )،  سید شجاعت حسین گردیزی ،  (راجہ محمد صدیق ) طلوع ادب کا ایک چراغ بجھ گیا، مر کر بھی زندگی کی خبر چھوڑ جاؤں گا (راشد قمر)،  حرمت حرف و بیان کا منفرد  محافظ (معروف اختر عباسی)، حرف سپاس(سردار محمد صدیق خان ایڈووکیٹ )،  اس روح تمنا کی مہک تک ہوئی رخصت (علی یاسر) ، سید نذیر حسین شاہ کے ابھرتے نقوش ، مرنے والے کو اس سے کیا شہباز ( برادر یونس ) ، ہارٹ اٹیک (سرفراز احمد کی اچانک موت پر)، آیا ہمارے دیش میں اک خوش نوا فقیر (راجہ محمد رفیق خان) ، آہ سردار صیاد الزمان،سردار ریاض ایڈووکیٹ ، لوح دل پر نقش یادیں ( ڈی۔ایف۔او سید ممتاز شاہ )، سرخ بالوں والا سرخا ( سید امجد گردیزی کا تعارف) ، جمشید خان دکھی کی موت کا دکھ ( گلگت کے شاعر کی موت پر) ، (ڈاکٹر عبدالحسن عاصم )ایک عہد تمام ہوا ،  لیلائے آزادی کا دیوانہ ، سید خادم حسین شہید ،   بارادری کی نئی قندیل (سمعیہ محمود کے آزاد کشمیر یونیورسٹی  ٹاپ کرنے پر) ،  سید ممتاز کاظمی ایک ادیب ایک دانش ور ، سید دلدار ایاز گردیزی کا عشق ،  سخن سرائے کا باسی ( عمران جاوید)“ وغیرہ شامل ہیں ۔ ان عنوانات کی طرح ان میں شامل شہباز گردیزی کی تحریریں  بھی فکر و فن کا ایک شاہکار ہیں۔ آپ کے خاکوں کے عنوان سے ہی یہ خیال ذہن میں آتا ہے کہ آپ کسی اہم شخصیت کی تصویر کو تشکیل دے رہے ہیں ۔ آپ نے خاکوں میں شخصیت کے انتخاب میں ان شخصیت کو شامل رکھا ہے جن کی شخصیت سے آپ بخوبی واقف ہیں ۔ آپ کے خاکوں کی ایک صفت یہ ہے کہ ان میں زیادہ طوالت نہیں ہے ۔  شخصیت کا سراپہ ، چہرہ ، ظاہری و باطنی خوبیوں کا احاطہ کر کے قارٸین کے سامنے اس شخصیت کی تصویر کو اس انداز سے پیش کیا ہے  کہ قاری اس کو محسوس کر سکتا ہے ۔ آپ نے خاکوں میں واقعات کا انتخاب اور ترتیب بھی ایک خاص طرز سے کیا ہے جس سے خاکہ  کا حسن مانند نہیں پڑتا ۔  تحریر کو طوالت کی بجائے جامعیت پر زور دیا ہے ۔ خاکے کے لوازمات میں اسلوب کا عمدہ ہونا ضروری خیال کیا جاتا ہے ، سید شہباز گردیزی کے خاکوں مں بیان سادہ ،  جملے مختصر اور شگفتہ ہیں اور شخصیت کی خوبیوں کو خراج کے ساتھ پیش کرتے ہیں ۔ خاکہ نگاری میں کرداروں کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ پیش کیا ہے ، تکنیک کا خاص خیال رکھا ہے ، جس شخصیت کا خاکہ پیش کرتے ہیں اس کی شخصیت سے جڑی ہر چیز کو بیان کرتے ہیں ۔ آپ کا اسلوب قاری کو تحریر مکمل پڑھنے پر آمادہ کرتا ہے ۔ آپ کا اسلوب  کس قدر سادہ اور شگفتہ ہے خاکہ ” پہاڑوں کا چراغ بجھ گیا“ کے ایک اقتباس سے ملاحظہ کریں:
 " آپ بےشمار خوبیوں کے مرقع تھے ، سادگی شرافت ، بردباری ، اخلاص ، پرہیزگاری ، صلہ رحمی ،  کامل راہنمائی ، مہمان نوازی کس کس خوبی کا تذکرہ کیا جائے ، آپ حقیقی معنوں میں مرد قلندر اور مرد درویش تھے ، پیر صاحب بڑے منکسر المزاج اور خلیق انسان تھے  ایک ایسا انسان جو دنیاوی جاہ و جلال سے بےنیاز ، درویشانہ استغناء ، سادگی اور اخلاص کے پیکر، بلاشبہ پیر سید خلیل احمد شاہ چشتی کے اخلاق و کردار سے اللہ اور اس کے رسولﷺ  سے محبت کی خوشبو محسوس ہوتی تھی ۔“
 شہباز گردیزی کے خاکے معیاری اور بہترین ہیں ۔ آپ کا انداز بے تکلف خاکوں میں حسن کو بڑھاتا ہے۔ شہباز گردیزی کو حلیہ نگاری میں خاص مہارت حاصل ہے جو ان کے خاکوں میں بھی نظر آتا ہے ۔ چہرہ نویسی کے فن سے خوب واقف ہیں ، تمام خاکوں میں ایک مشترکہ خوبی تسلسل کی ہے ، کہیں بھی تسلسل جھول کھاتے نظر نہیں آتا ۔ 
    شہباز گردیزی کے تنقیدی مضامین ومقالات کی فہرست بھی طویل ہے ۔ آپ کی تنقیدی مضامین ومقالات میں ” محمد صدیق شاہ گردیزی کی خودنوش تحریروں کا تنقیدی جائزہ ، شعور زندگی اور افتخار مغل کی شاعری، ڈاکٹر محمد صغیر  کی شعری زندگی کی حقیقی تصویر ، دھند میں لپٹا سفر کا تجزیاتی مطالعہ ، فرہاد احمد فگار کا تیشۂ فن ، منفرد لہجے کا شاعر احمد عطااللہ، آواگون کے گرداب میں آیا شاعر واحد اعجاز میر ، فیض کی فنی اور شخصی زندگی اور اس کا امتزاجی اسلوب ، ثریاخورشید کی آپ بتیوں کا خصوصی مطالعہ، مرثیہ کا اردو زبان کو خوبصورت بنانے میں اہم کردار ، میر حسن کا فکری مطالعہ ،  عشق دم جبریل کا تحقیقی جائزہ ، مظہر الحق کی غزل کا خصوصی مطالعہ ، ضلع باغ کے پہلے صاحب کتاب شاعر اسلم راجہ ،  میرا خواب عاصم بٹ ، شعری روایت کا امین شوزیب کاشر ،آزادکشمیر میں اردو غزل کا اگلا پڑاؤ ، رانا سعید دوشی کے شعری ذائقے وغیرہ شامل ہیں ۔ 
 شہباز گردیزی کے تنقیدی مضامین و مقالات کا پرائے بیان سادہ ہے ۔ شہباز گردیزی نے کتاب کا تنقیدی جائزہ لیتے وقت اس کتاب کا بغور مطالعہ کیا ہے ، اس کا تعارفی جائزہ اور پھر اس کتاب کا فکری و فنی مطالعہ پیش کیا ہے ۔ کسی کتاب پر تنقیدی رائے دینے سے قابل مصنف کے تخیل کو بھی سمجھنا ضروری ہوتا ہے ، شہباز گردیزی نے کتاب کے ساتھ مصنف کی تخیل اور شعور کا احساس بھی دلایا ہے ۔ ” آواگون کے گرداب میں آیا شاعر  واحد اعجاز میر “ کے اقتباس سے ملاحظہ کریں :
" واحد کا تخیل بہت بلند اور شعور کمال پختہ ہے۔ اس بات کا احساس مجھے آواگون کے مطالعے کے بعد ہوا، بلکہ صرف مطالعے سے آواگون کو سمجھنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے ، اسے سمجھنے کے لیے پہلے خود کو واحد بنانا پڑتا ہے پھر اس کا کلام آپ پر ایک نئے رنگ ڈھنگ کے ساتھ کھلتا چلا جاتا ہے ۔ اس نے اپنے شعوری اور غیر شعوری زندگی کے لا تعداد مسائل ، الجھنوں، واقعات اور انسانی کہانیوں سے متاثر ہو کر مختلف النوع طبیعاتی، سماجی ، اخلاقی ، نفسیاتی اور فکری امور کی نہ شناسی کا فریضہ انجام دیا ہے ۔ “
  شہباز گردیزی کے تنقیدی مضامین ومقالات سے تخلیق کار  کا تعارف بھی ہو جاتا ہے ، یہ ان کی ایک خوبی ہے کہ وہ تحریر کے ساتھ ساتھ تحریر نویسی کو بھی شامل رکھتے ہیں ۔ علمی ،ادبی ، فلسفیانہ اور دیگر موضوعات پر مکمل دسترس رکھتے ہیں ، اس لیے کسی ادب پارے کا جائزہ لیتے ہوئے ان باتوں کو ملحوظ خاطر رکھتے دکھائی دیتے ہیں ۔ 
شہباز گردیزی نے سفر نامے بھی لکھے ان کے لکھے گے سفرناموں میں ” ملنگ جان اور یوریس کے دیس میں (گلگت بلتستان) ،  منشی اور حلیمہ کے دیس میں (نیلم کی روداد) ، جرا اور جری کے دیس میں (حویلی کہوٹہ ) ،  جھیل پر رات گئے تم یہ کیسے ڈھونڈتے ہو (بنجوسہ جھیل) ،  رومی کشمیر کی دہلیز پر (کھڑی شریف میرپور) چیڑوں والی سرزمین (چڑالہ اور اور نیلا بٹ ) ، مانجھی پیر یاترا ، پیر چناسی کی درگاہ پر ، گنگا پہاڑی تیری بلندی کی خیر ہو “  وغیرہ شامل ہیں ۔
   انسانی زندگی میں سفر کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ، اردو ادب میں بہت سے سفر نامے لکھے گئے مگر چند ایک کو شہرت نصیب ہوئی ۔ آزاد کشمیر میں شہباز گردیزی کے سفر نامے بھی خاص مقبولیت کے حامل ہیں، ایک بامعنی ، معلوماتی ، پر لطف سفرنامہ تحریر کرنے پر آپ کو خاص ملکہ حاصل ہے ۔ آپ کے سفرنامے قارٸین کو بھی اس جگہ کی سیر کروا دیتے ہیں ،  آپ کے سفرناموں میں تاریخی شعور اور ثقافتی طرز بھی ملتا ہے ، آپ کے سفرنامے کے مطالعے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ گویا آپ ادیب و فنکار کے ساتھ مصور بھی ہیں ۔ آپ کے سفرنامے  پھولوں ، پھلوں ، پتوں کا پارکھ ، امڈتی نہروں کا نباض معلوم ہوتی ہیں ۔ جس خطے سے آپ کا گزر ہوتا ہے اس خطے کی ہر شے کی تصویریں قارٸین کے سامنے آ جاتی ہیں ، اس خطے کے موحولیاتی  عناصر ، تہذیبی و تمدنی آثار ،  آداب و اطوار ،  رنگ و نسل ، لباس و خوراک ، رسوم ، توہمات و اساطیر وغیرہ کی تاریخ بھی مرتب کرتے جاتے ہیں ۔ آپ کے سفرنامے علمی و معلوماتی صحیفہ ہیں ، فنی اعتبار سے آپ کے سفرنامے آپ کو کامیاب اور بہترین سفرنامہ نگار بناتے ہیں جو سفر نامے کے تمام لوازمات کا خیال رکھتے ہیں ۔” منشی اور حلیمہ کے دیس میں “  سے ایک اقتباس ملاحظہ کریں :
    ” پارک میں مختلف نسل کے جانور ، پرندے، نایاب جڑی بوٹیاں ، پودے اور درخت سیاحوں کی دلچسپی کے لیے موجود ہیں ۔ اس پارک کی طرح آزاد کشمیر کے دوسرے علاقوں میں بھی جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے پارک بنائے جا سکتے ہیں۔۔۔۔۔ نیلم کی یاترا کے دوران ہم نے جانا کہ ضلع نیلم کا کل رقبہ 3737 مربع کلومیٹر ہے جو کہ آزاد کشمیر کا 2.8 فیصد رقبہ بنتا ہے ۔ یہاں اوسط سالانہ 130 ملی میٹر بارش ہوتی ہے ۔ اس وادی کی اوسط بلندی 2500 فٹ سے لے کر 20758 فٹ جو اس علاقے کی سب سے بلند چوٹی بلکہ پورے آزادکشمیر کی سب سے بلند چوٹی شونٹر ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق آج سے لاکھوں سال پہلے یہ تہہ دار پہاڑ معرض وجود میں آٸے ۔۔۔۔۔۔“
 شہباز گردیزی طلوع ادب کے معتمد اعلی  ہیں، نشستوں کی تفصیل ، ادبی تقاریب کا جائزہ ، مختلف تقاریب کی رپورٹنگ  ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں ۔  رپورٹنگ روداد، تحسین میں ”  ایک امید ایک  درس گاہ شفیلڈ کالج باغ ، گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن ایک مثالی ادارہ ،  ماڈل سائنس کالج باغ کا باغبان ، نوائے ادب ، ادب کے فروغ میں ادبی تقاریب  کا جائزہ ، اور طلوع ہوتا ہے ، شعر و ادب کی قندیلیں وغیرہ شامل ہیں ۔ رپورٹنگ و روداد میں آپ مختصرا اور جامع انداز میں ادبی تقاریب اور شعری  نشستوں کا احوال بیان کرتے ہیں ۔
 شہباز گردیزی معاشرے میں موجود مسائل اور ان کے حل کے لیے بھی فکر مند رہتے ہیں ۔ ادیب ہونے کی حیثیت سے معاشرے کو باریک بینی سے دیکھتے ہیں ۔ سماجی موضوعات  کثرت سے لکھے ہیں جن میں ”  کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی ، خواتین کی بقا معاشی استحکام میں مضمر ہے ،  لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے ، صدیوں کی بھوک اور موجودہ بجٹ ، آٸیے سوچتے ہیں، مجھے بھیک میں تھوڑا سا خون دے دو ، آخر ہمارا مسئلہ کیا ہے ، ہمارے کھیلتے بچے ادھر گئے تو گئے ، ایک سچ تھا جو زبان پر لانا پڑا مجھے ، راجہ فاروق حیدر کی وطنیت ، غیر مستقل مزاج کی مستقل مزاجی “وغیرہ شامل ہیں ۔  
سید شہباز گردیزی  اپنے مضمون میں سماجی موضوعات کو اس طریقے سے پیش کیا کہ سارا منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے ۔  شہباز گردیزی نے مشترکہ مساٸل  کا انتخاب کیا اور اس کے لیے مختلف نظریات اور تصورات پیش کیے ہیں ۔ سماجی مسائل اور موضوعات معاشرے کے تمام افراد یا کثیر تعداد کو متاثر کرتے ہیں ، سماجی مسائل اور سماج  سے جڑے موضوعات کو اس کے مختلف پہلو کو اپنے مضمون نے بیان کرتے ہیں ۔ سید شہباز گردیزی نے بہت سی نثری و شعری کتب کے فلیب بھی لکھے ہیں اور اور کتاب کے آغاز میں تحقیقی مضامین بھی، جو مقدمے کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ دیباچہ نویسی میں آپ کو خاص ملکہ حاصل ہے ۔  راقم کی کتاب ” طلوع ادب “ میں بھی آپ کا دیباچہ شامل ہے ۔ شہباز گردیزی نے اپنے دیباچوں میں کتاب کے نمایاں خدوخال کے ساتھ کتاب اور مصنف کو بھی متعارف کیا ہے ۔ 
شہباز گردیزی کی سوانحی  تحریروں کی افادیت سے بھی انکار ممکن نہیں ، سوانح پر مشتمل آپ کی تصنیف ” متاع حسن “ اس ضمن میں  ایک شاہکار ہے۔ اس کتاب میں آپ نے  حسن شاہ گردیزی کی خدمات کو سراہا ہے ۔ کتاب کے چار ابواب ہیں ،  پہلے باب میں آپ نے تصاویر کا ذریعے سید حسن شاہ گریزی کا خاندانی پس منظر بیان کیا ہے پھر تحریری شکل میں بیان کرنے کے ساتھ تاریخ پیدائش ، ابتدائی زندگی ، تعلیم و تربیت ، اساتذہ اور شاگردوں کے متعلق بھی مفصل بیان کیا ہے ۔  دوسرے باب میں مصنف نے جموں و کشمیر میں تاریخی واقعات کو باریک بینی سے بیان کیا ہے ،  دوسرا باب تاریخی واقعات سے مزین ہے ۔  تیسرے باب میں سید حسن شاہ گردیزی کا سیاسی منظر نامہ نمایاں کیا گیا ہے ، تیسرا باب سید حسن شاہ گردیزی  کی سیاسی سرگرمیوں کے متعلق ہے ۔ چوتھا باب سید حسن شاہ گردیزی کی ذاتی تحریروں ، مضامین ، خطابات،  خطوط پر مشتمل ہے ، یہ باب سید حسن شاہ گردیزی کی جدوجہد کے حوالے سے ہے ۔  متاع حسن سوانح نگاری کا ایسا شاہکار ہے جس میں جزٸیات نگاری ، زبان و بیاں ، اسلوب ، جامعیت ، تاریخ نویسی ،  بلند پائیگی ،  منظر نگاری  وغیرہ فن کے لحاظ سے ایک کامیاب اور مکمل سوانح ہے ۔ 
” ضمیر با ضمیر “ مصنف کی سوانح نگاری کے حوالے سے دوسری کامیاب کوشش ہے ، یہ کتاب نو  ابواب پر مشتمل ہے ۔  یہ کتاب شہباز گردیزی کے  والد محروم سید ضمیر جعفری کی داستان حیات پر مشتمل ہے ۔ باب اول میں خاندانی پس منظر اور ابتدائی حالات کے ساتھ شجرہ نسب بیان کیا گیا ہے ، باب دوم میں سیاسی ، سماجی زندگی کے نشیب و فراز سے لے کر پیپلزپارٹی آزاد کشمیر میں شمولیت،  پاکستان کی جامع تاریخ ، تاریخی اقدامات اور سانحات پر مشتمل ہے ، باپ سوم میں تاریخی واقعات اور سانحات شامل ہیں ، باپ چہارم آزادکشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے کارنامے سے لے کر زلزلہ 2005 تک کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے ۔  باب پنجم میں  پیپلز پارٹی کے تاریخی اقدام ، سیاسی قائدین کا احوال اور اورضمیر حسین گردیزی کی ذمہ داریوں اور اعزازات کو بیان کیا گیا ہے ۔ باب ششم ” تذکرہ ہم سفروں کا “ کے عنوان سے آزاد کشمیر کے متحرک  اور جیالے اراکین ( 146) شخصیات کی مختصر بائیوگرافی بیان کی گئی ہے اور ضمیر حسین گردیزی کا مختصر سوانح خاکہ بیان کیا گیا ہے ۔ باب ہفتم میں ضمیر حسین گردیزی کی ذاتی تحریروں ، مضامین اور کالموں کا انتخاب کیا گیا ہے جو مختلف اخبارات و رساٸل  کی زینت بنے ہیں ۔ اس کے ساتھ ضمیر حسن گردیزی کے خطوط اور  انٹرویوز کو شامل کیا گیا ہے ۔ باب  ہشتم تعزیتی تاثرات اور سید ضمیر گردیزی پر لکھے جانے والے مضامین پر مشتمل ہے ، باپ نہم  شہباز گردیزی کی شاعری پر مشتمل ہے  ۔
 ” متاع حسن “ کی طرح ” ضمیر با ضمیر “ بھی سوانح  لحاظ سے خاص اہمیت کی حامل ہے ۔ سید ضمیر حسین گردیزی کی خدمات کو عرق ریزی سے، ان کی زندگی کے سارے گوشوں کو جس محنت کے ساتھ مصنف اور مٶلف نے ترتیب دیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ یہ کتاب سیدضمیر گردیزی کی سوانح  کے ساتھ  مختلف تاریخی واقعات اور سانحات سے بھی ہمیں آگاہ کرتی ہے ۔ ایک سیاسی لیڈر کی شخصیت اور قائدانہ اوصاف سے بھی واقفیت دلاتی ہے ۔
 شہباز گردیزی کے حوالے سے بہت سے مقالات اور مضامین لکھے جا چکے ہیں جن کی ایک طویل فہرست ہے ۔ شہباز گردیزی نے جس جذبے کے ساتھ ادب کی خدمت کر رہے ہیں یقیناً ان کی خدمات لاٸق صد تحسين ہیں ۔ شہباز گردیزی  ایک ادبی شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین سماجی شخصیت بھی ہیں ،دوسروں کے کام آنا ، ہر شخص کو عزت دینا ، مہمان نوازی جیسی  خصوصيات جو آپ  میں پاٸی جاتی ہیں وہ بہت کم لوگوں میں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔   جب کبھی  آپ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا  آپ نے مخلص مشوروں سے نوازا اور ان کی لفظوں کی مہک سے  اپناٸیت کا احساس ہوتا ہے ۔ شاٸد ہی کوٸی ایسا شخص  ہو جو آپ سے مل کر متاثر نہ ہوا ہو ۔  اللہ پاک اپ کا سایہ ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھے آمین۔

بشکریہ اردو کالمز