قتل کے پروانے۔ 301

قتل کے پروانے۔

غزہ کی جنگ کے 48دن اہل فلسطین پر اتنے بھاری گذرے کہ جس کا تصور بھی محال ہے، غلامی کے ایام بسر کرتے والدین نے یہ سوچا بھی نہ ہوگا، کہ ان پر قیامت ڈھائی جائے گی، ان کے ہاتھوں میں اور آنکھوں کے سامنے تڑپتے لخت جگر ابدی نیند سوجائیں گے، زخمیوں کو شفاخانوں میں بھی پناہ نہ ملے گی،انکے جسد خاکی پہنچانے جانے کے قابل بھی نہ رہیں گے،معصوم سے بچے کس اذیت سے گزریں گے ،انکی اندوہناک حالت دیکھ کر کلیجہ منہ کو آجائے گا، اس کا خیال کرکے ہی دل بیٹھ جاتا تھا، مگر یہ سب ان بیچاروں کی نظروں کے سامنے ہوا۔ نجانے کتنی بہنوں کے بھائی، کتنی مائوں کے بیٹے اس ظالمانہ جنگ کا ایندھن بنے ہیں، وہ لڑکیاں جن کا سہاگ اجڑا ہے ان کا بھی شمار نہیں، بین کرتی مائیں، بے سہارا روتے بچوںکی تصاویر اوروڈیوز دل ہلا دینے والی تھیں، ان کا خون کسی اور رنگ کا ہے، کیا مرنے والے ادنیٰ قسم کے انسان تھے ، مہاجروں کی طرح زندگی بسر کرنے والے اپنی ہی سرزمین پر گذشتہ قریباً ایک صدی سے اجنبی ہیں ، اہل فلسطین پر عرصہ حیات تنگ کرنے والوں کے سینے میں کیادل نہیں ہے؟سوتا عالمی ضمیر ان کی موت اور کرب کی وجہ ہے۔ عالمی ایوانوں میں بیٹھے انکی قسمت کا فیصلہ کرنے والے کیا اس ناگہانی صورت حال سے نابلد ہیں،اہل فلسطین کے گھروں کو جس طرح نشانہ بنایا گیا،تعلیمی اداروں ،شفاخانوں کو جس طرح ملیا میٹ کیا گیا ، یہاں کے مکینوں کے ساتھ عبرت ناک سلوک کا مقصد انھیں ہمسایہ ملک کے صحرا میں ہجرت پر مجبورکرناہے۔ سب کچھ میڈیا کی آنکھ سے دنیا میں دیکھا جاتا رہا،بے بسی کی تصویر بنے ایک بزرگ کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی وہ اپنے بچوں کے لاشے سامنے رکھتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ امت مسلمہ کی بے حسی اور ہمارے اوپر ہونے والے مظالم کی شکایت نبی مہربانۖ سے ضرور کرنا،یہ آہ وزاری ان مسلم ممالک کے ارباب اختیار کے منہ پر طمانچہ ہے، جنہوں نے ان کادرد محسوس کرنے کی بجائے مصلحت سے کام لیا ہے، او آئی سی کے اجلاس میں جس کمزوری کا اظہار کیا گیا وہ شرمناک ہی نہیں قابل مذمت بھی ہے۔ بھاری بھر وسائل، افرادی قوت،منظم افواج رکھنے کے باوجود معذرت خواہانہ رویہ بزدلی کی کھلی علامت ہے،اس کا بھر پور فائدہ صہیونی فوج نے اٹھایا ہے۔ امریکی اخبار نیویاک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہاہے،غزہ جنگ میںشہریوں کا تاریخ میں تیز ترین قتل عام کیا گیا ہے،48ایام میں شہدا فلسطین کی تعداد امریکہ کی افغانستان میں 20 سالہ جنگ سے زیادہ ہے، یہ تعداد عراقی جنگ کے پہلے سال سے دوگنی ہے،فلسطین میں مرنے والوں کی تعداد یوکرائین کی جنگ میں جان دینے والوں سے بھی زیادہ ہے،اس اخبار نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ زندہ انسانوں پر پھینکے جانے والے نوے فیصد بم ایک ہزار پونڈ سے وزنی تھے، اسکا نتیجہ ہے کہ اب تلک14850ہزا رسے زائدشہید اور36 ہزارمعصوم شہری زخمی ہوئے ہیں،عالمی سطح پر ناجائز ریاست اپنی طاقت کے زعم میں مبتلا تھی مگر اسے حماس کے ہاتھوں خفت اٹھانا پڑی، عارضی جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلہ جات کے باوجود صہیونی فوج نہتے شہریوں پر حملہ کرنے سے تاحال باز نہیں آرہی ہے۔ گلوبل ویلج اور اقوام متحدہ کی موجودگی میں یہ سب کچھ ہوتا رہا ہے، لیگ آف نیشن کی ناکامی کے بعدعالمی سطح پر قیام امن کے لئے جس ادارہ کو قائم کیا گیا ہے، اسکی ناکامی اور بے بسی اب نوشتہ دیوار ہے،جس کی لاٹھی اُسکی بھینس کی ضرب المثل اسکی انتظامی صلاحیت پر صادق آتی ہے۔ سلامتی کونسل کی ناک کے نیچے لاکھوں انسانوں کا خون اسکی منظور کردہ قرار دادوں کی وساطت سے ہوتا رہا ہے،سلامتی کونسل کی یہ قرادادیں انسانیت کے قتل کا لائسنس ثابت ہوئی ہیں، عراق،شام، افغانستان، بوسنیا، ویت نام میں انسانوں کے قتل عام کا ذمہ دار عالمی دارہ اور اسکی کونسل ہے،ان ممالک پر حملوں میں'' جنیوا کنونشن'' کی وہ تمام شقیں پاوں تلے روند دی گئیں جو شہریوں کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ فلسطین میں نسل کشی کے لئے صہیونی فوج آخری حد تک گئی اورسلامتی کونسل کے آرٹیکل چھ کی کھلی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے،اس کے مطابق''کسی مخصوص قومیت،نسل یا مذہبی گروہ سے تعلق رکھنے والوں کو اس ارادہ سے ہلاک کرنا کہ وہ جزوی طور پر یا مکمل تباہ ہو جائیں،نسل کشی کہلاتا ہے''صہیونی فوج کی پوری کاوش ہے کہ وہ اہل فلسطین کو سرے سے مٹا دے ،یا انھیں اپنی سرزمین چھوڑنے پر مجبور کر دے۔ تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ 1947 نے اقوام متحدہ نے عربوں اور یہویوں کے لئے دو الگ الگ ریاستوں کے لئے ووٹنگ کرائی تھی، اس کے باوجود وہاں امن قائم نہیں ہوسکا ہے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جو سلسلہ تاج برطانیہ سے شروع ہوا تھا وہ مسلسل دراز ہوتا جارہا ہے، جسکی شہادت امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ ہے۔ غزہ کی جنگ کے حوالہ سے اقوام متحدہ میں رائے شماری کے نتائج بتاتے ہیں کہ وہ قوتیں جو ''بلفور'' معاہدے کی پاسبان تھیں،جنہوں نے فلسطین کی سرزمین پر یہودیوں کی آبادی کاری میں اہم کردار دا کیا تھا،تاج برطانیہ نے جب فلسطین کا کنٹرول سنبھالا تو نوے فیصد علاقہ پر فلسطین کا قبضہ تھا۔پہلی جنگ عظیم کے بعد تاج برطانیہ نے صہیونی ریاست کی امداد کرنے اور انھیں انتظامی ڈھانچہ فراہم کرنے کا وعدہ وفابھی کیا تھا۔ اِس وقت بھی مکمل جنگ بندی کی راہ میںیہی ممالک رکاوٹ ہیں،تاہم عالمی سطح پر عوامی رائے عامہ انکی پالیسی سے قطعی مختلف ہے، عوامی احتجاجات اس بات کے مظہر ہیں کہ اقوام متحدہ کی انسانیت سوز پالیسیوں پر نظر ثانی کا وقت آن پہنچا ہے۔ اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ،عالمی عدالت انصاف مذکورہ اخبار کی رپورٹ پر اسرائیل کے وزیر اعظم کو جنگی جرائم کے الزامات کی پاداش میں انصاف کے کٹہرے میں لانے کی جسارت کرے گی،ورنہ یہی سمجھا جائے گا کہ سلامتی کونسل کی قرادایں مظلوم اقوام کو قتل کرنے کے پروانے ہیں،امت مسلمہ کے حکمرانوں کو بھی اُس وقت سے ڈرنا چاہیے کہ جب انکی شکایت لے کر کوئی مظلوم نبیۖ مہربان کی خدمت اقدس میں پیش ہو جائے تو پھر انھیں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔

بشکریہ اردو کالمز