یہ سطور 25مارچ کی دوپہر کے اوائل میں لکھ رہا ہوں۔ لاہور میں تحریک انصاف کا جلسہ سپہر میں مینار پاکستان پر منعقد ہونا ہے۔ شہری انتظامیہ نے کنٹینر لگاکر مینار پاکستان پارک کی طرف جانے والے راستے تقریباً سیل کردیئے ہیں۔
پی ٹی آئی دعویٰ کررہی ہے کہ پچھلے دو دن سے صوبہ پنجاب میں اس کے کارکنوں کے خلاف جاری پولیس کریک ڈائون میں اس کے 1000 سے زیادہ افراد کو اٹھالیا گیا ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ لاہور میں پی ٹی آئی کے بقول اس کے 200 سے زائد فعال کارکن اٹھالئے گئے ہیں۔
قتل ہونے سے بچنے کے لئے حفاظتی حکمت عملی کے تحت متعلقہ عدالتوں میں پیش نہ ہونے والے عمران خان کے لئے حفاظتی ضمانتوں کی عدالتی روایات روند کر ضمانتیں عطا کی جارہی ہیں۔ قبل ازیں انہوں نے لاہور میں ہی ایک ریلی کی قیادت کی تھی۔ حالات سازگار رہے تو وہ آج سپہر مینار پاکستان پر اپنے حامیوں سے خطاب کریں گے۔ بنفس نفیس یا ویڈیو لنک کے ذریعے؟ اس بارے پیشگی کچھ کہنا ممکن نہیں۔
تحریک انصاف کا اپنے کارکنوں کے خلاف کریک ڈائون کا دعویٰ درست ہے البتہ گرفتاریوں کے اعدادوشمار متنازعہ ہیں۔ فقیر راحموں کے بقول اعدادوشمار ویسے ہی ہیں جیسے خان کا سازشی بیانیہ اور ’’وہ‘‘ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں کے دعوے۔
پنجاب پولیس کے ذرائع کہہ رہے ہیں کہ کریک ڈائون جلسہ روکنے کے لئے نہیں بلکہ لاہور میں زمان پارک کے باہر برپا ہوئے دو معرکوں میں پیش پیش تحریک انصاف کے ان کارکنوں کی گرفتاریوں کے لئے ہیں جن کے خلاف دہشت گردی کی دفعات سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔
اس کے بقول پٹرول بموں سے حملوں، پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگانے اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کے مرتکب تحریک انصاف کے کارکنوں کی شناخت کرنے کے بعد گرفتاریوں کا عمل شروع کیا گیا ہے ۔ یہ ایک قانونی کارروائی ہے انتقامی ہرگز نہیں۔
مجھ ایسے عامل صحافی (قلم مزدور) کے لئے پنجاب پولیس کا یہ ڈھمکیری نما موقف قابل قبول نہیں اگر گرفتاریاں درج مقدمات کے حوالے سے ہورہی ہیں تو پھر مینار پاکستان جانے والے راستوں کو کنٹینر لگارک بند کیوں کیا گیا؟
پنجاب کے نگران وزیر اطلاعات عامر میر کہتے ہیں کنٹینر سیکورٹی تھریٹس کے باعث لگائے گئے ہم کسی کو جلسے میں جانے سے نہیں روک رہے ۔
اس وقت جب یہ سطور لکھ رہا ہوں لاہور کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے لاہور شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کو مکمل طور پر سیل کرکے ان پر کنٹینر لگادیئے ہیں۔ مثلاً سگیاں پل، شاہدرہ، راوی ٹول پلازہ، دریائے راوی کے پرانے پل کے علاوہ بتی چوک سے مینار پاکستان جانے والے راستے بند کردیئے گئے ہیں۔ دہلی دروازے اور دو موریہ پل کے علاوہ انجینئرنگ یونیورسٹی روڈ کے راستے اور شاہ عالمی میں بھی کنٹینر لگادیئے گئے ہیں۔
اطلاع یہ ہے کہ 4بجے کے قریب موٹروے کے لاہور میں داخلی پوائنٹ بھی سیل کردیئے جائیں گے۔ اسی طرح قصور روڈ (فیروز پور روڈ) اور ملتان روڈ پر کنٹینر لگانے کی تیاریاں ہیں۔
لاہور کی داخلی صورتحال کے اس نقشے کو ذہن میں رکھیں اور باردیگر اس سوال پر غور کیجئے کہ اگر کریک ڈائون ایف آئی آرز میں مطلوب کارکنوں اور ہمدردوں کے خلاف ہے تو پھر جلسہ کے انعقاد میں رکاوٹیں کیوں؟
ایک سوال اور ہے وہ یہ کہ جب انتظامیہ نے قانون کے تحت مینار پاکستان پر جلسہ کے انعقاد کی اجازت دی تھی تو پھر یہ رنگ بازی کس کے کہنے پر کی جارہی ہے۔
یہ بات یقیناً غور طلب ضرور ہے کہ پابندیاں جلسہ کی آڑ میں شرپسندوں کو شہر میں داخلے سے روکنے کے لئے ہیں لیکن وضاحت ازحد ضروری ہے کہ اگر ’’شرپسندوں‘‘ کی شناخت کرلی گئی ہے تو پھر انہیں شہر میں داخلے سے روکنے سے زیادہ اہم بروقت قانون کی گرفت میں لینا ہے۔
جس طرح لاہور کے داخلی و خارجی راستے اور مینار پاکستان کی جانب شہر کے اندر سے جانے والے راستے بند کئے جارہے ہیں اس سے مثبت تاثر اجاگر نہیں ہوگا ۔
یہ بات بھی محض ڈھمکیری ہی ہے کہ چونکہ پی ٹی آئی کے کارکن اور حامی تشدد پسند ہیں اس لئے تشدد اور بدامنی کو روکنے کے لئے پیشگی انتظامات لازم تھے۔
ایک جماعت نے شہری انتظامیہ کو جلسہ کرنے کے لئے درخواست دی۔ شہری انتظامیہ نے اس جماعت کے ذمہ داران سے باقاعدہ میٹنگ کی۔ انتظامیہ اور پی ٹی آئی کے درمیان معاہدہ ہوا اس معاہدہ کی اہم ترین شق یہ ہے کہ
’’شہری امن کو متاثر کرنے والا کوئی کام نہیں کیا جائے گا‘‘۔
اب بتلایئے کہ جلسہ سپہر کو منعقد ہونا ہے داخلی و خارجی راستے اور مینار پاکستان کی طرف جانے والی سڑکیں صبح دس بجے سے بند کرنا شروع کردی ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟
کیا شہری امن متاثر ہونے کے خدشے کے حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت مل گئے تھے یا بس سینہ زوری ہے؟
لاہور کی شہری انتظامیہ اور صوبائی حکومت ہر دو کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ اگر ان کارروائیوں کے لئے پیش کردہ جواز کو پی ٹی آئی کا مجھ ایسا ناقد بچگانہ باتیں اور عمل سمجھ رہا ہے تو پی ٹی آئی کے ہمدرد کیا سوچ اور کہہ رہے ہوں گے۔
کیا لاہور میں اس وقت دفعہ 144 نافذ ہے؟ جی نہیں ایسا کوئی حکم نامہ موجود ہیں۔ جلسہ کی باقاعدہ قانونی اجازت طلب کی گئی اور اجازت دی گئی۔
ہم یہاں مینار پاکستان گرائونڈ کی پرانی تصاویر لگاکر سوشل میڈیا پر منظوم پروپیگنڈہ کرنے اور لوگوں کو اکسانے والے مچونوں ان میں کوئی اوریا مقبول جان نامی بندہ پیش پیش ہے کی بات نہیں کررہے۔ اچھا تو کیا اوریا جیسے بڑبولوں کی سوشل میڈیا پر پوسٹوں سے شہری انتظامیہ گھبراگئی؟
ایسا ہے تو انتظامی افسروں کو ایڈوانس اعتکاف میں بیٹھ جانا چاہیے تھا۔
معاف کیجئے گا اس سارے عمل کا کوئی جواز بھی درست نہیں۔ کم از کم میں ایک عامل صحافی کی حیثیت سے یہ سمجھنے میں مشکل محسوس کررہا ہوں کہ لاہور انتظامیہ یہ سب کیوں کررہی ہے۔
خود سے کررہی ہے تو غلط ہے ’’کسی‘‘ کے کہنے پر کررہی ہے تو ’’شدید غلط‘‘ ہے۔ ملک میں شہری و سیاسی حقوق معطل نہیں۔ لاہور میں دفعہ 144 ابھی نافذ نہیں۔
پولیس لاہور میں بعض واقعات کے بعد درج ہونے والے مقدمات میں شناخت کرلئے جانے والوں کو گرفتار کرنا چاہتی ہے خوشی سے کرے لیکن ایک سیاسی جماعت کا جلسہ روکنے کے لئے ڈیڑھ کروڑ کی آبادی والے شہر کے لوگوں کو مشکلات میں نہ ڈالے۔
کیا صوبائی حکومت اور شہری انتظامیہ اس امر سے لاعلم ہیں کہ لاہور کے گردونواح کے شہروں اور قصبوں سے کم و بیش دو لاکھ افراد روزانہ کی بنیاد پر اس شہر میں ملازمت، کاروبار، محنت مزدوری اور دوسرے کاموں کے لئے آتے ہیں اور شام کو واپس چلے جاتے ہیں۔
آج 25مارچ ہے ہفتہ کا دن، یہ معمول کا کاروباری دن ہے صرف چند وفاقی محکموں اور بینکوں میں ہفتہ کی تعطیل ہوتی ہے۔ چلیں ہم سمجھ لیتے ہیں 10ہزار لوگ ہفتہ والے دن گھروں سے کم نکلتے ہیں اور لاہور کا رخ نہیں کرتے۔ باقی ماندہ جو لوگ ہفتہ کی صبح لاہور پہنچ گئے وہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں کی بندش کی وجہ سے واپس کیسے جائیں گے؟
راستے بند کرنے کے ہنگامی انتظامات کے بعد شہر کی باقی سڑکوں پر ٹریفک کا جو دبائو بڑھے گا اس کا انتظام کیا ہے؟
نرم سے نرم الفاظ میں عرض کروں تو یہ کہ راستے بند کرنے کی حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ یا جس نے یہ مشورہ دیا وہ شہری امن اور اس کی ضرورتوں سے لاعلم ہیں اتنے ہی لاعلم جتنا میں ایک جنگی جہاز اڑانے کی تکنیک سے ناواقف ہوں۔
مکرر یہ عرض کئے دیتا ہوں کہ سیاسی عمل اور سیاسی سرگرمیوں پر کوئی پابندی نہیں۔ جلسے کی اجازت دے کر راستے بند کرنے کا عمل صریحاً غلط ہے اس سے بہتر تھا جلسہ کرنے کی اجازت ہی نہ دی جاتی۔
پی ٹی آئی والے توپ لے کر اجازت لینے نہیں پہنچے تھے۔ شہری انتظامیہ اور پی ٹی آئی والوں کے درمیان باقاعدہ مذاکرات ہوئے تھے اس کے لئے۔
اب کالم کے اس حصہ میں یورپی یونین کے سفیروں سے مخدوم شاہ محمود قریشی کی قیادت میں ملاقات کرنے والے وفد پر بات ہوجائے۔ یاد کیجئے عمران خان بطور وزیراعظم کہا کرتے تھے کہ اپوزیشن کے لوگوں کا غیرملکی سفیروں سے ملنا قطعی طور پر غلط ہے یہ لوگ سازشیں کرنے اور میری حکومت کے خلاف ’’امداد‘‘ کے حصول کے لئے غیرملکی سفیروں سے ملتے ہیں۔ اب شاہ محمود قریشی کی قیادت میں یورپی یونین کے سفیروں کو ملنے والا پی ٹی آئی کا وفد کون سی سازش اور ’’امداد‘‘ کے لئے ملنے پہنچا؟ مخدوم شاہ محمود قریشی کی ایک تصویر وائرل ہوئی ہے وہ ایک خاتون سفیر سے پرجوش انداز اور انکساری کے ساتھ ہاتھ ملارہے ہیں۔
فقیر راحموں نے اس ’’ہتھ جوڑی‘‘ پر تبصرہ کیا ہے۔ مجھے چونکہ مخدوم صاحب کا شخصی احترام ہے اس لئے وہ تبصرہ یہاں لکھ نہیں رہا۔ ویسے مخدوم صاحب نے خاتون سفیر سے یہ تو کہا ہی ہوگا
’’بی بی کبھی کوئی پریشانی ہو تو دم درود اور تعویز کے لئے میں حاضر ہوں‘‘۔
234