آبادی کے اعتبار سے بڑے صوبے پنجاب کی عوام کے لئے خاتون وزیر اعلیٰ کا انتخاب غیر متوقع ہے جسے بڑی تبدیلی کہا جا سکتاہے، شریف خاندان کی نیک دختر پہلی دفعہ اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں اور وزارت اعلیٰ اپنے نام کر لی سابقہ عہد میں جس طرح انھیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا، سمجھا جارہاتھا کہ وہ بھی اپنی پہلی تقریر میں منفی جذبات کا اظہار کریں گی، مگراسمبلی میں ان کا پہلا خطاب مفاہمت، سنجیدگی اور متانت پر مبنی تھا،انکی گفتگو سے محسوس ہوا کہ عہدہ کا حلف لینے سے قبل انھوں نے صوبہ کی ترقی کے لئے روڈ میپ اوراس ضمن میں خاصا ہوم ورک کیا ہوا ہے، صحافتی حلقوں میں انکی پہلی تقریر کوسراہا گیا ہے ، سابقہ ''تبدیلی ''کے عہد میںپنجاب میں بر اجمان شخصیت کی بطور وزیر اعلیٰ کارکردگی پر انکی پارٹی کے کلیدی اراکین بھی تحفظات رکھتے تھے۔
مذکورہ خاندان کو پنجاب پر حکمرانی کا وسیع تجربہ ہے جسکی جھلک موجودہ وزیر اعلیٰ کی ورکنگ میں نظر آرہی ہے، دستیاب حالات تقاضا کرتے ہیں کہ پنجاب کی ترقی اور گورننس کے لئے قلیل اور طویل المعیاد منصوبہ جات مرتب کئے جائیں، اول الذکر کا تعلق مہنگائی کے خاتمہ اور مثالی لاء اینڈ آرڈر سے ہو، ماہ مبارک کی آمد آمد ہے،روایتی طور پر اس میں مصنوعی مہنگائی کی جاتی ہے، کھانے پینے کی اشیائ، فروٹ کے نرخ آسمان سے باتیں کرتے ہیں جس میں بڑا گھناونا کردار ذخیرہ اندوزوں کا ہوتا ہے، اس مافیا کیخلاف کیا اقدامات کرتی ہیں، نئی وزیر اعلیٰ کے لئے یہ ٹسٹ کیس بھی ہے تا عوام کی مجبوری سے یہ طبقہ ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکے۔
گلیپ سروے کے مطابق ملک کے24 فیصد لوگ عدم تحفظ کے باعث ملک چھوڑنا چاہتے ہیں، محترمہ زیادہ آبادی والے صوبہ کی وزیر اعلیٰ ہیں اگر لاقانونیت کی وجہ سے،اپنی سرزمین عوام پر تنگ ہو جائے تو اسے المیہ کے علاوہ دوسرا کیا نام دیا جائے،ہمیں یاد نہیں پڑتا کہ کبھی نواب آف کالا باغ نے بطور گورنر کسی تھانے یا سکول کا اچانک دورہ کیا ہو، ان کی زبان سے نکلا ہوا ہرلفظ قانون کا درجہ رکھتا تھا، کہا جاتا ہے کہ پنجاب سے برات سندھ کے علاقہ میں گئی، ڈاکووں کے ہاتھوں لٹ گئی، یہ مغربی پاکستان کے گورنر تھے انھوں نے پولیس کو صرف تین دن کا وقت دیامدت ختم ہونے سے قبل مال متاثرین تک پہنچ چکا تھا، اس وقت میڈیابھی واجبی سا تھا ،مگر نوٹس لینے کی نوبت نہیں آتی تھی۔
طویل المعیاد میں پہلا کام صوبہ کی خود کفا لت اور آمدنی میں اضافہ کیا جائے پنجاب کی سابقہ نگران حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ معدنیات کی 60 نئی سائیٹس دریافت ہوئی ہیں، سیمنٹ لگانے کے 17 نئے مقامات ملے ہیں، کالاباغ ،چنیوٹ میںخام لوہا ،کوئلے کے ذخائر 70برس کے کافی ہونے کی نوید سنائی جارہی ہے، اسی طرح اٹک میں سونے کی دریافت کا بھی کہا جارہا ہے تخمینہ ہے کہ 28 لاکھ تولہ سونا اس مقام سے ملے گا جس سے 600 ارب ریونیو حاصل ہو گا، حالیہ گلف فوڈ2024 کی ایکسپو میں پاکستانی سالٹ مینو فیکچرز کو بڑی پذیر ائی ملی ہے، گلابی نمک جو کھیوڑہ کے مقام پر ہے اسکی برآمدات کا تخمینہ 9سے10ارب ڈالر سالانہ لگایا جارہا ہے۔
پنجاب کی 48 فیصد آبادی کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے،جس کے لئے پانی ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدہ پنجاب کے کسان پر بجلی بن
کر گراہے جس کے تین دریا ستلج، بیاس اور راوی پانی سے محروم ہیں، حالانکہ عالمی قانون کے تحت انڈیا 40 فیصد پانی چھوڑنے کا پابند ہے، اس پر عمل درآمد سے لائیو سٹاک کی پیداوار میں بے پناہ اضافہ ممکن ہے بالخصوص وہ صحرائی علاقہ جات جہاں صرف مال مویشی پالے جاسکتے ہیں۔یہ پانی وہاں کے مکینوں کو نئی زندگی دے گا، مفاہمتی سیاست کے اس چلن میں اگرماہرین کی آراء کی روشنی میں کالا باغ کے ڈیزائن میں تبدیلی سے پنجاب سرکار ڈیم تعمیر کر لے تو سونے پر سہاگہ ہوگا۔
ماضی میں نہروں، شاہراہوں، دریائوں کے کنارے پر گھنے درخت ہوا کرتے تھے، ٹمبر مافیا کی ہوس اور سرکار کی نااہلی کی سزا ماحولیاتی آلودگی کی شکل میں عوام کو مل رہی ہے، نئی سرکار ہنگامی بنیادوں پر شجر کاری کا اہتمام کرے اس تحریک میں تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات کو سوشل ورک کی مشق کے طور پر شریک کیا جائے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملکی ترقی کسان کی خوش حالی سے عبارت ہے، اس کے لئے لازم ہے کہ اچھے نرخ پر اسکی فصل کی خرید داری بر وقت اور مکمل ہو،اناج کو سٹور کرنے کا اہتمام ٹائون کی سطح پر ہو، تاکہ موسم کی حدت اور شدت میں یہ خراب اور اس کی قلت نہ ہو۔
نیز شہروں پر سے آبادی کا دبائو کم کرنے کے لئے ماڈل دیہات قائم ہوں،تعلیم، صحت، روزگار کے مواقع میسر ہوں، قصبات اور ٹائونز میں مردو خواتین کو آئی ٹی کی تعلیم دی جائے تاکہ وہ گھر بیٹھے اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکیں۔ نیز کاٹیج انڈسٹری کو مقامی سطح پر فروغ دینے سے عوام کی فی کس آمدنی میں بھی اضافہ ممکن ہے۔
پنجاب سرکار کو چایئے کہ سیاسی وابستگی سے ہٹ کر زکوة اور عشر کے ذریعہ غریبوں اور پسماندہ افراد کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کی پالیسی بنائے،ایسی پالیسی وضع کی جائے جس حلقہ، علاقہ سے دونوں مدآت کی رقم اکھٹی ہو، اس کے عوام ہی اس سے مستفید ہوں۔
خوش آئند بات ہے کہ محترمہ وزیر اعلیٰ نے کرپشن کے حوالہ سے زیر ٹالرنس پالیسی بنانے کا قصد کیا ہے،اس پر عمل درآمد سے بہت سا ماحاصل صوبے کے خزانہ میں جمع ہو سکتا ہے۔
مشرقی پنجاب کی ''عام آدمی پارٹی'' کی طرح بنیادی دستاویزات کی فراہمی عوام کی دہلیز پر پہنچانے کے لئے'' ای۔ گوررننس ''کو فروغ دیا جائے، اس طرح میعشت کو دستاویز کے قالب میں ڈھالنے کی ابتداء سبزی اور غلہ منڈیوں سے کی جائے کیونکہ اربوں روپئے کمانے والا تاجر ٹیکس کی عدم ادائیگی کی گلی سے صاف بچ کر نکل جاتا ہے، دیگر کاروبار بالخصوص ہوٹلز، ریسٹورنٹس، پرائیویٹ ہسپتال، تعلیمی اداروں کو بھی ٹیکس نیٹ ورک میںلایا جائے، سرکاری ملازمین کی طرح ٹیکس کی ادائیگی وکلاء کے لئے بھی لازم ہو کسی بھی صوبہ کی انتظامیہ عوامی فلاح کی ذمہ داری تبھی بآحسن خوبی پوری کر سکتی ہے جب اسکی اپنی معیشت قرض کی جکڑبندیوں سے آزادہو۔
نومنتخب وزیر اعلیٰ پنجاب کو البتہ اضافی فائدہ یہ ہے کہ ملکی وزیر اعظم سے ان کا خونی رشتہ بھی ہے، انھیں نہ صرف راہنمائی میسر ہوگی روڈ میپ پر عمل درآمد قدرے زیادہ سہل ہو گا۔