ہمیں ہیں بُری طرح گھیرے ہوئے
الم ہی الم، غم ہی غم، کیا کریں
زمیں ہم پہ تنگ، آسماں ہم سے تنگ
الٰہی! کہاں جائیں ہم، کیا کریں
245
ہمیں ہیں بُری طرح گھیرے ہوئے
الم ہی الم، غم ہی غم، کیا کریں
زمیں ہم پہ تنگ، آسماں ہم سے تنگ
الٰہی! کہاں جائیں ہم، کیا کریں