خسارے میں چلنے والے حکومتی ادارے 254

خسارے میں چلنے والے حکومتی ادارے

پاکستان کی معاشی ابتری کی کئی وجوہات ہیں جو کئی دہائیوں میں خطرناک صورت اختیار کرچکی ہے۔ ان میں ایک وجہ نقصان میں چلنے والے قومی ادارے ہیں جو اب سفید ہاتھی بن کر کنٹرول سے باہر ہوگئے ہیں۔ پاکستان کی جی ڈی پی میں ٹیکسوں کی شرح صرف 9فیصد ہونے کی وجہ سے ہمیں اپنے اخراجات اور نقصانات محدود کرکے حکومت چلانا چاہئے تھی لیکن ہم نے آمدنی بڑھائے بغیر اخراجات اور نقصانات بے حساب بڑھالئے ہیں جس کی وجہ سے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے رواں مالی سال کا ملکی تاریخ کا ریکارڈ 6.4 فیصد خسارے کا بجٹ پیش کیا جس کی ایک وجہ خسارے میں چلنے والے حکومتی ادارے (SOEs) بھی ہیں۔ وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک کے مختلف سیکٹرز میں212، SOEs کام کررہے ہیں جن میں سے 197ادارے نقصان میں چل رہے ہیں ۔ 2016میں ان اداروں کے نقصانات ملکی جی ڈی پی کا 0.5 فیصد تھے جو 2021میں بڑھ کر جی ڈی پی کے 4 فیصد سالانہ سے زائد ہوچکے ہیں ۔ نقصانات میں چلنے والے ان اداروں میں تقریباً 450,000 افراد روزگار سے منسلک ہیں جنہیں تنخواہیں اور مراعات دینے کے باعث یہ ادارے سالانہ 458ارب روپے کانقصان کررہے ہیں جو قومی خزانے پر ایک بڑا بوجھ ہے جبکہ انہیں چلانے کیلئے وفاقی حکومت سبسڈیز اور بینک کے قرضوں کیلئے مسلسل گارنٹیاں فراہم کررہی ہے ۔ نقصان میں چلنے والے حکومتی اداروں میں پی آئی اے ، واپڈا ، ریلوے اور اسٹیل ملز سرفہرست ہیں ۔ ان میں سے اسٹیل ملز 2015 سے بند ہے لیکن ورکرز کو تنخواہیں اور مراعات دی جارہی ہیں جبکہ وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کے مطابق 2003 سے 2022 تک پی آئی اے کا آپریشن جاری رکھنے کیلئے 724ارب روپے قرضے کے بوجھ کا اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح پاکستان اسٹیٹ آئل، نیشنل بینک آف پاکستان، پورٹ قاسم،پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن، ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان اور NTDC منافع میں چلنے والے حکومتی ادارے ہیں۔

خسارے اور منافع میں چلنے والے حکومتی اداروں کا موازنہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ادارے جہاں حکومتی عمل دخل حد سے زیادہ تھا، ملازمین کو سیاسی بنیادوں پر بھرتی کیا گیا، پروفیشنل اور تجربہ کار CEOs کے بجائے ناتجربہ کار ریٹائرڈ بیورو کریٹس کو اداروں کا سربراہ بنایا گیا، ضرورت سے زائد ملازمین کی بھرتی، کرپشن اور اقربا پروری کی وجہ سے یہ ادارے مسلسل خسارے میں جاتے رہے اور آج یہ سفید ہاتھی قومی خزانے پر ناقابل برداشت بوجھ بن گئے ہیں حالانکہ ماضی کی تمام حکومتوں کے وزرائے خزانہ نے بجٹ پیش کرتے وقت ان نقصان میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کا وعدہ کیا تھا لیکن بدقسمتی سے آج تک ان اداروں کی نجکاری نہ کی جاسکی۔ 2006ء میں وزیراعظم شوکت عزیز کے دور حکومت میں اسٹیل ملز کی نجکاری کی گئی جس کی ایک کنسوریشم نے 75فیصد حصص حاصل کرنے کیلئے 362 ملین ڈالر کی بولی دی تھی لیکن جون 2006 میں سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے نجکاری کے اس معاہدے کو کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد سے اب تک اسٹیل ملز کے مجموعی نقصانات 480ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں جبکہ اس کی چمنی سے دھواں بھی نہیں نکل رہا۔ پاکستان کے توانائی سیکٹر بالخصوص واپڈا کے ذیلی اداروں کے نقصانات ملکی معیشت کیلئے خطرہ بنتے جارہے ہیں۔ پاور سیکٹر کے گردشی قرضے بڑھ کر 2500ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں جس کی وجہ سے بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے۔ آئی پی پیز معاہدے بھی پاور سیکٹر پر لٹکتی تلوار ہیں اور توانائی سیکٹر میں فوری اصلاحات کرکے بجلی کی چوری، ٹی اینڈ ڈی نقصانات اور گردشی قرضوں میں کمی لائی جائے ۔ اسی طرح ہماری قومی ایئر لائن پی آئی اے جس نے دنیا کی کئی ایئر لائنز کو جنم دیا، آج دیوالیہ ہونے کے قریب ہے جس کی بڑی وجہ سیاسی بنیادوں پر ضرورت سے زیادہ کی گئی بھرتیاں اور غیر پروفیشنل سربراہوں کا بار بار بدلنا ہے۔ دنیا کی صف اول کی ایئر لائنز میں ملازمین اور طیارے کا تناسب 200سے 220 ملازمین ہوتا ہے جبکہ پی آئی اے میں ملازمین اور طیارے کا تناسب 500 سے زیادہ ہے یعنی پی آئی اے میں ملازمین کا تناسب دنیا کی ایئر لائنز سے دگنے سے بھی زائد ہے ۔ یہی حال محکمہ ریلوے کا ہے جہاں ادارے کو سیاسی بنیاد پر ملازمت دینے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے اور کرپشن، اقربا پروری اور غیر پروفیشنل مینجمنٹ سے ادارہ نقصان میں ہے۔ پاکستان کے برعکس چین میں حکومتی اداروں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ یعنی نجی شعبے کے ساتھ مل کر چلایا جاتا ہے اور نجی شعبہ اداروں میں نئی سرمایہ کاری، نئی ٹیکنالوجی اور بہتر مینجمنٹ کے ذریعے ان اداروں کی ری اسٹرکچرنگ کرکے نجکاری کیلئے پیش کرتا ہے۔ میری حکومت کو تجویز ہے کہ ان اداروں کا چیف ایگزیکٹو زمیرٹ ، شفافیت اور تجربے کی بنیاد پر قابل ترین پروفیشنل مقرر کئے جائیں جو پاور سیکٹر، ایئر لائنز، اسٹیل ملز اور ریلوے میں نئی سرمایہ کاری اور بہتر مینجمنٹ کے ذریعے ان اداروں کی تشکیل نو کرکے جلد از جلد نجکاری کرسکیں تاکہ ٹیکس دہندگان کے اربوں روپے ،جو نقصانات کے باعث کئی دہائیوں سے ان اداروں کو چلانے کیلئے جھونکے جارہے ہیں، بچائے جا سکیں اور یہ ادارے بوجھ بننے کے بجائے ملکی معیشت کیلئے مددگار ثابت ہوسکیں۔

بشکریہ ہم سب