حضرت عمر  جیسے حکمران کی خواہش اور ہمارا رویہ 320

حضرت عمر  جیسے حکمران کی خواہش اور ہمارا رویہ

    حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ جیسا حکمران کی دعا مانگنے والی قوم کو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی رعایا کے بارے میں تھوڑا سا مطالعہ کر لینا چاہیے کہ ان کی رعایا کیسی تھی ؟اگر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ عادل اور رعایا کا خیال رکھنے والے حکمران تھے اپنی حکومت کو عدل و انصاف کے ساتھ چلانے والے تھے تو ان کی رعایامیں بھی عدل و انصاف تھا ۔ ان کی رعایابھی ایسی تھی کہ جن کا ایمان نہایت مضبوط تھا اللہ تعالی کے احکامات کو ماننے والے اور شریعت کے ہر حکم پر جان نثار کرنے والے لوگ تھے۔ جھوٹ ، فریب ، دغا بازی ، دھوکے بازی ، بزدلی ان کے قریب تک نہ پھٹکتی تھی۔ وہ خوف خدا رکھنے والے لوگ تھے جن کے دل اللہ تعالی کا ذکر کرتے ہوئے کانپ جایا کرتے تھے ۔ اذان کی آوز سن کر ان کے جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا اور وہ مسجد کی طرف دوڑ لگا دیتے مسجدیں آباد ہو جاتیں بازار ویران ہو جایا کرتے تھے۔ اس زمانے میں تو یہ تصور بھی نہیں تھا کہ ایک مسلمان ہواور وہ نماز چھوڑ دے بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین فرماتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں تو کوئی کھلم کھلا منافق جس کے بارے میں سب کو معلوم ہو کہ یہ منافق ہے وہ تو جماعت کی نماز رہ جاتا تھا ورنہ عام اور چھوٹے منافقین میں بھی یہ جرات نہیں ہوتی تھی کہ وہ جماعت کی نماز کو چھوڑ دیں اور فرماتے تھے کہ ہمارے زمانے میں تو کسی شخص کو اگر دو آدمیوں کے سہارے بھی گھسیٹ کر مسجد میں لایا جاسکتا تو اسے بھی صف میں لا کھڑا کر دیا جاتا تھا۔ 
    وہ لوگ ایک دوسرے کے لئے انتہائی نرم دل اور نرم گوشہ رکھنے والے تھے ایک دوسرے کا پاس و لحاظ رکھتے تھے اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں فرمایا ''آپس میں ایک دوسرے کے لئے نہایت رحم دل ہیں'' (الفتح : 29)اور کفار کے لیے وہ نہایت سخت تھے جن کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا : ''کفار کے لئے نہایت سخت ہیں(الفتح:29)۔وہ ایک دوسرے کو دھوکہ نہیں دیا کرتے تھے، ایک دوسرے کی جیبوں پر نظر نہیں رکھتے تھے ، غریب اور امیر سبھی موقع کی تلاش میں نہیں رہتے تھے کہ کسی طرح دوسرے کی جیب کاٹنے کا موقع ملے اور ہم اپنا ہاتھ صاف کر لیں۔ وہ نہایت پکے اور سچے مسلمان تھے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام پر مکمل یقین اور بھروسہ تھا۔
    یہی وجہ ہے کہ علم اصول حدیث وضع کرنے والے محدثین بھی جب راویوں کے بارے میں چھان بین کرتے تھے تو وہ تمام راویوں پر جرح و تعدیل کرتے تھے کہ فلاں راوی سچا ہے یا جھوٹا ہے کیسے اوصاف کا مالک ہے وغیرہ لیکن جب وہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم تک پہنچتے تھے تو وہ صحابہ کرام کی چھان بین نہیں کرتے تھے کیونکہ یہ اصول ہے کہ صحابہ تمام کے تمام ثقہ ہیں یعنی وہ سبھی عادل ،سچے اور قابل اعتبار ہیں۔
    اس مطالعے کے بعد ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ آج ہماری کیا حالت ہے ہمارا ہر شخص جھوٹ ، دغا بازی ، ، فریب ، دھوکہ دہی اور بزدلی کا مرکب ہے ۔ ہم آپس میں مسلمانوں کی گردنیں کاٹنے، ایک دوسرے کے جیبیں صاف کرنے پر تلے ہوئے ہیں کفار کے ساتھ ہمارا رویہ نہایت نرم ہے۔ہمارا امیر ہو یا غریب دوسروں کی جیبوں پر نظر رکھے ہوئے ہے ذرا سا بھی دھوکا دینے کا موقع ملتا ہے تو موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔حکمرانوں پر الزام لگاتے ہیں انہیںبرا بھلا کہتے ہیں ،لیکن ہم دیکھیں تو ہمارے ریڑھی والے سے لے کر بائیسویں گریڈ کے افسر تک ہر شخص کرپشن کے اندر ملوث ہے جس کو جتنا موقع ملتا ہے وہ اس سے بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے۔ حکمرانوں کو زیادہ موقع ملتا ہے تو زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں زیادہ کرپشن کرتے ہیں عوام کو کم موقع ملتا ہے تو وہ کم فائدہ اٹھاتے ہیں ان لوگوں کو بھی اگر زیادہ موقع مل جائے یا حکمران بن جائیں تو ظاہر ہے یہ بھی زیادہ فائدہ اٹھائیں گے اور زیادہ کرپشن کریں گے۔ تو ایسی کرپٹ قوم پر ایسے کرپٹ حکمران ہی آئیں گے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ جیسا حکمران ایسے لوگوں پر نہیں آسکتا۔
    ہمارے دین کا یہ حال ہے کہ ہمارے ایمان نہایت کمزور ہیں اللہ اور اس کے رسول کے وعدوں پر یقین نہیں ہے ہمیں  دنیاوی اسباب ہی نظر آتے ہیں انہی کے پیچھے بھاگے چلے جا رہے ہیں نمازوں کی پرواہ تک نہیں کرتے، دینی احکامات اور شریعت کی پرواہ نہیں کرتے غیر وں کی نقالی میں ہم سب سے آگے ہیںجیسے  وہ کہتے ہیں ہم ویسے ہی کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ ہمیں امریکہ اور یورپ میں بیٹھے ہوئے محققین کے اقوال پر زیادہ یقین ہے اللہ اور اس کے رسول ۖ کے کلام پر ہمیں یقین نہیں ہے۔ تو پھر ہم دنیا میں کس طرح خوشحالی کی زندگی گزار سکتے ہیں۔
    لہذا اگر ہمیں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ جیسا نیک اور عادل حکمران چاہیے تو اس کے لئے ہمیں پہلے خود کو بدلنا ہوگا حکمران بعد میں بدلیں گے ۔ حضرت حسن بصری  سے منقول ہے کہ جیسے تمہارے اعمال ہوں گے ویسے ہی تمہارے حکمران ہوں گے ۔ اس لیے ہم حکمرانوں کو بدلنے کی فکر کرنے کی بجائے پہلے خود کو بدلنے کی کوشش کریں اپنے آپ کو دیکھیں کہ میں کیسا ہوں اور کہاں کہاں گناہ کر رہا ہوں ، کہاں شرعی احکامات کی نافرمانی کر رہا ہوں ، کہاں کرپشن ، جھوٹ اور فریب میں ملوث ہیں۔ پہلے ان سب چیزوں کو تبدیل کریں پہلے اپنے وجود پر عدل و انصاف قائم کریں اس کے بعد دوسروں کی فکر کریں ، اپنے معاشرے کی اصلاح کی فکر کریں ، پھر حکمرانوں کی فکر کریں بلکہ حکمرانوں کی فکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی جب ہمارا معاشرہ درست ہو جائے گا تو حکمران خود بخود درست ہو جائیں گے۔

بشکریہ اردو کالمز