حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے اوصاف حمیدہ (پنجم) قسط نمبر 27 236

حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے اوصاف حمیدہ (پنجم) قسط نمبر 27


(14) خشیت الہی

خشیت الہی جو تمام عبادات و اعمال کی روح ہے، اس کا غلبہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ پر اس قدر تھا، کہ آپ ہر وقت محاسبہ آخرت کے خوف سے لزراں و ترساں رہتے تھے۔ بات بات پر سرد آہیں بھرتے تھے، اس لیے آپ کا لقب "اواہ منیب" یعنی بہت آہیں بھرنے والا اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والا پڑھ گیا تھا۔ کبھی کسی سر سبز درخت کی طرف دیکھتے، تو فرماتے؛ کاش میں درخت ہوتا، تا کہ محاسبہ آخرت سے نجات پا جاتا۔

(سیرۃ خلیفۃ الرسول سیدنا ابو بکر صدیق از طالب ہاشمی صفحہ 352 تا 355)

(15) سلام کرنے میں پہل:

حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی عادت تھی، کہ جب باہر نکلتے، تو جہاں تک ہو سکتا تھا، لوگوں کو سلام کرنے میں پہل کرتے تھے۔ اگر کوئی ان کے سلام کا جواب اضافہ کر کے دیتا، تو آپ دوبارہ اس میں مزید اضافہ کر کے دوبارہ اسلام کرتے تھے۔ 

حضرت عمر فاروق ؓ سے روایت ہے، کہ ایک مرتبہ میں اور حضرت ابو بکر صدیق ؓ سواری پر بیٹھ کر جا رہے تھے۔ ہمیں راستے میں کچھ لوگ ملے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا؛ اسلام علیکم ان لوگوں نے جواب دیا؛ اسلام علیکم ورحمتہ اللہ۔ پھر حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے کہا؛ اسلام علیکم ورحمتہ اللہ ان لوگوں نے جواب دیا؛ اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے فرمایا؛ آج یہ لوگ ہم سے بڑھ گئے۔

(17) توکل علی اللہ:

توکل علی اللہ، یہ وصف قوت ایمان کا عکاس ہوتا ہے، اور حضرت ابو بکر صدیق ؓ میں یہ وصف کامل درجہ موجود تھا۔ آپ ابن دغنہ کی پناہ میں تھے، اور اس شرط پر کہ آپ اندر مکان میں اپنی عبادت کریں گے، لیکن جب آپ نے اپنے صحن میں مسجد بنائی، تو قریش مکہ نے ابن دغنہ سے شکایت کی، جس پر ابن دغنہ نے کہا، کہ اے ابو بکر شرط پر عمل کریں، نہیں تو میں پناہ واپس لیتا ہو۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے بےدھڑک جواب دیا، کہ تم کو اپنی پناہ مبارک ہو، میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ 

آپ کی زندگی ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے، جب حالات فیصلوں کی اجازت نہیں دیتے تھے، لیکن آپ ؓ نے اللہ پر توکل کر کے وہ فیصلے کیے، جس سے آپ ؓ کا اللہ پر توکل ظاہر ہوتا ہے۔ ان میں جیش اسامہ ؓ کی روانگی اور فتنہ ارتداد اس کی مثالیں ہیں۔

(سیرۃ خلیفۃ الرسول سیدنا ابو بکر صدیق از طالب ہاشمی صفحہ373 اور 374)

(19) مہمان نوازی:

مہمان کو خوش دلی اور مسرت سے خوش آمدید کہنا، اور ان کی خدمت کرنا، ایک نہایت اعلیٰ اخلاقی وصف ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ میں یہ وصف کمال درجہ تک پہنچا ہوا تھا۔ آپ نہ صرف اصحاب صفہ کو وقتاً فوقتاً اپنا مہمان بناتے رہتے تھے، بلکہ اور بھی جو مہمان آپ کے گھر آ جاتے، اس کی خاطر مدارات کرتے تھے۔ حضرت ابو زر غفاری ؓ جب پہلی بار اپنے وطن سے مکہ مکرمہ آئے، اور سرور دو عالمﷺ کا شرف نیاز حاصل کیا، تو بارگاہ نبویﷺ میں حضرت ابو بکر صدیق ؓ بھی موجود تھے۔ آپ ؓ نے حضور اکرمﷺ سے درخواست کی، کہ آج کی رات مجھے حضرت ابو زر غفاری ؓ کو اپنا مہمان بنانے کی اجازت مرحمت فرمائیں۔ حضور اکرمﷺ نے اسے منظور فرما لیا، اور رات کو خود حضرت ابوزر ؓ کو ساتھ لے کر حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے گھر تشریف لے گئے۔ حضرت ابو بکر ؓصدیق  نے مہمانان عزیز کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ کھانے کے علاوہ طائف کے منقے بھی پیش کیے۔

بشکریہ اردو کالمز