پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر 2018-19ء سے دبائو شروع ہوا جب ہم نے بجلی کی پیداوار کیلئے15 ارب ڈالر کے فرنس آئل اور 3ارب ڈالر کی LNG امپورٹ کی جس سے ہمارا امپورٹ بل 80ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا اور ہمیں 50ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا کرنا پڑا جو ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر برداشت نہیں کرسکتے تھے لہٰذا مستقبل میں ہمیں 20ارب ڈالر سالانہ پیٹرولیم مصنوعات کی امپورٹ میں کمی لانے کیلئے سولر، ہوا ، کوئلے، پانی اور نیوکلیئر متبادل توانائی کے ذرائع سے زیادہ سے زیادہ بجلی پیدا کرنا ہوگی، ملک میں نئی آئل ریفائنریاں لگانا ہونگی تاکہ ہمیں مطلوبہ پیٹرول اور ڈیزل مقامی طور پر دستیاب اور انکی امپورٹ پر ہمارا انحصار کم ہوسکے۔ اِس وقت پاکستان میں صرف 4آئل ریفائنریاں کام کررہی ہیں جس میں پاک عرب ریفائنری، اٹک ریفائنری، نیشنل اور پاکستان ریفائنریز شامل ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ 40سالوں میں صرف 2 آئل ریفائنریاں لگائی گئی ہیں جن کی20ملین ٹن سالانہ آئل ریفائن کرنے کی صلاحیت ہے لیکن فرنس آئل کی طلب میں کمی کی وجہ سے اِن ریفائنریوں میں صرف 11ملین ٹن سالانہ آئل ریفائن ہورہا ہے جبکہ ہماری موجودہ طلب 33ملین ٹن سالانہ ہے۔ فروری 2019ء میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے اسلام آباد کے دورے کے موقع پر گرین فیلڈ ریفائنری کے مشترکہ منصوبے کی ایک یادداشت پر دستخط کئے گئے تھے جس کے تحت پاکستان کی گورنمنٹ ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ، پاکستان اسٹیٹ آئل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پارکو اور آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کارپوریشن گوادر پورٹ میں جوائنٹ وینچر کے تحت عالمی معیار کی Euro5پیٹرول اور ڈیزل ریفائن کرنے کی جدید ٹیکنالوجی گرین فیلڈ ریفائنری لگائیں گے جو 8 ملین ٹن ڈیزل اور 6ملین ٹن پیٹرول سالانہ ریفائن کریگی۔ یہ ریفائنری 3لاکھ بیرل یومیہ فرنس آئل ریفائن کرنے کی صلاحیت کی حامل ہوگی۔ منصوبے کی مالی لاگت 10سے 12ارب ڈالر ہے جبکہ مستقبل میں یہ ریفائنری پیٹرولیم مصنوعات ایکسپورٹ بھی کرسکے گی۔ جوائنٹ وینچر منصوبے میں 50فیصد شیئرز دنیا کی بڑی سعودی آئل کمپنی آرامکو اور باقی 50فیصد شیئرز پاکستانی حکومتی کمپنیوں کے ہونگے جس میں پی ایس او کے 30 فیصد شیئرز شامل ہیں۔ اُمید کی جارہی ہے کہ بعد میں اس منصوبے میں چین، یو اے ای اور آذربائیجان بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ بدقسمتی سے 2019ء سے اب تک اس منصوبے پر خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہوسکی اور ملکی اہمیت کا 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا یہ اہم منصوبہ فائلوں کی نذر رہا۔ 21نومبر 2022ء کو اس منصوبے کی لانچنگ اور پاکستان کو 4.2ارب ڈالر کا بیل آئوٹ پیکیج دینے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو اسلام آباد آنا تھا لیکن پیٹرولیم پالیسی میں مطلوبہ اصلاحات اور تبدیلیاں نہ کئے جانے کی وجہ سے سعودی ولیعہد کو اپنا دورہ پاکستان منسوخ کرنا پڑا۔ گرین فیلڈ آئل ریفائنری منصوبے پر گزشتہ 10سالوں سے کام جاری تھا جسے موجودہ حکومت نے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ کچھ ماہ قبل گرین فیلڈ آئل ریفائنری پر پیشرفت کیلئے میرے دوست اور پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی اور وزیر مملکت پیٹرولیم مصدق ملک کے درمیان ملاقات ہوئی اور دو مہینے کے اندر معاہدے کو حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا گیا اور مجھے خوشی ہے کہ وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے پیٹرولیم پالیسی میں وہ تمام اصلاحات اور تبدیلیاں وفاقی کابینہ سے منظور کروائیں جو اس جوائنٹ وینچر کیلئے سعودی آرامکو کو درکار تھیں جس میں سرمایہ کاری پر 15فیصد منافع، ڈیزل اور موگاس کی امپورٹ پر 25سال کیلئے 7.5فیصد کسٹم ڈیوٹی اور 20 سالہ ٹیکس کی چھوٹ قابل ذکر ہے اور اس سلسلے میں حال ہی میں OGDC ہیڈ آفس میں 3سالہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کئے گئے۔ قارئین! یہاں میں یہ بات کہنا مناسب سمجھتا ہوں کہ خلیجی ممالک جن میں بالخصوص سعودی عرب، UAE اور قطر قابل ذکر ہیں، نے ہمیشہ پاکستان کو مالی امداد دینے کے بجائے طویل المیعاد منصوبوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی ہے لیکن ہم نے وقتی فائدے کیلئے مالی امداد کو ترجیح دی جس سے نہ صرف ہمارا ان ممالک میں امیج خراب ہوا بلکہ ملکی معاشی ترقی کے یہ منصوبے تعطل کا شکار ہوتے گئے ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے حال ہی میں سرمایہ کاری کونسل (SIFC) تشکیل دی ہے جس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔ سرمایہ کاری کونسل کا مقصد سول اور عسکری قیادت کے تعاون سے گرین فیلڈ ریفائنری جیسے تعطل کا شکار منصوبوں کے علاوہ زراعت، معدنیات اور آئی ٹی کے منصوبوں کے راستے میں حائل تکنیکی رکاوٹیں دور کرکے انہیں پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے جن میں گرین پاکستان منصوبہ اور بلوچستان میں سونے اور تانبے کا ریکوڈک منصوبہ قابل ذکر ہے اور اس سلسلے میں گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں معدنیات پر پہلی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں دنیا بھر کے معدنیات کے ماہرین اور سرمایہ کاروں نے شرکت کی ۔ موجودہ حکومت نے جاتے جاتے صحیح ترجیحات کا روڈ میپ واضح کردیا ہے ، مجھے امید ہے کہ آنیوالی حکومت ان پالیسیوں کا تسلسل جاری رکھے گی ۔
258