ضمنی انتخابات: ن لیگ کی کامیابی‎ 301

ضمنی انتخابات: ن لیگ کی کامیابی‎

‎21اپریل کے ضمنی انتخابات کی پی ٹی آئی کو سمجھ نہیں آ رہی کہ جن حلقوں میں شہباز شریف، مریم نواز، احسن اقبال اور رانا تنویر حسین جیسے بڑے ناموں کی لیڈ برائے نام تھی وہاں ان کے متبادل نمائندوں کو اتنی بھاری لیڈز کیسے ملی ہیں؟ پی ٹی آئی کے لیڈر عمر ایوب نے ’’پنجاب میں کھلی دھاندلی‘‘ کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہوئے اسی نوع کے سوالات اٹھائے ہیں اور سارا ملبہ الیکشن کمیشن پر ڈالا ہے کہ اس کے اور پنجاب حکومت کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت ایف آئی آرز کاٹی جائیں اور کامیاب ہونے والوں کے نوٹیفیکیشن روکے جائیں۔ ظاہر ہے یہ کھوکھلے مطالبات ہیں جوکوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ ‎قومی اسمبلی کی پانچ اور صوبائی اسمبلی کی سولہ سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہوئے ہیں، درویش نے تین حلقوں کا ذاتی طور پر وزٹ کیا ہے جیسے کہ لاہور میں محترمہ مریم نواز نے قومی اسمبلی کا جو حلقہ چھوڑا ہے یہ ظاہر ہے ن لیگ کا گڑھ کہلاتا ہے پرویز ملک بھی یہاں سے جیت کر اسمبلی میں پہنچتے رہے ہیں اور اب انکے بیٹے علی پرویز ملک نے جتنے ووٹ لئے ہیں انتخابات سے پہلے یہ دکھائی دے رہے تھے۔ ‎شیخوپورہ کے حلقہ پی پی 139سے رانا تنویر حسین کوئی دو ہزار کے مارجن سے جیتے تھے مگر حالیہ ضمنی انتخاب میں رانا صاحب کے بھائی رانا افضال حسین کوئی سترہ ہزار کی لیڈ سے جیتے۔ رانا تنویر حسین ضلع شیخوپورہ کی مقبول ترین شخصیت ہیں جو 1985سے لے کر چند ایک مواقع چھوڑ کر مسلسل جیتتے چلے آ رہے ہیں ان کا ذاتی و آبائی حلقہ این اے 113مریدکے اور نارنگ منڈی کے علاقوں پر مشتمل ہے جہاں سے انہوں نے اپنے بھتیجے اور رانا افضال حسین کے بیٹے رانا عتیق انور کو ایم این اے منتخب کروایا ہے جبکہ شرقپور اور ملحقہ آبادیوں پر مشتمل حلقہ این اے 114سے منتخب ہو کر وہ خود قومی اسمبلی میں پہنچے ہیں۔ یہیں پر پی پی 139سے وہ حالیہ قومی انتخابات میں ممبر پنجاب اسمبلی بھی منتخب ہوئے تھے جسے چھوڑتے ہوئے ضمنی انتخابات میں انہوں نے اپنے بھائی رانا افضال حسین کو اس حلقے سے پنجاب اسمبلی میں پہنچایا ہے جو ماقبل اپنے بیٹے والی سیٹ پر ممبر قومی اسمبلی رہ چکے ہیں۔ رانا تنویر حسین کی مقبولیت کا راز محض ن لیگ سے ان کی مضبوط اور غیر متزلزل وابستگی ہی نہیں ہے بلکہ ان کا ذاتی ووٹ بینک بھی اتنا بھرپور ہے کہ وہ پارٹی کا اثاثہ خیال کئے جاتے ہیں۔ضلع نارووال میں یہی حیثیت اس وقت ن لیگ کے مرکزی سیکرٹری جنرل احسن اقبال کی ہے یہاں کسی زمانے میں چوہدری انور عزیز کا طوطی بولتا تھا، ایک مرتبہ فلڈ کے موقع پر میاں نواز شریف نے یہاں وزٹ کیا تو کچھ بزرگ خواتین کو دیکھ کر میاں صاحب رک گئے، میاں صاحب آگے بڑھے ایک بزرگ خاتون کے قریب ہوئے تو اس نے سر پر پیار کرتے ہوئے دعائیں دیں میاں صاحب نے یہ والہانہ پن دیکھتے ہوئے پوچھ لیا ماں جی آپ نے پہچانا ہے کہ میں کون ہوں؟ ماں جی جھٹ سے بولیں بیٹا ہم تجھے کیسے بھول سکتےہیں تو تو ہمارا پیار انور عزیز ہے۔‎آج احسن اقبال کیلئے کتنی بڑی کامیابی ہے کہ انہوں نے اسی پاپولر لیڈر چوہدری انور عزیزکی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ چوہدری دانیال عزیز کی صلاحیتوں سے انکار نہیں لیکن انہوں نے پیہم کچھ ایسی سیاسی غلطیاں کی ہیں جن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اور اپنی ٹھوس کارکردگی دکھاتے ہوئے آج احسن اقبال جس طرح قومی سطح پر اپنی پہچان رکھتے ہیں اسی طرح ضلع نارووال کے مقبول ترین رہنما گردانے جاتے ہیں جسے ٹکٹ دلواتے ہیں کامیابی اسی کے نام کروا لیتے ہیں انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے نارووال جیسے پسماندہ ضلع کا حلیہ تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نارووال کے عوام پیہم ان پر اعتماد کرتے ہوئے نہ صرف انہیں بلکہ ان کے کھڑے کئے گئے نمائندوں کو بھی اسمبلیوں میں بھیج رہے ہیں۔‎24ء کے الیکشن میں انہوں نے رانا تنویر حسین کی طرح قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 54ظفروال سے کامیابی حاصل کی تھی، مقابلہ بہت سخت تھا۔ روپو چک کے چوہدری سرور کا اثر و رسوخ سب پر واضح تھا جن کے بھتیجے اویس قاسم یہاں سے جیتتے آ رہے تھے۔ پیر سعید الحسن کا بھی اپنا حلقہ ارادت ہے کھلاڑی کی مقبولیت بھی ایک حد تک تھی لیکن وہ بھی کوئی اثر دکھانے سے قاصر رہی یوں احسن اقبال یہاں سے ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوگئے اور حالیہ ضمنی الیکشن میں انہوں نے یہاں سے اپنے بیٹے اور سیاسی جانشین سابق چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل احمد اقبال کو کھڑا کیا جو ساٹھ ہزار سے زائد ووٹ لیتے ہوئے بھاری مارجن سے ممبر پنجاب اسمبلی منتخب ہوگئے ان کے مدمقابل سنی اتحاد کونسل کے حمایت یافتہ اویس قاسم نے چھیالیس ہزار ووٹ حاصل کئے۔ یہاں پی ٹی آئی اور ن لیگ کے کارکنان کئی مقامات پر گتھم گتھا ہوتے بھی پائے گئے۔ افسوسناک سانحہ یہ ہوا کہ ایک پولنگ سٹیشن کے باہر کارکنان کی لڑائی میں ن لیگ کے کارکن محمد یوسف کو سر پر ڈنڈا لگا جس سے وہ جاں بحق ہوگئے۔ تمام سیاسی قائدین اپنے کارکنان کو تلقین کریں کہ الیکشن کو الیکشن ہی سمجھیں زندگی موت کی جنگ نہ بنائیں۔ جمہوریت ہمیں برداشت اور ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنا سکھاتی ہے ہمارے سابق کھلاڑی نے جب اپنی کرسی کی جنگ کو جہاد کہا اور اپنے سیاسی مخالفین کو چور، کرپٹ باطل اور گمراہ کہتے ہوئے سیاست میں مذہبی تڑکے لگانے شروع کئے تو پہلے سے بگڑی ہوئی صورتحال صورتحال خراب سے خراب ہوتی چلی گئی لہٰذا ایسی جنونیت اور شدت پسندی سے بچنے کی ایک ہی راہ ہے کہ مذہب کا سیاسی استعمال روک دیا جائے۔

بشکریہ ڈان ںیوز