الیکشن 2024ءکا ایگزیکٹ پول کے نتائج ,اہم حلقے ,کانٹےدار مقابلہ متوقع  413

الیکشن 2024ءکا ایگزیکٹ پول کے نتائج ,اہم حلقے ,کانٹےدار مقابلہ متوقع 


گذشتہ ایک عشرے سے قوم کے حساس حصہ کو ہیجان کی کیفیت کا شکار کردیا گیا, بجائے یہ حساس حصہ ملکی معیشت میں اپنا حصہ شامل کرتا ,ہنر کی طرف آتا, اپنے آپ کو خود کفیل بنانا, اپنی محنت اور صلاحیتوں کا درست استعمال کرتے ہوئے نئے راستوں کا کھوج لگاتا,بغیر جذبے کے جذبات کی نظر ہوگیا, اب سیاسی,سماجی,اور معاشی دگرگوں صورتحال نے حالات اس نہج تک پہنچا دیے ہیں کہ ہر گھر میں سیاست جیسے موضوعات پر بحث و تکرار کا لامتناہی سلسلہ چل پڑا ہے, بات توں تکرار تک محیط نہیں رہی بلکہ رہداری تک پہنچ چکی ہےہر کسی کے مسائل اور وسائل زیر موضوع ہیں , ہمارے حساس حصہ سے مراد نوجوان طبقہ ہے جو ساٹھ فی صد آبادی پر مشتمل ہے اس کا کچھ حصہ سیاست کی, بد تہذیبی, بد اخلاقی, بے روزگاری, ہر طرح کی سماجی برائی کی نظر ہوگیا ہے, ناجانے ایسا کیوں کیا گیا؟خیر ہم موضوع کی طرف آتے ہیں, 2024ءکے انتخابات تاریخی اہمیت کے حامل ہیں, یہ پہلا انتخاب ہے جس میں گھر کا ہر فرد اپنا الگ نقطہ نظر رکھتا ہے ,ہر کسی کی اپنی پسند ہے اس وجہ سے یہ الیکشن تمام تر طبقات کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے, اس کے علاوہ کئی فیکٹر اور بھی ہیں,مطلب کل کے رفیق آج کے رقیب ہیں اگر سروے کے مطابق قومی اسمبلی جنرل266نشستوں کا جائزہ پیش کریں تو , صوبائی لحاظ سے پنجاب کی قومی اسمبلی کل141جنرل نشستوں میں سے 99پر پاکستان مسلم لیگ ن فتح یاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے اسی طرح 30کے قریب آزاد امیدوار قومی اسمبلی کی نشست پر پنجاب سے سبقت لیتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں, جن کا زیادہ تر تعلق جنوبی پنجاب سے ہے اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کی پنجاب سے 07قومی اسمبلی کی نشستوں پر کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے, ملتان, مظفرگڑھ اور رحیم یار خاں, کے حلقوں سے مطلب ملتان سے گیلانی خاندان, مظفر گڑھ سے ارشاد احمد سیال, ملک رضا ربانی کھر, رحیم یار خاں سے سید مصطفی محمود وغیرہ,اسی طرح آئی پی پی پنجاب میں قومی اسمبلی کی 03نشستوں پر کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے ,اسی طرح پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ ق قومی اسملبی کی02 پر نشستوں پر کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے -
اسی طرح سندھ کی  قومی اسملبلی کی کل جنرل 61نشستوں میں سے پاکستان پیپلز پارٹی 43نشستوں پر کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے ,زیادہ تر نشستوں کا تعلق دیہی سندھ سے ہے سندھ کی جنرل قومی اسمبلی کی 02نشستوں پرآزاد امیدوار کامیاب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں, سندھ کی جنرل قومی اسمبلی کی 05نشستوں پر ایم کیو ایم کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے -سندھ کی جنرل قومی اسملبی کی 05نشستوں پر پاکستان مسلم کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے, اسی طرح سندھ کی جنرل قومی اسمبلی کی 03نشستوں پر جی ڈی اے کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے, اسی طرح سندھ کی جنرل قومی اسمبلی کی 02نشستوں پر جماعت اسلامی کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے, جمیعت علما اسلام سندھ کی جنرل قومی اسمبلی کی ایک نشست پر کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے -
اسی طرح اگر ہم صوبہ خیبر پختوانخواہ کی جنرل قومی اسمبلی کی 45نشستوں کی بات کریں تو قومی اسملبی کی  20نشستوں پر جمیعت علمائے اسلام کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے, اسی طرح خیبرپختوانخواہ میں قومی اسمبلی کی 08نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں, اسی طرح خیبر پختوانخواہ کی جنرل قومی اسمبلی کی 09نشستوں پر پاکستان مسلم لیگ ن کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے ,اسی طرح خیبر پختونخواہ کی جنرل قومی اسملبی کی 03نشستوں پر عوامی نیشنل پارٹی کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے, اسی طرح خبیر پختونخواہ کی جنرل قومی اسمبلی کی 04نشستوں پر جماعت اسلامی کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے,اسی طرح خیبر پختونخواہ کی جنرل قومی اسملبی کی 01نشست پر پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹرین کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے -
اسی طرح اگر اہم ایگزکٹ پول کے مطابق صوبہ بلوچستان کی جنرل قومی اسمبلی کی 16نشستوں کا جائزہ لیں تو پاکستان مسلم لیگ ن 06نشستوں پر کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے, اسی طرح بلوچستان کی جنرل قومی اسمبلی کی 04نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے, اسی طرح بلوچستان کی جنرل قومی اسمبلی کی 04نشستوں پر جمیعت علمائے اسلام کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہیں, اسی طرح بلوچستان کی جنرل قومی اسمبلی کی 01نشست پر باپ پارٹی کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے, اسی طرح بلوچستان کی جنرل قومی اسمبلی کی 01نشست پر بلوچستان نیشنل پارٹی کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے -
اہم حلقے جہاں کانٹےدار مقابلہ متوقع ہے درج ذیل ہیں :-
این اے 130 لاہور
میاں نواز شریف مقابلہ ڈاکٹر یاسمین راشد
 این اے 130 لاہور سب سے نمایاں انتخابی حلقہ ہے ۔ اس حلقہ سے تین مرتبہ رہنے والے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف ,پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اس حلقے سے گذشتہ بیس پچیس سال سے انتخاب حصہ لیتے آرہے ہیں ۔ اور یہ مسلم لیگ ن کا گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔ ان کے مقابلے میں ڈاکٹر یاسمین راشد ہیں جو 2013 ء میں بھی میاں محمد نواز شریف کے خلاف الیکشن لڑچکی ہیں۔ 2017 ء میں جب عدالت نے میاں نواز شریف کو انتخابات کے لیے نااہل قرار دیا تو یہ سیٹ خالی ہوگئی اور یہاں سے ان کی بیگم محترمہ کلثوم نواز صاحبہ نے انتخاب لڑا اور جیتا۔ یہ مقابلہ بھی ڈاکٹر یاسمین راشد کے ساتھ ہی تھا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد 2018 ء کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کے امیدوار وحید عالم خان سے بھی ہار گئیں تھیں۔ اس بار کہا جارہا ہے کہ این 130 پر مقابلہ سخت ہے,
این اے 127 لاہور
 بلاول بھٹو زرداری مقابلہ عطا اللہ تارڑ,
یہ لاہور کا دوسرا اہم ترین حلقہ ہے۔ وہ اس لیے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری یہاں سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑرہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری سے پہلے ان کی والدہ محترمہ بے نظیربھٹو بھی یہاں سے انتخابات جیت چکی ہیں۔ جب کہ ان کے نانا سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی یہاں سے انتخابات جیت چکے ہیں۔ این اے 127 میں بلاول بھٹو زرداری کا مقابلہ مسلم لیگ ن کے عطا اللہ تارڑ اور آزاد امیدوار ملک ظہیر عباس سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حلقہ میڈیا میں اہمیت اختیار کرچکاہے۔
این اے 64 گجرات قیصرہ الٰہی مقابلہ چودھری سالک حسین,
قیصرہ الٰہی اور چودھری سالک حسین دونوں چودھری ظہور الٰہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ پھوپھی اور بھتیجا ہیں۔ قیصرہ الٰہی جو سابق وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کی بیوی اور چودھری شجاعت حسین کی بہن ہیں،  پی ٹی آئی کی حمایت حاصل ہے ۔ ان کے مقابلے میں چودھری شجاعت حسین کے بیٹے سالک حسین ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ گجرات کا چودھری خاندان جو اتحاد کی علامت تھا ، اب اس کے افراد ایک دوسرے کے خلاف انتخابات میں شریک ہیں۔ 
این اے 71 سیالکوٹ خواجہ محمد آصف بمقابلہ ریحانہ ڈار
سابق وزیر خارجہ اور مسلم لیگ نواز کے اہم رہنما خواجہ محمد آصف , کئی بار ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوکر حکومت میں اہم عہدوں پر فائز ہوچکے ہیں۔ دوسری طرف ریحانہ امتیاز ڈار ہیں۔ وہ عثمان ڈار کی والدہ ہیں۔خواجہ محمد آصف جیسے تجربہ کار اور متعدد بار جیتنے والے سیاستدان کو سخت چیلنج دے رکھا ہے ۔ سیالکوٹ شہر کی سیاست میں ان دنوں ریحانہ امتیاز ڈار کے چرچے ہیں اور خواجہ محمد آصف کو یہ انتخاب جیتنے کے لیے دن رات ایک کرنا پڑرہا ہے۔
این اے 148سید یوسف رضا گیلانی بمقابلہ ملک احمد حسن دیہڑ, 
این اے 155صدیق خان بلوچ بمقابلہ جہانگیر خان ترین, 
این اے 151 ملتان علی موسیٰ گیلانی بمقابلہ مہربانو قریشی بمقابلہ ملک عبد الغفار ڈوگر, 
این اے 151 میں ملتان کے دو سیاسی خاندان آمنے سامنے ہیں۔ شاہ محمود قریشی جنہیں سائفر کیس میں دس سال سزا ہوئی ہے مہربانو قریشی ان کی صاحبزادی ہیں۔ جبکہ علی موسیٰ گیلانی سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے ہیں۔ مہربانو قریشی کو پی ٹی آئی کے ووٹ کے علاوہ اپنے والد کے مریدوں اور ووٹروں کی حمایت حاصل ہے۔ علی موسیٰ گیلانی پیپلز پارٹی کے امیدوار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک روحانی گدی سے بھی وابستہ ہیں۔ مقابلہ سخت ہے ، دونوں کے درمیان اور سب کی توجہ کا مرکز بھی ہے ۔ ان دونوں کے درمیان دوسرا مقابلہ ہے پہلے علی موسیٰ گیلانی کی جیت ہوئی تھی۔
این اے 122 خواجہ سعد رفیق مقابلہ سردار لطیف کھوسہ,
این اے 122 لاہور میں مسلم لیگ ن کے رہنما اور آزاد امیدوار سردار لطیف کھوسہ کے درمیان مقابلہ بھی کا فی دلچسپ اور خبروں کی زینت بنا رہتا ہے ۔ خواجہ سعد رفیق گذشتہ  کئ انتخابات  یہاں سے جیت ہوچکے ہیں, انہوں نے ماضی میں تحریک انصاف کے حامد خان کو یہاں سے شکست دی تھی جب کہ  عمران خان سے چند سو ووٹوں سے ہار بھی گئے تھے۔ بعد میں جب بانی پی ٹی آئی نے یہ سیٹ خالی کی تو خواجہ سعد رفیق نے یہ سیٹ جیت لی تھی ۔ خواجہ سعد رفیق کے اپنے سیاسی قد کاٹھ اور سردار لطیف کھوسہ کے ساتھ پی ٹی آئی کے ووٹ بینک کی وجہ سے یہ حلقہ انتہائی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ سردار لطیف کھوسہ چند ماہ پہلے ہی تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں اور اب اس کے جماعت کے مرکزی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے وہ پیپلز پارٹی میں تھے اور گورنر پنجاب بھی رہ چکے ہیں۔
این اے 44 علی امین گنڈا پور ،مولانا فضل الرحمان اور فیصل کریم کنڈی کا مقابلہ
این اے 44 ڈیرہ اسماعیل خان کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ دو امیدواروں کے درمیان نہیں بلکہ تین امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے اور تینوں ملکی سیاست میں اہم مقام رکھتے ہیں۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پی ڈی ایم کے سربراہ بھی تھے جس نے 2023 ء میں قومی اسمبلی کے تحلیل ہونے سے پہلے مرکز میں سولہ ماہ تک حکومت کی تھی ۔ علی امین گنڈا پور تحریک انصاف کے دور میں وفاقی وزیر امور کشمیر و شمالی علاقہ جات کے ساتھ ساتھ عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں سے بھی تھے ۔ علی امین گنڈا پور مولانا فضل الرحمان سے 2018 ء میں جیت چکے ہیں ۔ اس حلقے سے تیسری بڑی شخصیت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق ڈپٹی اسپیکر فیصل کریم کنڈی ہیں۔ یہ بھی دو ہزار اٹھ کے انتخابات اسی حلقے سے جیت چکے ہیں ۔ اس بار بھی مقابلہ ان تینوں کے درمیان ہی بتایا جارہاہے ۔
این اے 241 کراچی ڈاکٹر فاروق ستار مقابلہ خرم شیر زمان ، فاروق ستار بمقابلہ خرم شیر زمان
اس حلقے میں کافی دلچسپ معرکہ ہے ۔ دوہزار اٹھارہ کے انتخابات میں این اے 245 سے ڈاکٹر فاروق ستار ، اپنے ہی سابقہ ساتھی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین ، جو اسوقت پی ٹی آئی میں آچکے تھے ، کے ہاتھوں ہار گئے تھے۔ ایم کیو ایم جس کے ڈاکٹر فاروق ستار دہائیوں تک اہم لیڈر رہے تھے ، 2018ء میں مختلف دھڑوں بلکہ پارٹیوں میں تقسیم ہوچکی تھی ۔ فاروق ستار نے عملی سیاست کا آغاز بطور میئر کراچی سے کیا تھا ، اس کے بعد وہ متعدد پار ممبر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ خرم شیر زمان 2018ء میں ممبر سندھ اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ فاروق ستار این اے 244 سے بھی انتخاب لڑرہے ہیں۔ ان کے سیاسی قد کاٹھ اور کانٹے دار مقابلے کے حوالے سے یہ حلقہ بھی توجہ حاصل کررہا ہے۔
این اے 56 شیخ رشید بمقابلہ حنیف عباسی,
یہ سیاسی حریف راولپنڈی کی سیاست کو بڑا دلچسپ بنا دیتے ہیں۔ حنیف عباسی اور شیخ رشید کا مقابلہ 2018 ء کے انتخابات میں بہت دلچسپ ہوسکتا تھا ، مگرانتخابات حنیف عباسی کو نارکوٹکس کیس میں سزا ہونے کی بنیاد پر ملتوی کردیے گئے ۔ اب نہ صرف شیخ رشید اور حنیف عباسی آمنے سامنے ہیں بلکہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ شہر یار ریاض بھی میدان میں ہیں۔

بشکریہ اردو کالمز