لیہ جو اس وقت بڑی آبادی کا شہر ہے، یہاں بہت سے رفاعی ادارے اور سماجی رہنماء اپنے حصے کا کام کر رہے ہیں جن میں ڈاکٹرملک طاہر نعمان ڈونہ اپنے کام کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا ہر شخص کی لوگوں میں قدر و قیمت اور احترام اس کے ہنر سے ہے۔ اپنے لئے توہر کوئی جیتا ہے لیکن کچھ لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کے لئے جیتے ہیں، وہی اللہ کے خاص بندے ہوتے ہیں جو اللہ کے فضل و کرم سے اپنے آپ کو انسانیت کی خدمت کے لئے وقف کردیتے ہیں۔ لیہ میں کئی سرکاری اسپتال موجود ہیں جو عوام کو صحت کی سہولیات دے تو رہے ہیں لیکن کچھ نہ کچھ کوتاہی، کہیں نہ کہیں کوئی کمی مل ہی جاتی ہے۔ آئے دن ہمیں ان اسپتالوں کے بارے میں سننے کو ملتا ہے جس سے عوام سرکاری اسپتالوں سے علاج کرانے سے کتراتے ہیں لیکن ملک طاہرنعمان ڈونہ کے ہاتھوں کسی بھی اچھے پرائیویٹ اور بین الاقوامی اسپتال سے بہتر سہولیات مریضوں کو دی جا رہی ہیں جس کے چرچے قومی سطع پر بھی ہو رہے ہیں۔ جی میں بات کررہا ہوں لیہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں جہاں ڈاکٹر ملک طاہرنعمان ڈونہ بطور ایڈیشنل ایم ایس ڈیوٹی پر تعینات ہیں ان کی سروس کے دوران جہاں پر آپ اپنے مریض کو داخل کروا دیں اس کے بعد آپ کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔۔ اگر بات کی جائے تو کسی مسیحاکی جن کو اپنی رات کی نیند سے زیادہ دوسروں کے درد کا احساس رہتا ہے، جنہں اپنے دن کے سکون سے زیادہ دوسروں کی تکلیف کا احساس رہتا ہے، ایسی شخصیت جس کا موبائل کبھی سائلنٹ پر نہیں ہوتا، جو امیر و غریب میں فرق نہیں کرتے، جن کی نیند کبھی گہری نہیں ہوتی، جن کے پاس کوئی بہانہ نہیں ہوتا، جو کبھی عذر پیش نہیں کرتے، جو کبھی کسی کو نا نہیں کہتے، اس عظیم شخصیت کا نام ڈاکٹر ملک طاہر نعمان ڈونہ ہیں۔ ان کا تعلقچوک اعظم سے ہے جہاں آپ کے والد محترم ایک مدت سے دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔ آپ نے جب میڈیکل کے شعبہ میں قدم رکھا تو دکھی انسانیت کیلئے خدمات سرانجام دینا شروع کیں۔ یوں دیکھتے دیکھتے وہ پورے سرائیکی خطہ کیلئے مسیحا بن گئے۔ انہتائی تجربہ کار، ان کے ہاتھوں میں اللہ نے شفاء رکھی ہے۔ ایڈمنسٹریٹر ہوتے ہوئے بھی آج بھی ان کے کمرے کے باہر مریضوں کی ایک بڑی لائن موجود ہوتی ہے۔ اللہ نے بڑی خاکسار طبعیت دی ہے۔اک عرصے سے ڈاکٹر صاحب ایمرجنسی کے انچارج کے طور پر تعینات ہیں۔ یہ فرض بھی انہوں نے بخوبی اور خوش اسلوبی سے ادا کیا حالانکہ آپ کے سرکاری اوقات مقرر ہیں لیکن آپ نے ان اوقات سے زیادہ وقت اسپتال میں موجود ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ آج اس ادارے کے ایک بڑے عہدے پر فائز ہیں۔ لیکن سلام ہوان پر جن کی خدمت انسانیت کیلئے کوئی وقت مقرر نہیں، کوئی موسم نہیں، رات2 بجے ہو یا3 بجے ہوں یا شدید ٹھٹھرتی سردی ہو، یا کڑاکے کی گرمی کے 3 بجے کوئی فرق نہیں پڑتا بلاتفریق چلے آتے ہیں نہ سردی کا ذکر کرتے نہ گرمی کا، نہ نیند سے جاگنے جگانے کا نہ دن کے سکون کا بس چلے آتے ہیں۔ ان کا معمول ہے کہ کوئی رات2,3 بجے بھی کال کرکے بلائے ان کا موبائیل ان کے سرہانے ہر وقت آن ہوتا ہے۔ کبھی کسی کو بند نہیں ملا اور آج تک ایک ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا کہ کوئی بلائے اور وہ پہنچے نہ ہوں۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ بلانے والا یا آنے والا مریض امیر ہے یا غریب، ان کی نظر میں سب یکساں، ابھی آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس طرح سے وزٹنگ کے وہ پیسے لیتے ہوں گے؟ نہیں بلکہ نہیں! کسی سے ایک روپیہ تک وصول نہیں کرتے، اپنی کنوینس لے کر پہنچ جاتے ہیں اور حسب ضرورت اس وقت مریض کی جو ضرورت ہوتی ہے فراہم کرتے ہیں اور غریب نادار اور مستحق مریضوں کیلئے دوائی بھی مہیا کرتے ہیں، بے باکی جو دل میں ہوتی ہے وہی انکی زبان پر ہوتی ہے، ڈاکٹرملک طاہر نعمان ڈونہ ہمیشہ خدا لگتی کہتے ہیں انکی باتوں سے کون خوش ہوتا ہے کون ناک بھوں چڑھاتا اسکی پرواہ کبھی نہیں کی حتی انکی اسی خدا لگتی و حق گوئی کی وجہ سے انہیں مشکلات و مصائب کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے مگر انمیں جو جوہر ہے وہ کسی انسان کا عطا کردہ نہیں بلکہ عطیہ الہی ہے،ملازمین کے ساتھ ان کا برتاؤ ایک دوست اور بھائی جیسا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسپتال کے خاکروب تک سارے ملازمین ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کی انسانیت کی خدمت کے کاموں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ آج ہمیں چاہئے ایسے عظیم انسانیت دوست مسیحاؤں کو سلام پیش کریں۔ آخر میں ہم دعا کرتے ہیں کہ یااللہ ایسے عظیم میسحا کو سلامت رکھ اور ان کی توفیقات خیر میں اضافہ فرما۔ آمین یا رب العالمین!
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کیلئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
244