افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں اسمگلنگ 272

افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں اسمگلنگ

خصوصی سرمایہ کاری کونسل (SIFC)کی اپیکس کمیٹی کی ہدایت پر ملک میں اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے 5 لگژری آئٹمز کی امپورٹ پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں چائے، ٹائلز، فیبرکس، کاسمیٹکس، الیکٹرونکس آلات اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں ۔پرتعیش اشیا کی امپورٹ کی حوصلہ شکنی کیلئے FBRنے ان پر کسٹم ڈیوٹیاں بڑھادی تھیں جس کی وجہ سے انہیں اب افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے منگوایا جارہا ہے جو پاکستان اور افغانستان کے ملحق علاقوں طورخم، پنجگور، نوشکی اور ماشخیل سے اسمگل کرکے پاکستان بھیجی جا رہی ہیں اور پاکستان کو اس غیر قانونی تجارت سے سالانہ 3.3 ارب ڈالر کا نقصان ہورہا ہے ۔ پاکستان کیلئے افغان ٹرانزٹ کے ذریعے امپورٹ کی جانے والی اشیاء کی ٹریڈ مالی سال 2022-23 میں 4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 6.7 ارب ڈالر ہوگئی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں فروخت ہونیوالے موبائل ٹیلیفون 74فیصد، ڈیزل 53 فیصد، انجن آئل 43 فیصد، ٹائرز 40 فیصد، آٹو پارٹس 16 فیصد اسمگل ہوکر آتے ہیں ۔ اس کے علاوہ پاکستان سے افغانستان 150 ملین ڈالرز ماہانہ یعنی سالانہ 2 ارب ڈالر کی اسمگلنگ ہوتی ہے ۔ پاکستان میں استعمال ہونے والا ڈیزل اور پیٹرول بڑی مقدار میں ایران سے اسمگل ہورہا ہے جس کے باعث پاکستان کی ریفائنریز اپنی استطاعت سے کم پیداوار پر مجبور ہیں ۔ اسمگلنگ کی وجہ سے پاکستان کی امپورٹ میں ریشمی کپڑے میں 48 فیصد، الیکٹرونکس آلات میں 62 فیصد، گاڑیوں کے ٹائرز میں 42 فیصد، چائے میں 51 فیصد، مشینری میں 34 فیصد، سبزی اور پھلوں کی امپورٹ میں 46 فیصد کمی آئی ہے جبکہ اسی دوران پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں 67 فیصد اضافہ ہوا ہے کیونکہ یہ اشیاء افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے نام پر پاکستان اسمگل کی جارہی ہیں۔ نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کے مطابق افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ سے پاکستان کو سالانہ 310 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے جسے معاشی ماہرین نے پاکستان کی غیر دستاویزی معیشت کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے جس کے ملکی معیشت پر منفی اثرات پڑرہے ہیں۔ دوسرا بڑا مسئلہ بلوچستان کے راستے ایرانی تیل کی اسمگلنگ ہے ۔ پاکستان میں ملکی طلب کا 30 فیصد سالانہ تقریباً2 ارب ڈالر کا اسمگل شدہ ایرانی ڈیزل اور پیٹرول فروخت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سونے، ہیرے، جواہرات اور قیمتی پتھروں کی سالانہ اسمگلنگ بھی ہوتی ہے۔ ملک میں 90 فیصد سونا اور 80 فیصد سے زیادہ پان چھالیہ، خشک میوہ جات، گرم مصالحے امپورٹ ہونے کے بجائے کھیپ یا اسمگلنگ سے آتے ہیں جبکہ ہزاروں بغیر کسٹم ڈیوٹی ادا کی گئی گاڑیاں، افیون، پوست اور اسلحہ بھی پاکستان اسمگل کیا جارہا ہے۔ پاکستان میں چائے کی سالانہ کھپت 2 لاکھ 25 ہزار ٹن ہے جس کا ایک بڑا حصہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے اسمگلنگ سے پاکستان آتا ہے جس سے قومی خزانے کو کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکسز کی مد میں 35ارب روپے سالانہ کا نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ تمباکو اور سگریٹ کی غیر قانونی اسمگلنگ سے 80 ارب روپے، ٹائرز اور انجن آئل سے 90 ارب روپے، ادویات سے 45ارب روپے اور رئیل اسٹیٹ سے 60ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے جو مجموعی طور پر 310ارب روپے سالانہ بنتے ہیں۔ پاکستان کی گولڈ مارکیٹ 2200 ارب روپے (7.1 ارب ڈالر) کی ہے جس میں صرف 1.32 فیصد (29 ارب روپے، 94.5 ملین ڈالر) کا سونا قانونی طور پر امپورٹ کیا جاتا ہے جبکہ باقی سونا اسمگلنگ سے لایا جارہا ہے۔اسمگلنگ سے پاکستان کی چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتیں غیر مقابلاتی ہونے کی وجہ سے متاثر ہورہی ہیں۔ وزارت تجارت نے تجویز دی ہے کہ پرتعیش اشیا کی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی امپورٹ پر ڈیوٹی اور ٹیکسز کے برابر 100 فیصد مالیت کی بینک گارنٹی اور انشورنس لی جائے اور ٹرانزٹ ٹریڈ پر 10 فیصد پروسیسنگ فیس بھی عائد کی جائے تاکہ ان اشیا کو دوبارہ پاکستان میں اسمگل کرنا اتنا آسان نہ رہے۔ عالمی قوانین کے تحت وہ ممالک جو سمندر اور پورٹس سے محروم ہیں، انہیں پڑوسی ممالک ٹریڈ کیلئے زمینی راہداری دینے کے پابند ہیں۔ افغانستان سمندری راستہ نہ ہونے کی وجہ سے اپنے پڑوسی ممالک پاکستان اور ایران کا محتاج ہے کہ وہ ان ممالک کی بندرگاہوں کے ذریعے اپنی اشیا امپورٹ کرے اور پاکستان کے راستے وسط ایشیائی ممالک کی منڈیوں تک رسائی حاصل کرے جس کی بنیاد پر 19 جولائی 2010 کو پیپلزپارٹی دور میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی موجودگی میں پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا نیا معاہدہ ہوا جس کے تحت افغانستان، پاکستان کو وسط ایشیائی ممالک کی منڈیوں تک رسائی کیلئے زمینی راستہ دے گا اور افغانستان کا مال پاکستان کے راستے بھارت بھی جاسکے گا لیکن بھارت واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستان کے راستے اپنی اشیا افغانستان ایکسپورٹ نہیں کرسکے گا۔ بدقسمتی سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی سہولت کو افغانستان کیلئے حقیقی اشیا کی امپورٹ کے بجائے پاکستان اسمگلنگ کیلئے استعمال کیا گیا جس سے قومی معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ گزشتہ دنوں میری ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل اظہر وقاص سے بزنس مینوں کے ہمراہ ملاقات ہوئی جس میں کراچی میں حب کے راستے ڈیزل کی اسمگلنگ، چینی کی ہزاروں بوریوں اور3 ارب روپے سے زائد پرتعیش اشیاء کی ضبطی، پانی کے ناجائز ہائیڈرنٹ کو مسمار کرکے ذمہ داروں کو گرفتار کرنے، ڈالر کے ذخیرہ اندوزوں پر چھاپے اور غیر قانونی افغانیوں کی ملک بدری جیسے سخت اقدامات اور کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ پاکستان کی غیر دستاویزی اور غیر قانونی معیشت ملک کی مجموعی GDP کے 60 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور صرف 5 شعبوں میں ٹیکسز اور کسٹم ڈیوٹی کی مد میں ہر سال GDP کے 6 فیصد (310 ارب روپے) کی چوری کی جارہی ہے جو معیشت، ملکی صنعت اور قومی خزانہ برداشت نہیں کرسکتا۔ میری وزیر تجارت گوہر اعجاز کو تجویز ہے کہ اسمگلنگ روکنے کیلئے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا عالمی قوانین کے مطابق دوبارہ جائزہ لیا جائے۔ میں نے ڈی جی رینجرز سندھ سے بھی درخواست کی ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں اسمگلنگ روکنے کیلئے سخت انتظامی اقدامات جاری رکھے جائیں۔

بشکریہ ہم سب