649

ملک کی موجودہ سکیورٹی صورتحال, تحریک لبیک اور جمہوریت کے خلاف گٹھ  جھوڑ- !

اس وقت ملک سکیورٹی, سیاسی و معاشی عدم استحکام سے گزر رہا ہے- افراتفری کا ماحول ہے- ملک کے مختلف حصوں میں باالعموم اور پنجاب میں باالخصوص تحریک لبیک کے سپورٹرز مظاہرے کررہے ہیں-

پولیس اور مظاہرین کے درمیان, ہاتھا پائی, لاٹھی چارج, آنسو گیس اور فائرنگ کے واقعات رونما ہوچکے ہیں- ہفتہ بھر کے مظاہروں میں سب تک تحریک لبیک کے تین جب کہ پنجاب پولیس کے دو اہلکار جان سے گئے ہیں- ابھی بھی پنجاب کے مختلف علاقوں میں جھڑپیں جاری ہیں- جبکہ تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی نے کارکنان کو پیغام بیجھا ہے کہ احتجاج ختم کیا جائے-

 

تحریک لبیک پاکستان: 

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) ایک پاکستانی مذہبی  سیاسی جماعت ہے جو تحریک لبیک یا رسول اللہ نامی جماعت کے سربراہ خادم حسین رضوی کی زیر قیادت 2015 میں قائم ہوئی۔

 26 جولائی 2017ء کو الیکشن کمیشن پاکستان میں رجسٹر ہوئی اور اس تنظیم کو کرین نشان دیا گیا۔ موجودہ امیر جانشین سعد حسین رضوی صاحب ہیں۔ 14 اپریل 2021، تحریک لبیک جماعت کو انسداد دہشتگردی کے قانون کے تحت پابند کیا گیا- حکومت پاکستان نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 رول 11 کے تحت 15 اپریل 2021 کو تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کردی- سعد رضور اور تحریک لبیک کے تمام اثاثے, اکاونٹس منجمد کردیئے, جائیداد ضبط کی گئ ہے, اور ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے- سعد رضوی اور تحریک لبیک کے کئ کارکنان پابند سلاسل ہے-

شام کو وزیر اعظم ملک سے خطاب کریں گے- جس میں تحریک لبیک کو دہشت گرد قرار دینے, پابندی لگانے اور ملکی صورتحال پر بحث کریں گے-

ساتھ میں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ یہ وہی تحریک لبیک ہے کہ جس نے سال 2017 میں بھی احتجاج کیا تھا تب موجودہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر داخلہ شیخ رشید خادم رضوی مرحوم اور تحریک لبیک کے سپورٹرز تھے, بلکہ حکمران جماعت تحریک انصاف کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے منتخب اراکین نے تحریک لبیک, عاشق رسول, مجاہد ختم نبوت جیسے سلوگنز کو اپنے انتخابی کمپئین کا حصہ بنایا تھا-

 

2017 میں جب تحریک لبیک احتجاج پر نکلی تھی , تب موجودہ حکمران اس تحریک کے ساتھی یا اتحادی تھے, تحریک لبیک گرچہ ایک مزہبی سیاسی تنظیم یا جماعت ہے لیکن اس کے پیچھے کون ہے, کون سی قوتیں انہیں فنڈ کرتی آرہی ہے, پس پردہ کون سی طاقتیں انہیں سپورٹ کررہی ہے- اس جیسی بہت سارے سوالات موجود ہیں-

اور ان سوالات نے 2017 سے ہی جنم لیا ہے جب عسکری محکمے کے اعلی' افسران نے تحریک لبیک کے فیض آباد دھرنے میں شامل ہوکر , خادم رضوی کو مناکر ان کے کارکنان کو دھرنا ختم کرنے کا کہا اور واپسی پر انہیں پیسے بھی دیئے گئے- 

بلکل اسی طرح اس بار بھی جب تحریک لبیک کے موجودہ سربراہ سعد رضوی کے گرفتاری کے بعد کارکنان نے احتجاج شروع کیا تو حکومت کے بجائے ایک فوجی آفیسر نے تحریک لبیک کے ساتھ مذاکرات کیے اور انہیں احتجاج ختم کرنے کی درخواست کی, اسی رات فوجی گاڑی میں سوار اہلکاروں نے احتجاج میں شامل ہوکر نعرے لگائے, ایک فوجی سپاہی نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ اگر تحریک لبیک کے مطالبات نہیں مانے گئے تو وہ بھی میدان میں نکلیں گے-

فرانس نے جب گستاخانہ خاکے شائع کیئے تو ساری مسلم دنیا کی طرح پاکستان میں بھی عوام نے فرانس کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا اور تب تحریک لبیک پاکستان نے حکومت کے سامنے فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا- تب  تحریک لبیک کے ساتھ حکومت نے معاہدہ کیا تھا اور ان کے مطالبات ماننے پر آمادگی ظاہر کی گئ تھی-

جس میں 20 اپریل تک کا ڈیڈ لائن دیا گیا تھا کہ 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کیا جائے گا اور فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کیئے جائینگے- جس پر حکومت نے آمادگی ظاہر کی تھی, بلکہ خود وزیر اعظم نے اپنے تقریر میں کہا تھا کہ ملک کے لیئے خوشخبری ہے کہ تحریک لبیک کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوئے ہیں-

 

پہلے تو یہ کہ اگر حکومت نے اب پابندی لگانی تھی تو پہلے ان کے ساتھ مذاکرات کیوں کی اور ان کے مطالبات کیوں مانے گئے,

اگر اب ان کو دہشت گرد قرار دینا تھا تو پہلے کیوں پابندی نہیں لگائی گئ,

دوسری منافقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت خود ماڈل ٹاون والے واقع کا رونا روتے تھے لیکن سب خود اسی طرز کی کاروائی کی گئ-

ایک  کہ آپ نے پابندی لگا دی ٹھیک ہے لیکن کسی کے ذاتی جائیداد کو ضبط کرنا, سیدھی گولیاں چلانا, مظاہرین پر تیزاب بہانا کونسا انصاف ہے-

سوال یہ بھی بنتا ہے کہ تحریک لبیک کو فنڈز دینے والوں, سپورٹرز, ان کے دھرنوں میں باوردی شرکت کرنے والوں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی جارہی, ان کے جلاف تحقیقات کیوں نہیں ہورہی, ان کو جواب دہ کیوں نہیں ٹہرایا جارہا-

جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کونسا طاقتور طبقہ تحریک لبیک کے پشت پر کھڑا ہے-

اگر ایسے پس پردہ سپورٹرز کے خلاف تحقیقات نہیں ہورہی تو یہ بات بھی بعید از قیاس نہیں کہ نواز دور میں موجودہ وزیر اعظم بھی تحریک لبیک کو ان ہی طاقتور طبقے کے کہنے پر سپورٹ کررہاتھا-

ایک قیاس آرائی یہ بھی ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کو مطمئین کرنے کے لیئے بھی ایسا ڈرامہ رچایا جاسکتا ہے کہ دیکھے ہم دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو کیسے ڈیل کررہے ہیں-

جب کہ سب سے مضبوط اور ذیادہ معتبر سمجھی جانی والے رائے یہ ہے کہ دانستہ طور پر ملک کو سیاسی عدم استحکام , افراتفری اور ایمرجنسی کی جانب دھکیلا جارہا ہے, تاکہ عوام اور دنیا کی نظروں میں پاکستانی سیاستدانوں کو نا اہل, نکمے, غیر فعال اور بے کار ثابت کیا جاسکے- جس کا فائدہ ایک ہی طاقتور طبقے کو ھوگا اور ان کا راستہ صاف ھوگا-

ضیاء دور اور افغان جنگ کے زمانے کے مذہبی رہنماء جو سول ملٹری اسٹبلشمنٹ کے پے رول پر تھے آج پھر چوکس نظر آرہے ہیں- سیاسی مذہبی قیادتیں اور مذہبی رہنماوں نے تحریک لبیک کو حکومت کے مقابلے میں سپورٹ کرنے کا اعلان کیا ہے- جمیعت علماء اسلام ف کے سربراہ فضل الرحمان, بریلوی رہنماء مفتی منیب, جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے بھی تحریک لبیک کو صحیح قرار دیا ہے- جو کہ ملکی سکیورٹی حالات کے ابتری کی طرف اشارہ کرتی ہے-

کل جب مولانا فضل الرحمان سے تحریک لبیک کے حوالے سے سوال کیا گیا تو اس نے عجیب سا جواب دیا , کہ اگر اس ملک میں پشتون تحفظ مومنٹ کی طرح , قام پرست, انتہاء پسند اور دہشت گرد تنظیمیں پنپ سکتی ہیں تو تحریک لبیک کو بھی اجازت ہونی چاہیے-

مولانا نے ایک طرف تو تحریک لبیک کو سپورٹ کیا تو دوسری جانب پی ٹی ایم جیسی عدم تشدد کے پیروکار تنظیم کو دہشت گردوں سے تشبیہہ دی جو کہ افسوس کی بات ہے-

اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ مولانا فضل الرحمان کو پشتون تحفظ مومنٹ سے کیا مسئلہ ہے-

پی ٹی ایم تو عدم تشدد, آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر, آئین و قانون کی بالادستی, احتساب, انصاف , بنیادی انسانی حقوق کی بات کرتا ہے- پی ٹی ایم کے ساتھیوں پر آئے روز پرچے کٹ رہے ہیں- درجن دوست اب بھی جیلوں میں ہیں- 

 کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے, ہر زبان, رنگ , نسل , علاقے اور سیاسی جماعتوں کے کارکن پی ٹی ایم کے سپورٹرز ہیں- کسی بھی مذہبی یا سیکولر سیاسی جماعت کی حامی یا مخالف نہیں ہے- 

ہاں ریاستی اداروں کی جانب سے گڈ طالبان کے پرورش پر تنقید کرتی رہتی ہے- 

مولانا صاحب کو یاد رکھنا چاہیئے کہ تحریک لبیک نواز دور میں بھی احتجاج پر نکلی تھی , موجودہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ بھی تحریک لبیک کے سپورٹرز تھے , اس وقت آپ نے کیوں تحریک لبیک کو سپورٹ کیوں نہیں کیا- کیا اس وقت آپ نواز شریف کے اتحادی تھے یا عمران خان کے مخالف تھے- 

خیر چھوڑیں اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں کہ مولانا صاحب

 تحریک لبیک کو سپورٹ کرتے ہیں کہ نہیں, لیکن بس سوال یہی رہے گا کہ مولانا صاحب کو پشتون تحفظ مومنٹ سے کیا مسئلہ ہے- 

مولانا صاحب اگر آپ نے تحریک لبیک کو سپورٹ کرنا ہے, حکومت پر تنقید کرنی ہے, کسی سے اختلاف کرنا ہے وہ آپ کا حق ہے لیکن یہ کہنا کہ پی ٹی ایم دہشت گرد تنظیم ہے تو تحریک لبیک کو بھی اجازت ہونی چاہیئے, بلکل بے تکی بات ہے- 

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پی ٹی ایم کے بیانیئے کہ گڈ طالبان, دہشت گرد تنظیموں  پابندی, اسٹبلشمنٹ اور عسکری اداروں سے جواب طلبی ہونی چاہیئے - اس بیانیئے سے آپ کو تکلیف ہے- کیونکہ خان کی حکومت تو بہترین کارکردگی دکھارہی ہے, دوسری جانب پیپلز پارٹی اسٹبلشمنٹ کے کہنے پر حکمران جماعت کا غیر اعلانیہ اتحادی بن چکا ہے, خان کے حکومت کے بعد ہوسکتا ہے کہ پی پی پی کو مرکز میں اتحادی حکومت بنانے کی یقین دہانی کرائی ھوگی-

 اور آپ پی پی والوں کے اتحادی حکومت میں کوئی وفاقی وزیر مشیر لگیں گے- 

اگر موجودہ ملکی حالات ایمرجنسی کی جانب جاتی ہے, کہیں پر گورنر راج لگتا ہے  تو پھر تو صدارتی نظام, عبوری باوردی صدر کے لیئے راہ ہموار ھوگئ, پھر عمران خان کی مخالفت میں آپ پنڈی بوائز کے حمایتی ہونگے, 

اور پنڈی بوائز کو پی ٹی ایم سے بڑی تکلیف رہتی ہے- 

تو مولانا صاحب آپ کا پی ٹی ایم پر تنقید سمجھ میں آجاتا ہے-

دوسری جانب موجودہ حکمران کہ جس کو ہر وقت آل اوکے رپورٹ ملتا ہے, لیکن ملک کی سکیورٹی اور معاشی حالت روبہ زوال ہے- 

پنجاب میں پہلے تو تحریک لبیک والوں کو پر امن احتجاج کرنا چاہیئے تھا- 

توڑ پھوڑ اور تشدد کا راستہ اپنانے کی وجہ سے آج انہیں خود نقصان اٹھانا پڑھ رہا ہے- جبکہ دوسری طرف وہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کہ پچھلے دور میں سیاسی انتقام کی وجہ سے اسی تنظیم کے سپورٹر تھے- 

پہلے حکمران جماعت اور اس کے سربراہ ماڈل ٹاون کو یاد کرکے روتے تھے لیکن آج خود وہی چیزیں دہرائی-

وزیر اعظم, حکمران جماعت اور وہ جمہور جو جمہوریت اور انصاف پر یقین رکھتے ہیں پہلے تو مقننہ کی تکریم کو خود بحال کریں, 

تحقیقات کروائے کہ تحریک لبیک کو پہلے کون لوگ سامنے لائے, کس نے فنڈز دیئے, کس کے کہنے پر نکلتے ہیں, پہلے روز کے مظاہرے میں فوجی افسر کس کے کہنے پر آیا تھا, پھر فوجی گاڑی میں کھڑے سپاہی کس کے کہنے پر احتجاج میں شریک ہوئے تھے-

جب تک بنانے والوں, فنڈ کرنے والوں سے نہیں پوچھا جاتا , تب تک تحریک لبیک پر پابندی , اثاثے منجمد کرنا, دہشت گرد تنظیم قرار دینا بے معنی ہے-

مملکت خداداد میں کیا سیاسی لوگ کیا مذہبی لوگ , سب جھکتے اور بکتے آرہے ہیں-

دانستہ طور پر سیاستدانوں, جمہوری نظام, پارلیمانی طرز حکمرانی کے خلاف گت جھوڑ ہورہا ہے- سیاستدانوں کو ایک دوسرے سے مشت و گریباں کرکے کوئی اور ہیرو بنتا جارہا ہے- جب بھی ان کے اختیارات کو محدود کرنے , جواب دہ ہونے کی بات سامنے آئے گی ,تب تب ملک میں سیاسی عدم استحکام, دھرنے,  پر تشدد مظاہرے سامنے آتے رہیں گے- بات مولانا کی ہورہی تھی , تو مولانا صاحب اگر پی ٹی ایم کے خلاف جتنا زہر اگل سکتے ہیں اگل لے- پی ٹی ایم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا- پی ٹی ایم اپنی آئینی و قانونی جدوجہد پر امن طریقے سے جاری رکھے گی -

بس اب آرزو یہی بچتی ہے کہ سیاسی ورکرز, جمہوریت پر یقین رکھنے والوں ,مخلص سیاستدانوں, عدلیہ , وکلاء و صحافتی برادری, سول تنظیموں اور معاشرے کے عام فرد کو اس بات کا ادراک ہوجائے,جمہوریت اور جمہوری نظام کے خلاف اس سازش کو بھانپ سکے, اس کے تدارک کے لیئے کمر کس لے, متحد ہوکر غیر جمہوری قوتوں کا راستہ روکے, ورنہ بہت دیر ہوجائے گی-

بشکریہ اردو کالمز