(افکاری علوی)
بہت لکھا گیا ہے, سب کو پتہ بھی ہے کہ ظالم کون ہے-
بلوچستان کے حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں-
اغواء, ماورائے عدالت قتل اور بوری بند لاشیں کوئی نئ بات نہیں ہے-
بس دل بوجھل تھا جب معلوم پڑا اور تصویر نظر سے گزری تو دل مئں ایک ہوک سی اٹھی مختصرا" یہ کہ اب کسی سے اچھائی کی امید نہیں اور نہ ہی اس اغواء و قتلستان , طاقتستان و جرنیلستان میں زندگی گزارنے کا دل کرتا ہے- سیاست وصحافت کے طالب علم کی حثیت سے لکھنا مجبوری ہے-
چپ نہیں رہا جاتا اس لیئے چند حروف رقم کرنے بیٹھ گیا-
زیر نظر تصویر تربت میں سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں قتل ہونے والے حیات کی ہے جس کی لاش والدین کے سامنے پڑی ہے اور وہ اپنے بیٹے کے قتل پر ماتم کناں ہیں-
حیات کراچی یونیورسٹی کا طالب علم تھا-
اس کا جرم یہ تھا کہ بلوچوں کی حقوق کی بات کرتا تھا,
بلوچستان میں سکیورٹی اداروں کے ظلم کے خلاف عام آدمی کو شعور دلا رہا تھا کہ اپنے حق کے لیئے,اپنے بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کے حصول کے لیئے کھڑے ہو جائے-
اپنے لوگوں کے لیئے آئین و قانون کے مطابق کیئے گئے وعدے کیمطابق اپنے حقوق اور اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کے لیئے کوشاں تھا-
لیکن پھر کیا فرعونوں کو حیات کی یہ ادا پسند نہیں آئی کہ وہ کس طرح ظلم کے خلاف بول سکتا ہے,
کس طرح ظالم کے سامنے کھڑا ہوسکتا ہے,
کس طرح اپنا حق مانگ سکتا ہے,
بس کیا تھا غدار اور ملک دشمن ٹہرایا گیا اور ابدی نیند سلایا گیا-
انصاف, حق, مظلوم کی داد رسی, بنیادی انسانی حقوق, سیاسی ,جمہوری و آئینی حقوق سب کتابی باتیں ہیں-
میرے حساب سے تو انسانیت کی موت ہوچکی ہے-
انصاف, آئین و قانون ہار چکے ہیں-
کوئی پوچھنے والانہیں ہے-
کسی پر بھی غداری کا ٹھپہ لگانا, اٹھانا, قتل کرنا ان با وردی دہشت گردوں کے لیئے کوئی بڑا کام نہیں-
کہنے کی حد تک جمہوریت, عدالت, آئین و قانون, انصاف سب موجود ہیں لیکن ان طاقتور اور مغرور فرعون نماوں کے لیئے کوئی حد ہی مقرر نہیں-
کوئی قانون نہیں, کوئی پوچھنے والا نہیں, برائے نام جمہوریت, برائے نام سیاسی نظام,
کسی بے حس وزیر, سیاسی نمائیندے,صدر ,وزیر اعظم , وزیر اعلی ,گورنرز کی جرات نہیں کہ ان غنڈوں اور دہشت گردوں کو لگام دیں, اپنے حد میں رہنے کو کہیں-
اللہ کسی کو یہ دن نہ دکھائے کہ ان کے پیاروں کو اٹھایا جائے, ان کو غدار ٹہرا کر والدین کے سامنے گولی مارا جائے,
اور گولی بھی کون مارے جو اپنے آپ کو آپ کا محافظ کہیں,
جو حقیقت میں آپ کا چوکیدار ہو-
ظلم کی حد ہوتی ہے,
ظلم اور ظالم کو ایک دن مٹنا ہی ہوتا ہے-
میرا تو اس نظام, اس ملک, یہاں کے آئین و قانون, سیاسی و عدالتی نظام سے یقین اٹھ چکا ہے, عجیب سی بے چینی اور دکھ کا احساس ہے,
جب محافظ قاتل بن جائے,
جب اپنا پرایا ہو جائے,
جب حق مانگنے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والے کو غدار, دہشت گرد ٹہرا کر ماردیا جاتا ہو تو ایسے گھٹن زدہ ماحول میں کون رہنا چاہے گا-
آخر مئں کہنا یہ تھا کہ بس یا تو بہت ذیادہ خون بہے گا یہ آندھا اور بہرہ ہوکر زندگی گزارنی پڑے گی-