امن کا خواہاں کوئی نہیں,
ہر ایک کے اپنے مفادات وابستہ ہوتے ہیں,
پہلے افغان سرزمین پر روس اور امریکی جنگ لڑی گئ,
امریکی مفادات کے تحفظ کے لیئے سی آئی اے, عرب شیوخ اور آئی ایس آئی نے ملکر القاعدہ اور طالبان کا قیام عمل میں لایا گیا,
اب جب چین ایک بڑی معاشی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے اور امریکہ نے افغان سرزمین سے انخلاء کی تو اب ان ہی طالبان کو دوبارہ استعمال کیا جارہا ہے,
اب کے بار امریکہ اور چین کی اقتصادی سرد جنگ کا آغاز ہوچکا ہے,
وہی طالبان جو کسی زمانے میں امریکہ کے ڈئیر تھے اب چین کے قریب ہونے لگے,
آج طالبان کے بانی اور چین کے وزیر خارجہ کے ملاقات اور پھر چین کی جانب سے طالبان کی مشروط حمایت و امداد کا اعلان خطے کے امن کے لیئے خطرے کی گھنٹی ہے-
چین نے واضح طور پر طالبان کی مدد اور حمایت کے بدلے میں شرائط رکھ لیئے ہیں کہ افغان طالبان سنکیانگ میں ایغوروں کی حمایت نہیں کریں گے, ہندوستان کا افغانستان میں کردار محدود ہوگا,
افغان سرزمین کسی بھی ایسے عمل کے لیئے استعمال نہیں کیا جائے گا کہ جس میں چین کے مفادات کو نقصان کا خدشہ ہو-
اگر افغان طالبان افغانستان یا اس کے کچھ حصے پر قابض ہوکر حکومت قائم کرتی ہے اور چین کی مدد یا حمایت حاصل کرتی ہے تو پاکستان نے جس طرح پہلے امریکی اتحادی ہونے اور ڈالرز کے عوض طالبان کی مدد و حمایت کی تھی, بلکل اسی طرح اب چین کی شہد والی میٹھی دوستی کی وجہ سے پاکستان ایک بار پھر طالبان کی حمایت کریں گا, کیونکہ سی پیک کی وجہ سے پاکستان کھبی بھی چین کو نا نہیں کہے گا-
دوسری جانب روس , ایران اور ترکی امریکہ کے حریف ہوتے ہوئے بھی طالبان کو نہیں چاہتا,
روس اور ترکی نے تو طالبان کو واضح پیغامات دیئے ہیں کہ وہ افغان حکومت کے خلاف فساد بند کریں اور جمہوری طریقے سے افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ کریں-
اس کے علاوہ پاکستان کے لیئے افغان طالبان کی حمایت ایسی ہی ہوگی جیسے وہ ٹی ٹی پی کی حمایت کررہے ہیں-
کیونکہ القاعدہ اور طالبان نے ملکر ہی تو ٹی ٹی پی کے قیام کو تسلیم کیا تھا یا بنایا تھا- چین کی حمایت کرنے کے بعد پاکستان خودکار طور پر طالبان کا حمایتی بن جاتا ہے- جس کا نقصان یہ ہوگا کہ پاکستان میں طالبان کی ری گروپنگ جو کہ سال بھر پہلے سے ہورہی تھی اور تیزی پکڑے گی- ٹی ٹی پی کی جانب سے بھی واضح پیغام آیا ہے کہ وہ پاکستان خصوصا" پختونخواہ اور بلوچستان کی سرزمین پر امارت اسلامی کے قیام کی کوششیں کرینگے-
یہ بات سمجھ لینی چاہیئے کہ افغانستان کی جمہوری حکومت پاکستان کے امن کے لیئے بہتر ہے اگر اس سے چاہے سفارتی تعلقات جس نوعیت کے بھی ہو-
لیکن افغانستان میں طالبان حکومت کا مطلب ہے پاکستان میں , پختونخواہ اور بلوچستان میں انتہاء پسندی اور دہشت گردی-
ریاست پاکستان کے سرکاری یا سیاسی نمائیندے یا حکومت گرچہ قومی , علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر بار بار کہہ رہے ہیں کہ ہم طالبان کو سپورٹ نہیں کررہے, لیکن جب طالبان کے گھر پاکستان میں ہو, بچے ادھر پڑھ رہے ہو, علاج ان کا ادھر ہورہا ہو, پناہ یہاں پر لے رہے ہوتے ہیں تو اس کا صاف مطلب ہے کہ ہم نا چاہتے ہوئے بھی ان کو سپورٹ کررہے ہیں- جب مقبول سرکاری رائے اور خواہش بھی طالبان کے لیئے ہو تو دنیا کو بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا-
دہشت گردی کے ساتھ ساتھ پھر پاکستان کو ایک دفعہ پناہ گزین کا بوجھ برداشت کرنا پڑیں گا- کیونکہ پہلے اقوام متحدہ سے سالانہ 133 ملین ڈالرز ملتے ہیں جس کے بدلے مہاجرین کو پناہ دی گئ ہے, جبکہ اس بار طالبان کی حمایت یا چین کا طالبان کی حمایت کی وجہ سے ہمیں راضی ہونا پڑیں گا-
اس کے ساتھ ساتھ پختونخواہ اور خصوصی طور پر قبائلی اضلاع ایک بار پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں آئے گا- پھر سے لوگ آئی ڈی پیز بنیں گے, پھر سے سکیورٹی فورسز پر حملے ہونگے, پھر بم دھماکوں کی گونج گرج سنائی دے گی, پھر سے فوجی آپریشنز لاونج کیئے جائینگے, پھر سے معاشی نقصان اٹھانا پڑیں گا-
اور یہ سب اس لیئے ہوگا کیونکہ ایک تو چین کا طالبان کا مشروط حمایت کا اعلان, جس سے واضح اشارہ مل رہا ہے کہ پہلے تو امریکہ نے القاعدہ اور طالبان کو پاکستان کی مدد سے روس کے خلاف لاونچ کیا لیکن نقصان افغانوں/ پختونوں , افغانستان اور پختونخواہ کے سرزمین کو اٹھانا پڑا, اب کی بار چین اپنی معاشی و تجارتی مفادات کے خاطر اور ہندوستان کے دشمنی , ون روڈ ون بلٹ اینشٹیو کی وجہ سے مجبور نظر آتا ہے, کیونکہ چاہے کسی کا خون بھی بہے, چین کو امریکہ کے مقابلے میں معاشی طاقت بننا ہے-
سی پیک کا اگرچہ ماخذ گوادر کو سمجھا جارہا ہے لیکن اصل میں سی پیک چین کے one road one belt innatiative کا ایک حصہ ہے, اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو بھی اسکا فائدہ ہے لیکن پاکستان اب چین کا معاشی غلام بن چکا ہے, سی پیک کی تکمیل بھی چین کے بغیر ہمارے لیئے ممکن نہیں رہا, اس لیئے پاکستان کا چین کے ہر فیصلے کے سامنے سرخم تسلیم کرنا فطری بن جاتا ہے-
جبکہ دوسری جانب امریکہ چین اور پاکستان کے اس عالمی معاشی منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار نہیں دیکھ سکتا, اس لیئے اب کی بار خطے میں چین اور امریکہ کا اقتصادی سرد جنگ تو شروع ہوچکا ہے جبکہ ایکٹیو وار کے لیئے افغانستان اور پختونخواہ کا میدان سجایا جارہا ہے, امریکہ اور بھارت کی اپنی کوشش ہوگی کہ اگر طالبان کو برسراقتدار آتے دیکھا تو با امر مجبوری طالبان حکومت کو اپنے مفاد کے لیئے استعمال کرنے کی کوشش کریں گے, جبکہ چین نے تو آج واضح طور پر طالبان نمائیندے کو مشروط حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی,
اب یہ معاملہ گمبھیر مرحلے میں داخل ہوچکا ہے, طالبان برسراقتدار آنے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ نہیں, امریکہ طالبان کو رام کرینگے کہ نہیں, اور یہ آپشن امریکہ نہیں چھوڑا بھی ہے کیونکہ امریکہ بغیر امن معاہدے کے بھی افغانستان سے نکل سکتا تھا, لیکن اپنے عوام کو جنگ جیتنے کی باور کرانے کے لیئے امن معاہدے کا ڈرامہ ضروری تھا, یا چین کی حمایت یافتہ طالبان افغانستان میں حکومت قائم کرتے ہیں-
اگر طالبان حکومت کا قیام ہوتا ہے, چین کی مشروط حمایت حاصل ہوتی ہے تو پھر امریکہ ٹی ٹی پی کو ٹریگر کریں گا اور چین , پاکستان اور حتی' افغان طالبان کے خلاف استعمال کریں گا- جس کا خمیازہ بلعموم سارے پاکستان اور باالخصوص طور پر پختونخواہ اور افغانستان کے عوام کو جنگ, دہشت گردی, خانہ جنگی, بم دھماکوں , تباہ حال انفراسٹکچر, تباہ حال معیشت کے شکل میں بگھتنا پڑے گا-
اس سارے معاملے پاکستان بحثیت ریاست کنفیوز نظر آرہا ہے, طالبان کی حمایت نہیں بھی کررہے لیکن پھر بھی کرتا نظر آرہا ہے, چین کو ناراض نہیں کیا جاسکتا لیکن امریکہ کی طرف سے بھی ٹی ٹی پی کے زریعے دہشت گردی کا خطرہ ہے,
بحثیت ریاست پاکستان کی نا تو کوئی واضح خارجہ پالیسی نظر آتی ہے, نہ ہمسایوں کے ساتھ اعتماد کا رشتہ , نہ اپنا کوئی دفاعی حکمت عملی اور نہ ہی اپنے عوام کے تحفظ کا کوئی پلان- کیونکہ یہاں ریاستی فیصلے ایک محکمہ کرتی ہے, فیصلہ سازی اور خارجہ پالیسی وہی بناتے ہیں, اس کے منہ کو خون کا ذائقہ لگ چکا ہے, پیسوں کے عوض عالمی طاقتوں کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانا کوئی نئ بات نہیں- کیونکہ ایک جنگی مشینری کی افادیت صرف جنگ میں اور برسرپیکار رہنے ہی میں ہوتا ہے-
جبکہ افغانوں/ پختونوں کی قسمت میں بدبختی, جنگ, دہشت گردی, علاقہ بدر ہونا , ان کا خون بہنا ہی مقدر ٹہرایا جاچکا ہے-