جن دنوں بھٹو دور کے ایک وزیر نے لات ماری تھی، شدید بیروزگاری، غربت کی مارا ماری اوربڑی مشکل میں جان ہماری تھی ۔ایک پولیس والے سے یاری ہوگئی، واقع کاری ہوگئی اورہم دونوں کے درمیان دوستی طاری ہوگئی، ہم بیروزگارتھے ،خدائی خوار تھے، بے یارومددگار تھے اورزندگی بیزار تھے جب کہ وہ سپاہی سے چلتا ہوا ایس پی کے درجے پر پہنچاتھا اور محکمے نے اسے ایک ایسی پوسٹ پر تعینات کیاتھا جہاں آرام ہی آرام تھا ،کلام ہی کلام اوروہ کام بالکل ہی حرام تھا چنانچہ اسے شاعری لاحق ہوگئی اوریوں ہم دونوں میں جم گئی، وہ تقریباً ہر،پوسٹ پر رہا تھا اور ہر ہر علاقے میں رہا تھا، اس کے پاس انتہائی دلچسپ واقعات کا ایک بہت بڑا ذخیرہ تھا ،ہمیں واقعات سننے کاشوق تھا اوراسے سنانے کاذوق تھا ،ان میں ایک کہانی اس کی زبانی اوربہت پرانی یوں تھی ۔ کہ جب میں تھانے پہنچا تو ایک جم غفیر اکٹھا تھا، پتہ چلا کہ ایک گاؤں میںکوئی سانحہ ہو گیا ہے اور اس کا ذمے دار موقع سے فرارہونے میں کامیاب ہوگیا ہے لیکن اس کی تلاش میں گاؤں کا سیلاب تودستیاب ہوگیا اور اس سیلاب نے ملزم کو پکڑ لیا تھا اور پھر اسے تشدد کر کے قتل کر دیا تھا۔دوتین دن گزرچکے تھے، میں اپنے تھانے میں بیٹھا تھا کہ سنتری ایک گھبرائے ہوئے شخص کو میرے پاس لاکر بولا کہ یہ آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہے ۔ سنتری کو رخصت کیا، میں نے اس سے پوچھا ،کہو کیا بات ہے ، ہاں پہلے اپنا پتہ بتاؤ، اس نے فلاں گاؤں کا نام لیا تو میں چونک گیا، یہ وہی گاؤں تھا جہاں گزشتہ دنوں ہجوم کے ہاتھوں قتل کا واقعہ ہوا تھا، تب میں نے اندازہ لگایا کہ یہ شخص وہیں کا رہنے والا ہے اور اسے کچھ معلوم ہے۔ میں نے کہا اچھا تو تم اسی گاؤں کے رہنے والے ہو۔وہ بولا۔ وہ نہ زندیق تھا، نہ خبیث بلکہ معصوم اوربے گناہ، بے خطا مارا گیا ۔بات دلچسپ تھی میں نے اسے کرسی پر بٹھایا اورماجرا پوچھا ، اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ بولا، میں اورمقتول ساتھ ساتھ رہتے تھے، نہایت ہی سیدھا سادا ،ایماندار اورکسی حد تک بھولاآدمی تھا ۔ اس دن ہم جب گاؤں سے کچھ فاصلے پر اکٹھے ہوئے تو کچھ دیر بعد اس نے کہا کہ تم یہاں میرا انتظار کرو میں گھر میں کچھ پیسے بھول آیا ہوں، ایک زمیندار سے کھیت خریدا ہے اورآج اسے رقم دینے کا وعدہ ہے ۔ وہ چلا گیا لیکن کچھ دیر بعد دوڑتا گرتا پڑتا اورانتہائی گھبرایا ہوا آکر بولا ۔جب میں گھر پہنچا تو میری خوابگاہ میں دروازہ بند تھا، میں نے پکارا ،تو بیوی نے کہا ،ٹھہرو کھولتی ہوں، کچھ کھسر پھسر ہوتی رہی ، پھر اچانک دروازہ دھڑاکے سے کھلا اور ایک شخص مجھے دھکا مارکر بھاگ نکلا ، میں اس کے پیچھے دوڑا لیکن وہ نکل چکا تھا، پلٹ کر دیکھا تواس شخص نے بھاگتے ہوئے جلتے ہوئے چولہے میں کچھ کاغذ پھینک دیے،اسی دوران کچھ خواتین اندر آئیں اور انھوں نے شور مچا دیاکہ میں نے یہ کاغذ چولہے میں پھینکے تھے۔مزید مرد خواتین پڑوس سے پہنچ گئے اورمیں سمجھ گیا کہ میری خیر نہیں، اس لیے بھاگ آیا، میں بھاگ کر کہیں چھپتا ہوں، لوگوں کو مت بتانا کہ میں کس طرف گیا ہو ۔ کہانی سن کر محرر کو بلایا اور کہا کہ اس کا بیان قلم بند کردو۔میں کرسی میں آنکھیں بند کرکے سوچنے لگا، سوچتے ہوئے اچانک ذہن میں ایک خیال آیا،پھر محرر کو بلا کر کہا کہ چار سپاہیوں کا بندوبست کردو۔ گاؤں پہنچ کر سیدھا مقتول کے گھرپہنچا ، اس کی بیوی سے کہا کہ تمہارے یار کو ہم نے پکڑ لیا ہے اور وہ سچ اگل چکا ہے اورسارا الزام تم پر لگا چکا ہے، اب تم بولو ۔وہ کوئی جرائم پیشہ اور چالاک عورت تو تھی نہیں، جھانسے میں آئی اورپھٹ پڑی،قتل کا محرک جو شخص تھا جو موقع سے نکل گیا تھا‘ اس شخص کو بھی ہم نے پکڑ لیا ،کسی کوہستانی علاقے کا ہٹا کٹا جوان آدمی تھا ۔
مجرم یا بے گناہ جن دنوں بھٹو دور کے ایک وزیر نے لات ماری تھی، شدید بیروزگاری، غربت کی مارا ماری اوربڑی مشکل میں جان ہماری تھی ۔