تحقیق: امجد علی اتمانخیل
امجد علی خان صاحب جو کہ ایک معلم و مدرس ہے اور ہندو پاک کی تاریخ پرریسرچ بھی کیا ہے-
امجد صاحب ایک بہترین مصنف اور مورخ ہے-
میرے والد مرحوم کے دوست اور کولیگ بھی رہے ہیں-
امجد علی صاحب کا محبوب مشغلہ پختونخواہ میں موجود مختلف تاریخی مقامات کی سیر کرنا, تصاویر لینا اور سوشل میڈیا پر ان کے متعلق معلومات بہم پہنچانا ہے اور اکثر اوقات ان کے بارے میں لکھتے رہتے ہیں-
دیگڑھ راج کا علاقہ چونکہ امجد صاحب کے گاوں کے قریب ہے اور ملنے پر ہم اکثر اس سے دیگڑھ راج کے بارے میں ہی پوچھتے رہتے ہیں -
آج امجد صاحب کی تحریر فیس بک پر دیکھی تو ذہن میں یہ خیال آیا کہ چلو امجد صاحب کے قیمتی اور معلوماتی تحریر کو قارئین کے خدمت میں پیش کرتے ہیں-
میرے آبائی گاؤں گڑھی عثمانی خیل سے تین کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہریانکوٹ گاوں ڈسٹرکٹ ملاکنڈ میں ہندوشاہی دور سے وابستہ تاریخی ُمقام دیگڑھ راج واقع ہے-

تصاویر میں دیگڑھ راج کے مرکزی قلعے کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے جن کے آثار زیادہ ختم ہوچکے ہیں-
کُچھ مہینوں پہلے ہمارے دوست مُحمکہ آثارِ قدیمہ کے آئے تھے اُنہوں نے سروے بھی کیا لیکن لاحاصل-
کوشش ہے کہ یہ تاریخی آثار محفوظ رہیں ان کو سرکار محمکہ آثارِ قدیمہ کے حوالے کرے اور ان کوNational Heritage کا درجہ ملے-
ہندوشاہی دور کی یاد دلاتا ہوا یہ تاریخی مُقام دیگڑھ راج جو 1400 سال پُرانی تاریخ سینے میں چُھپائے ہوئے دُنیا کی نظروں سے اُوجھل- کتنے تاریخی مُقامات کی کُھوج کے حوالے سے انگریز کے دور سے لیکر آج تک ملاکنڈ ڈویژن میں کام ہوا لیکن جو اصل تاریخ دیگڑھ راج کی تھی وہ کسی کو نظر نہ آئی-
تین سو کنال سے زیادہ رقبے پر مشتمل تاریخی مُقام دیگڑھ راج اپنی شان و شوکت کُھو رہا ہے- ایک اکیلے ہم کیسے اسکی تاریخ محفوظ رکھ سکے گے؟.
بس اتنا کرسکے گے کہ دیگڑھ راج اور یہاں گُزرے ہوئے ہندوشاہی دور کی یادوں کی تاریخ کو کتابی صورت میں مستقبل میں لکھنے کی کوشش کرے گے-
اور بس تاریخ اسکی تصویروں میں نُمایاں رہے گی-
دوستوں دیگڑھ نام ہندی زُبان کے لفظ گڑھ سے ماخوذ ہے جسکی معنی قلعہ کے ہے. اگر آپ دیگڑھ راج کبھی آئے تو آپ کو یہ مُقام پہاڑوں کے درمیان نظر آئے گا. اسکے تینوں اطراف میں پہاڑ حفاظتی حِصار میں دیگڑھ راج کو لئے ہوئے ہیں-
دیگڑھ راج کا محلِ وقوع یوں ہے کہ درگئ شہر سے جب آپ سوزوکی میں بیٹھ کر بیس روپے کرایہ دیکر ہریانکوٹ آئے تو پھر ہریانکوٹ سے براستہ بابا گانوں بانڈہ تین کلومیٹر کی مسافت طے کرنے کے بعد بجانبِ شمال دیگڑھ راج کے تاریخی آثار آپ دیکھ سکے گے .دیگڑھ راج میں جگہ جگہ آپ کو ہندوشاہی دور کی باقیات کھنڈرات کی شکل میں نظر آئے گے. جن میں قابل دید کُچھ یوں ہیں-
1.باؤلی یا Step Well..

باؤلی ہندی زُبان کا لفظ ہے جسکے معنی سیڑھیوں پر مُشتمل کنواں یہاں دیگڑھ راج کے مرکزی قلعہ کے مرکزی دیوار کے ساتھ ایک باؤلی ہے. جن میں سیڑھیاں نیچھے کنویں کے آخرے سرے تک پُہنچی ہے. یہاں سے ہندوشاہی لوگ پانی حاصل کرتے تھے. اسکے علاوہ اس باؤلی میں ایک خفیہ راستہ بھی تھا ایسا نظر آتا ہے کہ جنگ کے دوران شاید اس خفیہ راستے کے ذریعے پھر قلعے سے باہر نکلنا مقصود ہوں. آجکل یہ باؤلی خُشک ہے. لیکن سیڑھیاں اب بھی اصلی حالت میں دیکھنے کے قابل ہے.
2.دیگڑھ راج کا مرکزی قلعہ:
تصاویر میں آپ دیگڑھ راج کے مرکزی قلعہ ( محل کے مناظر) دیکھ سکتے ہیں. یہ محل نُما قلعہ جس میں وزراء کی رہائش کے لئے چُھوٹے چُھوٹے کمرے بنے ہوئے تھے اور گورنر ( حُکمران) کے لئے محل نُما کمرہ اُونچائی پر بنا ہوا تھا جسکوں سیڑھیاں اُوپر جاتی تھی. یہاں سے ہندو شاہی حُکمران سارے قلعہ پر نظر رکھتا تھا. یہ قلعہ دیگڑھ راج کے عین واقع پہاڑی پر بنا ہوا آپ کو نظر آئے گا-
3 بُرج یا Watch Towers :
دیگڑھ راج میں داخل ہونے کے لئے آپ کو جب باباگانوں بانڈہ کی پہاڑی پر سے گُزرنا پڑے تو اس پہاڑی کے اطراف میں مُختلف مُقامات پر آپ کو Watch Towers کے کھنڈرات کے آثار نظر آئے گے. جن کو دیکھ کر آپ آسانی سے یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ بُرج یا Watch Towers ہندو شاہی دور میں چیک پوسٹوں کے طور پر استعمال ہوتے تھے. جب کوئی باہر سے دیگڑھ راج کی راجدھانی میں داخل ہوتا تو پہلے اُن کو ان چیک پوسٹوں پر سے گُزرنا ہوتا تھا.ان بُرجوں سے سارے علاقے کی نگرانی ہوتی تھی. اب بس اُن بُرجوں کی باقیات کھنڈرات کی شکل میں ہیں جو رفتہ رفتہ اپنے آثار کُھو رہا ہے-
4.دیگڑھ راج راجدھانی سے ہریانکوٹ گاؤں میں زڑہ مینہ تنگی , اوچ تنگی, جمو ہیروشاہ میں موجود چھوٹی چھوٹی ہندو شاہی آبادیوں پر مُشتمل گاؤں کو کنٹرول کیا جاتا تھا. دیگڑھ راج کی راجدھانی اپنی شان و شوکت رکھتی تھی. یہ راج گنڑھ تھا اور ہُنڈ صوابی جو ہندو شاہی دور کے حُکمرانوں کا دارلخلافہ تھا اُنکے ماتخت تھا-
5.دیگڑھ راج کے اطراف میں آجکل گُجر ذات کے لوگوں کے کے دو گاؤں دیگڑھ راج بانڈہ اور ملوکی بانڈہ کے نام سے آباد ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ہندوشاہی دور کی باقیات ہیں جو پھر دیگڑھ راج میں ہندوشاہی دور کا خاتمہ ہونے کے بعد قریبی بانڈہ جات میں جاکر آباد ہوئے.اسلئے دیگڑھ راج میں ہندوشاہی دور کے کھنڈرات کی سیر کرنے کے ساتھ ساتھ گُجر برادری کے ان بانڈہ جات کی سیر بھی آپ سب کرسکتے ہیں -
ہیون سانگ اور فاہیون کے سفر ناموں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ گندھارا(شمال مغربی سرحدی علاقے پشکلا وتی,ٹکساشیلا اریگائن,سواستو, ملاکنڈ, ) میں ہُنوں کے دور کے بعد کابل شاہی دور کی شروعات ہوتی ہے.کابل شاہی دور کو ترک شاہی ,کشتری شاہی,برھمن شاہی کے ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے-
البیرونی کے مطابق کابل شاہی دو حصوں کابل شاہی رتبیلان اور ہندوشاہی پر مشتمل ہیں ,البیرونی کے مطابق کابل شاہی دور 666عیسوی میں شر وع ہوتا ہےاور 177 سال تک یہ حکومت گندھارا میں قائم رہتی ہے.کابل شاہی ( ترک شاہی) حکومت کا بانی بُر ھاتگین تھا.اور اسکا دارالخلافہ کاپیسا بگرام تھا- بُرھاتگین کے بعد کابل شاہی سلطنت کا آخری حُکمران لگا تورمان تھا یہ بُہت ہی نااہل حکمران تھا اور لوگ اسکے روئیے سے بُہت نالاں تھے البیرونی کے مطابق لوگوں نے لگا تورمان کے وزیر کالار کو شکایت کی کہ بادشاہ کا رویہ ٹھیک نہیں .کالار نے اس موقع سے فائدہ اُٹھانا چاہا.اور اُس نے بغاوت کرکے لگا تورمان بادشاہ کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا.اور خود بادشاہ بن گیا.کالار نے کابل شاہی حکومت کا خاتمہ کرکے ہندوشاہی حکومت کی داغ بیل ڈالی .کالار کو ہندوشاہی حکومت کا بانی کہا جاتا تھا .کالا نے گندھارا پر 843 عیسوی سے لیکر 850 عیسوی تک حکومت کی .کالار کے بعد اُسکے جانشین سمنتا دیوا نے گندھارا پر حکومت کی آپ کی حکومت 870 عیسوی تک جاری رہی ,جبکہ دوسری طرف ترک شاہی کے دوسرے حصے کا خاتمہ یعقوب لیث نامی بادشاہ نے پہلے ہی کیا تھا,جبکہ البیرونی کی تحقیق کے مطابق ہندوشاہی دور کا تیسرا حکمران کملو تھا-

کملو کے بعد ہندو شاہی دور کا چوتھا حکمران بھیما دیوا تھا,جسکی حکومت 921 عیسوی سے 926 عیسوی تک جاری رہی ,آپکے دور کے آثار ہُنڈ صوابی سے کُھدائی کے دوران ملے ہیں.ہُنڈ میں میاں کلے,سلام گڑھ,اخوند ڈھیری,عزیز ڈھیری کے مقامات پر اُس دور کے کھنڈرات موجود ہیں. اسکے علاوہ ہندو شاہی دور کے کھنڈرات ملاکنڈ میں جلالہ,کافر کوٹ,ہریانکوٹ ( دیگڑھ راج) ,اوڈیگرام سوات میں پائے گئے ہیں بھیما دیوا کے بعد ویکا دیوا,راجہ جے پال ,انند پال کے علاوہ ہُنڈ صوابی میں آخری ہندو شاہی حکمران بھیم پال کی حکومت کا خاتمہ پھر محمود غزنوی نے کیا,جبکہ اوڈیگرام سوات ملاکنڈ میں آخری ہندوشاہی حُکمران راجا گیرا کی حکومت کا خاتمہ محمود غزنوی کے گورنر پیر خوشحال کے ہاتھ ہوا.اور اسطرح گندھارا میں ہندوشاہی دور کے خاتمے کے ساتھ ہی اسلامی دور کا آغاز ہوا-
آخر میں پھر خیبر پختونخواہ حکومت اور محکمہ آثار قدیمہ سے درخواست ہے کہ کئ سوسال پرانی اس تاریخی مقام کو تاریخی اور قومی ورثہ قرار دیں کر اس کی حفاظت اور مرمت کا بیڑا اٹھائے-
اس سے نہ صرف یہ تاریخی ورثہ محفوظ رہے گا بلکہ سیاحت کو بھی فروغ ملے گا--