ریاست کا کردار کبھی ماں کی طرح ہوتا ہے تو کبھی باپ جیسا اور کبھی اپنے شہریوں سے نرمی سے پیش آتی ہے تو کبھی تھپکی دے کر آگے بڑھنے کا کہتی ہے تو کبھی سہولت دیتی ہے تو کبھی درگزر کرتی ہے اور کبھی یہی ریاست سخت فیصلہ کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے کیونکہ گھر کے چند نافرمان بچے جب ماں کی محبت کو کمزوری سمجھ لیں تو پھر گھر کا نظم و ضبط بچانے کے لیے یہی ریاست باپ کا کردار ادا کرتی ہے۔
آج کا پاکستان بھی اسی نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں دہائیوں تک ریاست نے ماں کی طرح برداشت کیا، پیار دیا، گنجائش نکالی اور بہتری کی امید لگائے رکھی لیکن بدقسمتی سے کچھ نااہل، کام چور، خود غرض اور طاقت کے نشے میں مست عناصر نے اس نرمی کو کمزوری سمجھا اختلافِ رائے کی آڑ میں ریاستی اداروں پر حملے کیے، سیاست کے نام پر معاشرتی تقسیم کو بڑھاوادیا اور ذاتی مفاد کے لیے پورے ملک کو یرغمال بنانے کی کوشش کی نتیجہ یہ نکلا کہ امن و سکون برباد ہونے لگا، اداروں کا احترام مجروح ہوا اور عوام کے زندگیوں کیں مشکلات بڑھنی لگیں ۔
ایسے میں ریاست کے پاس ایک ہی راستہ بچا کہ محبت کے اصول بدل دیے جائیں جو ملک کے لیے خود کو نہ بدلے اسے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی بجائے اس کے ساتھ ویسا سلوک کیا جائے جو ریاست تقاضا کر رہی ہے کہ جذبات نہیں، سیاست نہیں اور صرف ریاست۔
لوگوں کو نعروں کی نہیں سکون کی ضرورت ہے جلسوں کی نہیں روزگار کی ضرورت ہے بیان بازی کی نہیں انصاف ضرورت ہے -
مہنگائی، بیروزگاری، بدعنوانی، رشوت اور سفارش جیسے عفریت عام آدمی کی ہمت توڑ چکے ہیں کرپٹ عناصر سیاست اور بیوروکریسی میں گٹھ جوڑ کر کے ریاستی وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں شکایت کرنے والا متاثرہ شخص مزید ظالموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور فائل بند کر دی جاتی ہے یہ وہ نقطہ ہے جو عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتا ہے اب ریاست کو سخت فیصلے کرنا ہوں گے یہ ملک سیاستدانوں کی نااہلی کا بوجھ کب تک اٹھاتا رہے گا -
پاکستان بدقسمتی سے ایسے سیاستدانوں کے رحم و کرم پر رہا جن کی سیاست کے صرف دو مقاصد رہے ایک اپنے ذاتی کاروبار کو تحفظ فراہم یا اسے مزید بڑھانا
اور دوسرا سیاست کے نام پر لوٹ مار، بھتہ، ناجائز قبضے، چھوٹے جرائم پیشہ گروہوں کی سرپرستی، منشیات فروش عناصر سے مفادات، اور علاقوں میں اپنی اجارہ داری قائم کرنا یہ نو دولتیے سیاستدان عوام کے نمائندے کم اور طاقت کے ٹھیکے دار زیادہ بن چکے ہیں
ریاست کب تک ان کی نالائقی، ان کی کرپشن اور ان کی ضمیر فروشی کا بوجھ اٹھائے؟
پاکستان دنیا کے ان چند خوش نصیب ممالک میں سے ہے جسے قدرت نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اس عظیم ملک میں جہاں کئی موسم ، کئی ثقافتیں، کئی زبانیں اور کئی مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک قومی وحدت میں جڑے ہوئے ہیں۔
یہ ملک ایک ایسے خوبصورت گل دستہ کی مانند ہے جس میں کئی رنگ، خوشبو اور تنوع اپنی مثال آپ ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ اس گل دستے کی کوکھ سے ہم نے آج تک کوئی ایسا نظام پیدا نہ کیا جو اس حسن کی حفاظت کر سکے، جو عام آدمی کو تحفظ دے سکے اور جو انصاف کا معیار یکساں بنا سکے اب وقت کا تقاضا ہے کہ ملک کو صحیح راستے پر لانا ہوگا ریاست کو سخت اور غیرجانبدار احتساب کی جانب اقدامات اٹھانے ہوں گے چاہے سیاستدان ہو، بیوروکریٹ ہو یا کوئی طاقتور طبقہ قانون سب کے لیے برابر ہو عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ ، مہنگائی، بیروزگاری اور عدم مساوات کے خلاف سخت پالیسیاں اور فوری اصلاحات ضروری ہیں قیام پاکستان سے لیکر آج تک دو طبقے مسلسل پستے رہے ہیں ایک عام آدمی دوسرا متوسط طبقہ نہ انہیں انصاف ملا، نہ سہولت، نہ تحفظ،
نہ ان کے مسائل سنے گئے اور نہ حل کیے گئے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ریاست کے سب سے وفادار یہی لوگ رہے ہیں اور سب سے زیادہ احتساب، سزا، قربانی اور مشکلات بھی انہی کو جھیلنی پڑیں ہیں-
اب وقت ہے کہ ریاست صرف ان طبقات کو سہولت نہ دے بلکہ ان کو عزت اور تحفظ بھی دے یہی وہ لوگ ہیں جو ملک کی بنیاد ہیں اور انہی کے سہارے یہ ملک کھڑا ہے
ریاست جب باپ بنتی ہے تو اس کا مقصد کسی کو دبانا نہیں ہوتا بلکہ گھر کو سنبھالنا ہوتا ہے۔
قانون کی حکمرانی، ایماندار قیادت، مؤثر نظام اور شفاف ادارے ہی اس ملک کو آگے لے جا سکتے ہیں پیار سے ماننے والے کم ہیں لیکن مضبوط ہاتھ سے سیدھی راہ پر آنے والے بہت ہیں اس لیے ریاست نےضروری سمجھا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو امن و امان اور انصاف فراہم کرنے کے لیے انقلابی اقدام اٹھائے گی تاکہ چند لوگ آزادی کے نام پر بد نظمی، سیاست کے نام پر انتشار اور اختلاف کے نام پر بغاوت پھیلانے سے باز رہیں اور قوم کی حفاظت کے لیے سخت فیصلے لازمی ہوں گے کیونکہ آج ریاست ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے ماں کی طرح پیار کرنے کے بعد اب باپ کی طرح دفاع کرے گی یہ فیصلہ کسی کی ضد یا انا کا نہیں بلکہ ملک کی بقا، عوام کے تحفظ اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا تقاضا ہے کہ اب انتشار نہیں، استحکام ہو، سیاست نہیں، صرف ریاست جہاں ہر شہری کو یہ احساس دلایا جائے کہ پاکستان کی سالمیت سب سے مقدم ہے۔