وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ!
السلام علیکم!
محترمہ وزیر صاحبہ! آپ نے صوبے بھر میں کئی فلاحی کاموں کا آغاز کیا ہوا ہے جس کے ثمرات عام آدمی تک تیزی سے انتظامی اور ترقیاتی اقدامات کے ذریعے پہنچ رہے ہیں ویسے تو پنجاب میں آپ کی حکومت نے کئی منصوبے شروع کر رکھے ہیں جیسے ’’ستھرا پنجاب‘‘ یہ ایک ایسا ماحول دوست منصوبہ ہے جس نے صوبے میں صفائی، نکاسی اور ماحولیاتی نظام کی بہتری میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اسی طرح سرکاری دفاتر میں ’’اوپن ڈور پالیسی‘‘ کی وجہ سے عوامی مسائل مقامی سطح پر حل ہورہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ سیلاب زدہ علاقوں میں’’ڈیجیٹل سروے‘‘ نے فیلڈ میں شفافیت اور بروقت فیصلوں نے سیلاب متاثرین کو حوصلہ فراہم کیا ہے وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ آپ کے ان تمام اقدامات کا سب سے نمایاں اظہار حالیہ سیلابی صورتحال میں دیکھنے کو ملا ہے- جہاں حکومت پنجاب نے سیلاب متاثرین کی فوری امداد، ابتدائی ریلیف اور بحالی کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنائی ہے-
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ حکومتِ پنجاب نے آپ کی قیادت میں حالیہ برسوں میں ترقیاتی نظم و نسق میں کئی مثبت اقدامات کیے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سیلاب جیسی آفات ذمہ دار حکومتی اداروں سے تیز تر ردعمل، وسیع تر حکمتِ عملی اور لچکدار فیصلوں کا تقاضا کرتی ہے۔
موسمِ سرما کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ موجودہ حکومتی کاوشوں میں مزید تیزی اور وسعت پیدا کی جائے۔
محترمہ وزیر اعلیٰ صاحبہ!
پنجاب کے عوام نے ہمیشہ مشکل وقت میں آپ کی قیادت پر بھروسہ کیا ہے اور آج ایک بار پھر سیلاب سے متاثرہ لاکھوں افراد امید بھری نگاہوں سے آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں پنجاب کے مختلف اضلاع میں سیلاب نے جس طرح تباہی مچائی ہے محترمہ وزیر اعلیٰ صاحبہ ! آپ کے علم میں ہے آپ نے سیلاب زدہ علاقوں کے ہنگامی دورے بھی کیے ہیں آپ نے سیلاب متاثرین سے جو وعدے کیے ہیں وہ آپ نبھا رہی ہیں محترمہ وزیر اعلیٰ صاحبہ ! سیلاب نے غریب دیہی خاندانوں کی زندگی کا ڈھانچا ہی بدل کر رکھ دیا ہے خاص طور پر شدید سرد موسم میں کھلے آسمان تلے بیٹھے متاثرین کی حالت زار نہایت تکلیف دہ ہے بچوں، خواتین اور بزرگوں کے لیے یہ موسم کسی آفت سے کم نہیں ہے ۔
گزارش کی جاتی ہے کہ فوری طور پر سیلاب متاثرین کو شیلٹرز، ٹینٹ، کمبل اور خشک راشن فراہم کریں۔ مقامی انتظامیہ کی موجود کوششیں اپنی جگہ مگر ضرورت اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ متاثرہ خاندان آج بھی حکومتی مدد کے منتظر ہیں لہٰذا امدادی سرگرمیوں کو ہنگامی بنیادوں پر تیز کرنا وقت کا تقاضا ہے۔
محترمہ وزیرِ اعلیٰ صاحبہ!
سیلاب سے نہ صرف کسانوں کی فصلیں تباہ ہوئی ہیں بلکہ ان کے مویشی بھی ہلاک ہو گئے ہیں ذریعہ معاش کے تمام ذرائع کو شدید نقصان پہنچا ہے ایسے حالات میں آفت زدہ قرار دیے گئے علاقوں کے افراد کے بینک قرضوں کی معافی کا فوری طور پر اعلان کیا جائے تاکہ وہ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔ قرضوں کا بوجھ ختم کیے بغیر بحالی کا سفر ممکن نہیں۔
محترمہ وزیر اعلیٰ صاحبہ!
سیلاب سے متاثرہ چھوٹے کسان سب سے زیادہ بے بس ہیں ان کے پاس نہ اگلی فصل کے لیے بیج ہے، نہ کھاد، نہ زرعی ادویات۔ گزارش ہے کہ محکمہ زراعت کو نہ صرف فعال کیا جائے بلکہ انہیں یہ واضح ہدایات دی جائیں کہ محکمہ زراعت چھوٹے کسانوں کو جدید بیج، کھاد اور زرعی ادویات مفت فراہم کرے۔
یہ اقدامات نہ صرف متاثرہ علاقوں کی زرعی بحالی میں مدد دیں گے بلکہ غذائی بحران کو بھی روکیں گے۔
سیلاب کے بعد کئی دیہی علاقے اب بھی شہروں سے رابطے سے محروم ہیں سڑکیں بیٹھ چکی ہیں پل ٹوٹ گئے ہیں اور راستے ناقابلِ استعمال ہو چکے ہیں اس صورتحال میں بیماری، بھوک اور بے روزگاری تیزی سے پھیل رہی ہےگزارش ہے کہ روڈ انفراسٹرکچر کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے تاکہ دیہی علاقوں کا شہروں سے رابطہ بحال ہو سکے۔
محترمہ وزیر اعلیٰ صاحبہ!
عوامی شکایات کے مطابق انتظامیہ کا کچھ حصہ صرف فائل ورک تک محدود ہے متاثرہ علاقوں میں کھلی کچہریوں کا انعقاد نہایت ضروری ہے تاکہ عوام کی آواز براہِ راست سنی جا سکے۔
اس کے علاوہ کئی علاقوں سے سنگین شکایات موصول ہورہی ہیں کہ محکمہ مال کے کچھ پٹواری لوٹ مار اور زیادتیوں میں ملوث ہیں یہ نہایت تشویشناک بات ہے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ
وزیرِ اعلیٰ شکایت سیل کو فوری طور پر فعال و موثر بنایا جائے تاکہ
موصول ہونے والی شکایات کا فوری ازالہ کیا جاسکے اور بدعنوان اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
محترمہ وزیر اعلیٰ صاحبہ!
یہ حقیقت ہے کہ آپ نے پنجاب کی بہتری کے لیے کئی انقلابی اور عوام دوست اقدامات اٹھائے ہیں آپ نے حکومتی نظام میں بہت سی مثبت تبدیلیوں کی بنیاد رکھی ہے عوام آپ کی ان کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سیلاب متاثرین بھی سب سے زیادہ امید آپ ہی سے لگائے بیٹھے ہیں۔
البتہ گزارش ہے کہ موجودہ بحران کی شدت صرف فائلوں میں نظر نہیں آتی اسے زمینی حقائق دیکھ کر ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر آپ براہِ راست متاثرہ علاقوں کا دورہ فرمائیں تو حقیقی صورتحال آپ کے سامنے آجائے گی۔
پنجاب کے غریب عوام خصوصاً سیلاب متاثرین کی نظریں آپ پر ہیں۔ آپ کے ایک فیصلے سے لاکھوں خاندانوں کی زندگیاں بدل سکتی ہیں۔ امید ہے کہ آپ جلد از جلد موثر اور فوری اقدامات کا حکم جاری کریں گی۔