65

مشرق وسطی میں طاقت کا توازن اور گہری عالمی سازشیں 

اسرائیل، ایران کےجوہری پروگرام کو اپنا لیے خطرہ سمجھتا ہے دوسرا اسرائیل اپنی دفاعی طاقت کے زور پر مشرق وسطی کے بعض ممالک میں اپنی دھاک بٹھا چکا ہے اردن ،مصر اور شام وغیرہ میں جبکہ خود کو یمن اور لبنان کے اطراف سے غیر محفوظ تصور کرتا ہے اسرائیل کا موقف ہے کہ ایران اس کے خلاف مختلف گروہوں کو ہر طرح کی معاونت کرتا رہتا ہے اور یہ گروہ اسرائیل پر حملے کرتے رہتے ہیں اصل بات یہ ہے کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے ایران کو کمزور کرنا چاہتا ہے ۔
 ایران کا مشرق وسطیٰ میں ہمیشہ اثر و رسوخ رہا ہے اسرائیل کا خیال ہے کہ ایران جوہری پروگرام جاری رکھ کے مشرق وسطی میں مزید اپنی طاقت بڑھانا چاہتا ہے جبکہ اسرائیل دائیں بائیں کمزور ممالک کو تجارتی اور حفاظتی فریب دیکر خود مشرق وسطی کا چودھری بننا چاہتا ہے ۔
اسرائیل کا الزام ہے کہ ماضی میں 
 ایران اپنے حمایت یافتہ گروہوں جیسا کہ حزب اللہ اور حماس کو فنڈنگ کرکے ہمارے خلاف  کارروائیاں کراتا رہا ہے  جبکہ اسرائیل فلسطینیوں کی جدو جہد آزادی اور مزاحمت کو کچلنے کے نئے طور طریقے دنیا کے سامنے پیش کرتا رہتا ہے۔
گزشتہ کئی برس سے ایران ،اسرائیل جنگ کے باقاعدہ بادل منڈلا رہے تھے کیونکہ امریکہ بار بار ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سوال اٹھا رہا تھا دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر بھی پہنچے جیسے ہی مذاکرات کامیابی طرف جاتے ہوئے دکھائی دیے اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا اب جنگ ایک ایسے موڑ کی طرف جاچکی ہے کہ اسرائیل کو اندازہ نہیں تھا کہ اس جنگ کے نتائج اس کے لیے بھیانک ہوں گے جنگ کتنی بڑھ سکتی ہے ایران کتنا نقصان پہنچا سکتا ہے ایرانی حملے کتنے طاقتور ہوسکتے ہیں ایران نے اسرائیل کے غرور کو خاک میں ملا دیا ہے ایران نے بیت یام ،تل ابیب ،حیفہ یروشلم اور شمالی اسرائیل کے حساس مقامات کو نشانہ بنا کر کھنڈرات میں تبدیل کردیا ہے خیر اب تو مسلم دنیا ایران کی پشت پرکھڑی ہوگئی ہے مسلم دنیا میں سب سے پہلا ملک پاکستان ہے جو پہلے دن سے ایران  کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہے پاکستان نے ایران کے لیے ہر فورم پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی اور ایرانی دفاع کی حمایت کی پاکستان کے اعلان کے بعد ترکیہ ،سعودی عرب، اور قطر نے کھل کر حمایت کا اعلان کیا اب پورپی ممالک اور خاص کر امریکہ اسرائیلی چھترول پر غمزدہ دکھائی دیتے ہیں  اگرچہ اسرائیل نے امریکہ کو جنگ میں شامل ہونے کی باقاعدہ درخواست دی ہے ابھی تک تو بظاہر امریکہ نے خود کو اس جنگ سے دور رکھا ہوا ہے مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ کی مدد کے بغیر اسرائیل ایران پر حملہ نہیں کر سکتا تھا- 
اس جنگ کے شروع ہو نے سے دنیا بھر کو تیل کی فراہمی میں بہت بڑی مشکل پیش آرہی ہے خاص طور پر خلیج فارس سے گزرنے والی بین الاقوامی تجارت متاثر ہو گئی ہے جو عالمی معیشت کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔
چین اور روس مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ہو 
امریکہ اور یورپی ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مداخلت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس بار ان کی مداخلت جس کی لاٹھی اس کی بھینس والی ہے مطلب ایران کو ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں ایران بلا خوف کہہ رہا ہے کہ وہ کسی کے دباؤ میں نہیں آئے گا- 
امریکہ اسرائیل کا قدیم اتحادی ہے جبکہ روس ایران کے قریب تر ہے جس سے عالمی طاقتوں کے درمیان تصادم کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے امن قائم کرنے کی کوششیں کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔
ایران اور اسرائیل جنگ کی وجہ سے خلیج فارس سے تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے جس  سے تیل کی عالمی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس سے عالمی معیشت کو زبردست جھٹکا لگا ہے ۔
اس جنگ نے دنیا کی تجارت کو بہت متاثر کیا ہے خاص طور پر ان ممالک کو جو اس خطے کے تیل پر انحصار کرتے ہیں۔
ایران اور اسرائیل جنگ اگر اسی طرح مزید شدت اختیار کرگئی تو  انسانی بنیادی سہولیات 
 کی فراہمی میں مزید مشکلات پیدا ہو جائیں گی کروڑوں لوگوں کے لیے مسائل  کھڑے ہو جائیں گے۔
ایران اور اسرائیل تصادم مشرق وسطیٰ میں نہایت خطرناک صورتحال اختیار کر چکا ہے جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جارہے ہیں یہ جنگ نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع کر رہی ہے بلکہ عالمی معیشت ، توانائی کی فراہمی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے شدید خطرہ بن گئی ہے اس لیے عالمی برادری کو چاہیے کہ سفارتی کوششوں کو فروغ دے کر کشیدگی کو کم کرنے اور خطے میں پائیدار امن قائم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ جنگ نہ صرف ایک ملک کی سر زمین کو نیست و نابود کردیتی ہے بلکہ وہ انسان کے دل و دماغ، اس کی روح اور پوری دنیا کی خوبصورتی کو بھی نگل جاتی ہے ہر جنگ کے پیچھے خون، آنسو اور تباہی کی ایک داستان چھپی ہوتی ہے جو کئی نسلوں تک یاد رکھی جاتی ہے تاریخ ہمیں بارہا یہ سکھاتی ہے کہ جنگیں صرف زمین کا نقصان نہیں کرتیں بلکہ انسان کی فطرت، اس کی محبت، امن اور امید کو بھی تباہ کر دیتی ہیں۔
دنیا کی تاریخ ایسی خوفناک جنگوں سے بھری پڑی ہے انہیں جنگوں نے  لاکھوں انسانوں کی جانیں چھینیں، خاندان توڑے اور معاشروں کو تباہ و برباد کیا 
پہلی اور دوسری عالمی جنگ عظیم  میں کروڑوں جانیں ضائع ہوئیں اور یورپ کی بڑی بڑی تہذیبیں مٹی میں مل گئیں انسانی ترقی کے چند دہائیوں کے حاصل کردہ ذرائع  یکسر ختم ہوگئے۔
انہیں جنگوں نے نہ صرف فوجی محاذوں کو نیست ونابود کیا بلکہ معاشرتی اور اقتصادی ڈھانچوں کو بھی اکھاڑ کر رکھ دیا ان جنگوں نے نہ صرف انسانی جانوں کو تباہ کیا بلکہ انسانی ذہنوں پر گہرے صدمے اور نفسیاتی زخم چھوڑے۔
جنگیں کبھی بھی مسئلے کا حل نہیں رہیں ہیں وہ صرف انسانیت کو اپنے وجود سے مٹانے والی آفت ہیں ماضی کی جنگوں نے جو درد اور نقصان دیا اسے بھلانا ناممکن ہے ہمیں چاہیے کہ دنیا کے ذمہ دار ممالک امن کی طرف قدم بڑھائیں نفرت کی جگہ محبت کو جگہ دیں اور خدا کی دی ہوئی اس خوبصورت دنیا کی حفاظت کریں کیونکہ جنگیں سب کچھ کھا جاتی ہیں انسان کو، اس کا رزق، اس کی خوشیاں اور اس کے خواب۔

بشکریہ اردو کالمز