تحصیل جلالپور پیر والہ رقبے اور آبادی کے لحاظ سے ضلع ملتان کی ایک بڑی اور پسماندہ ترین تحصیل ہے جو دہائیوں سے پسماندگی اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہے یہاں کے لوگ کئی عرصے سے کئی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں جن میں سب سے بڑا اور سنگین مسئلہ صاف پانی کی فراہمی کا ہے صاف پانی کی ناقص فراہمی اور خراب سیوریج سسٹم کے سبب تحصیل جلالپور پیر والہ میں صحت کے مسائل میں بے تحاشا اضافہ ہورہا ہے۔
تحصیل جلالپور پیر والہ میں پینے کے پانی کی حالت تشویشناک حد تک خراب ہے میٹھے پانی کے نلوں میں گٹر کا پانی شامل ہو کر آ رہا ہے جس سے نہ صرف پانی کا معیار متاثر ہو رہا ہے بلکہ عوام کی صحت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے زیر زمین پانی کی خرابی کی وجہ سے پانی کا ذائقہ کڑوا ہے جس کی وجہ سے پانی میں ایسے کیمیکلز شامل ہو چکے ہیں جو معدے، جگر، گردوں، اور دل کی بیماریوں کا سبب بن رہے ہیں خاص طور پر ہپاٹائٹس سی اور امراض قلب میں اضافہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ صاف پانی کی فراہمی اور سیوریج سسٹم کی فوری بہتری ناگزیر ہے۔
تحصیل جلالپور پیر والہ کا سیوریج نظام اتنا خراب اور ناکارہ ہے کہ پانی کی سپلائی لائنز میں گٹر کا پانی شامل ہو جاتا ہے اس کی وجہ سے مقامی لوگ بار بار مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں اور صحت کی سہولیات نہ ہونے کے باعث ان مسائل کا بروقت حل بھی ممکن نہیں ہو پا رہا۔
تحصیل میں ایک سرکاری ہسپتال موجود ہے جو میڈیکل کی تمام طبی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے یہاں عوام کو مناسب اور معیاری علاج کی سہولت میسر نہیں ہے جس کی وجہ سے مریض کو دور دراز شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے ملتان شہر یہاں سے 100 کلومیٹر دور ہے جبکہ بہاولپور شہر 70 کلومیٹر دور ہے طویل سفر ہونے کی وجہ سے اکثر مریض ایمرجنسی کی صورت میں راستے میں ہی دم توڑ جاتے ہیں۔
تحصیل جلالپور پیر والا کے عوام
وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ اور حلقہ کے معزز ایم این اے چیئرمین کشمیر پارلیمانی کمیٹی رانا محمد قاسم نون صاحب، ایم پی اے ملک لعل محمد جوئیہ صاحب چیئرمین ہائیر ایجوکیشن صوبائی پارلیمانی کمیٹی پنجاب، اور فرزند جلالپور پیر والہ ایم پی اے ملک کرار مشتاق لانگ المعروف ملک نازک کریم لانگ صاحب سے پر زور درخواست کر رہے ہیں کہ تحصیل جلالپور پیر والہ کو پنجاب کی ماڈل تحصیلوں میں شامل کیا جائے۔
تحصیل جلالپور پیر والہ کے عوام کئی دہائیوں سے مختلف بنیادی مسائل خصوصاً صاف پانی کی فراہمی، خراب سیوریج سسٹم، صحت اور دیگر عوامی سہولیات کی کمی سے دوچار ہیں ان دیرینہ مسائل کے حل کے لیے ماڈل تحصیل کا درجہ نہایت ضروری ہے تاکہ یہاں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکے اور عوام کی زندگیوں میں بہتری لائی جا سکے۔
عوام کی یہ آواز ان کے منتخب نمائندوں سے ہے کہ ان کے دکھ درد کو سمجھتے ہوئے فوری طور پر متعلقہ حکام سے مطالبہ کریں کہ جلالپور پیر والہ کو ماڈل تحصیل کا درجہ دیا جائے تاکہ یہاں ترقیاتی منصوبے شروع ہوں اور یہاں کی عوام کو بنیادی سہولیات میسر آئیں امید کی جاتی ہے کہ حلقہ کے یہ معزز نمائندے عوام کے اس جائز مطالبے کو حکومتی سطح پر پہنچائیں گے اور تحصیل جلالپور پیر والہ کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اہم اقدامات کریں گے۔
443