ہماری جامعات میں تعینات وائس چانسلرز صاحبان سے گزارش ہے کہ آپ پاکستان کے لیے اور پاکستان کی نئی نسل کے لیے جامعات سے اقربا پروری کا خاتمہ کریں میرٹ پر تعیناتیاں کریں وائس چانسلرز صاحبان کو چائیے کہ وہ ہر طرح کی سیاسی وابستگیوں سے دور رہیں چائیے کچھ بھی ہو -
ہم نے نئی نسل کو سنوارنا ہے ملک کو عظیم ملک بنانا ہے ملک تب عظیم بنے گا جب ہم قوم بنیں گے قومیں شعور سے بنتی ہیں شعور استاد عطا کرتا ہے جب استاد بغیر میرٹ کے تعینات ہوگا وہ کیسے شعور دے پائے گا -
جب استاد کسی نہ کسی کی سفارش یا چابلوسی سے تعینات ہوگا تو وہ کیسے قوم کے بچوں کا روشن مستقبل بنا پائے گا؟ اس لیے گزارش ہے کہ جو ہوگیا وہ ہوگیا مگر اب نہیں اور کبھی بھی نہیں اگر کوئی وائس چانسلرز صاحبان پر سیاسی دباؤ ڈالتا ہے تو وائس چانسلرز صاحبان کو چائیے وہ فوراً انکار کر دیں چاہیے کچھ بھی ہو میرٹ کو پامال نہ ہونے دیں بغیر میرٹ کے آئے ہوئے اساتذہ کبھی بھی تدریس کا حق ادا نہیں کرسکتے کیوں کہ وہ خود خوشامد کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں وہ بچوں کو بھی اسی کام پر لگا دیتے ہیں انہیں آتا جاتا کچھ بھی نہیں ہوتا اس لیے وہ بچوں کو نہیں پڑھاتے صرف گپ شپ، تحفے تحائف اور اپنے ذاتی کام تک بچوں کو محدود رکھتے ہیں ہماری اکثر یونیورسٹیوں کی صورتحال یہی ہے کہ وہاں بچے داخلہ لینے کے لیے تیار نہیں ہیں-
جبکہ آج کل یونیورسٹیوں کی طرف سے دیئے گئے بار بار اشتہارات، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے مسلسل وضاحتیں دی جارہی ہیں کہ ہم آپ کا مستقبل سنوارنے کے لیے بیٹھے ہیں جبکہ بچے کو معلوم ہے کہ ان کا روزگار ہماری فیسوں سے وابستہ ہے یہ علم کم دیتے ہیں مگر لاعلم زیادہ رکھتے ہیں جامعات کے جگہ جگہ ہولڈنگ بورڈ یہ واضح کرتے ہیں کہ ہمارا معیار تعلیم کیسا ہے ؟ کیا ہم صرف ڈگریاں تقسیم کرنے تک محدود رہ گئے ہیں؟
اتنی زیادہ تشہیر کے باوجود بھی بچے داخلہ لینے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بچوں کو معلوم ہے کہ پڑھائی تو ہے ہی نہیں اور نہ روزگار ہے دوسری وجہ سفارشی کلچر عام ہے -
آپ گزشتہ کچھ برسوں کا جائزہ لیں تو تحقیق کے معاملے میں آپ کو کوئی بھی نئی تخلیق نہیں ملے گی نہ کوئی نیا کام سامنے آئے گا حقیقت یہ ہے کہ خوشامدی طبقہ اپنے حقیقی والدین کی بجائے چابلوسی کے ذریعے دوسروں کے والدین پر قبضہ کرتا دکھائی دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ بچوں کے ہاتھ میں ڈگری تو ہوتی ہے مگر آتا جاتا کچھ نہیں ہوتا وجہ وہی ہے اقربا پروری بعض اوقات عجیب صورت حال ہوتی ہے کہ جس کو ملازمت ملے یا ترقی ملے ان کے تحقیقی کام لائبریریوں سے غائب ہو جاتے ہیں مطلب شواہد مٹا دیے جاتے ہیں بندہ میرٹ پر تعینات ہوتا ہی نہیں اس کی نااہلی کا سارا ریکارڈ جان بوجھ کر چھپا لیا جاتا ہے کچھ روز پہلے دو تین جامعات میں سلیکشن بورڈ ہوئے ہیں ترقی سے محروم رہنے والے اساتذہ شواہد کے ساتھ انصاف کی اپیل کر رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ فوری طور پر نوٹس لیں اور ہمیں انصاف فراہم کریں آپ خود بتائیں کہ جب استاد خود استحصال کا شکار ہو وہ بچوں کی کیسے نشونما کر پائے گا؟ وہ کیسے انصاف پر لیکچر دے گا ؟ ذہن سے الجھا ہوا شخص کیسے بجھے ہوئے چراغ روشن کرے گا ؟ کیونکہ یہاں میرٹ کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں آپ زیادہ دور نہ جائیں پنجاب یا جنوبی پنجاب کی تین چار یونیورسٹیوں کی بھرتی کا گزشتہ کچھ برسوں کا آڈٹ کرالیں ایک بچہ ایسا تعینات ہوتا دیکھا دیں جو غریب کا بچہ ہو اور لگا ہوا ہو لیکچرر، اسسٹنٹ پروفیسر ،ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسر وہی لوگ لگتے ہیں جن کے آگے پیچھے کوئی نہ کوئی ہاتھ ہوتا ہے ہماری جامعات کی بربادی کی بنیادی وجہ یہی ہے جو بھی ڈگری لے کر آتا ہے وہ وہی کرتا ہے جو اس نے ماحول دیکھ رکھا ہوتا ہے مثلآ بیگ اٹھانے کا یا دائیں بائیں گھومنے پھرنے کا باہر بھی وہ وہیں کام کرتا ہے سمجھ نہیں آتی ہم کس طرف جارہے ہیں؟ آج ہمارا متوسطہ طبقہ اور ہمارا پڑھا لکھا محنتی قابل نوجوان شدید مایوسی کا شکار ہے کیونکہ وہ سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہے ہماری جامعات اس لیے مسلسل تنزلی کا شکار ہیں-
میری وزیر اعظم پاکستان اور صوبائی وزرائے اعلیٰ اور وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ سے درخواست ہے کہ پنجاب کی جامعات کا کچھ برسوں کا آڈٹ کرائیں اور اقربا پروری کی بنیاد پر جتنی بھی تعیناتیاں ہوئی ہیں جہاں جہاں لگتا ہے میرٹ پامال ہوا ہے سخت نوٹس لیں ذمہ داران کو سخت سزائیں دیں تاکہ کل کو کسی کی جرات نہ ہو میرٹ کی دھجیاں اڑانے کی میں نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ سے اس لیے درخواست کی ہے کیونکہ وہ یہ سب کرسکتی ہیں بہادر خاتون ہیں صوبہ پنجاب میں انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں یہ انقلابی قدم اٹھانا ہوگا پاکستان کے مستقبل کے لیے اور ہماری نئی نسل کے لیے-
ہماری جامعات کا اصل کام تخلیق، طلبہ کی کردار سازی اور قومی ترقی ہے مگر موجودہ دور میں اکثر شعبہ جات صرف ڈگریاں تقسیم کر رہے ہیں وائس چانسلرز صاحبان کا اصل کردار بطور رہنما اور ریفارمر کا ہونا چاہیے مگر بدقسمتی سے وہ انتظامی اور سیاسی آلہ کار بن چکے ہیں -
اکثر وائس چانسلرز صاحبان پر یہ الزام ہے کہ وہ خود بھی کبھی تحقیق یا تدریس کے نمایاں مقام پر فائز نہیں رہے ان کی تقرریاں سیاسی اور علاقائی بنیادوں پر ہوتی ہیں-
سوال یہ نہیں کہ ہم کہاں ہیں؟ بلکہ یہ ہے کہ ہم کب بدلیں گے؟
304