فلسطینی شاعر ،ادیب اور مفکر محمود درویش نے اپنی شاعری اور تحریروں میں آزادی، زندگی اور جدوجہد کے موضوعات کو نہایت گہرائی سے اجاگر کیا ہے ان کے الفاظ اور خیالات فلسطینی قوم کی دہائیوں پر محیط جدوجہد کی عکاسی کرتے ہیں جہاں زندگی کی قدر اور آزادی کی طلب کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔
محمود درویش کا کلام فلسطینی قوم کی وہ دردناک داستان ہے جو کئی دہائیوں سے ظلم بے دخلی اور جبر کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے۔ ان کی شاعری میں زندگی کی جیت آزادی کی طلب اور مسلسل جدوجہد کا تذکرہ بار بار آتا ہے جو نہ صرف فلسطینیوں کے لئے بلکہ پوری انسانیت کے لئے ایک پیغام ہے۔
درویش کا یہ قول کہ
"ہم نے اس زندگی میں، زندگی سے بڑھ کر کوئی اور خواب نہیں دیکھا"
دراصل ان کی خواہش کی گہرائی اور جدوجہد کی شدت کو ظاہر کرتا ہے اس جملے میں زندگی کی وہ قدر پوشیدہ ہے جو محض سانس لینے کا نام نہیں بلکہ مکمل آزادی، عزت اور خودمختاری کا درجہ رکھتی ہے۔
آزادی انسان کی بنیادی ضرورت ہے محمود درویش کے خیالات میں آزادی صرف ایک سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ زندگی کی وہ اساس ہے جس کے بغیر زندگی کی کوئی قدر نہیں رہتی ان کے مطابق جب انسان غلامی یا جبر کے نیچے ہوتا ہے تو اس کی زندگی صرف جسمانی وجود تک محدود رہ جاتی ہے حقیقی زندگی تو اس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان اپنی مرضی کے مطابق سوچ سکے، بول سکے اور جی سکے۔
درویش کی شاعری میں آزادی کی جدوجہد کو ایک مقدس مشن کے طور پر دیکھا گیا ہے جو ہر فلسطینی کا حق ہے ان کے الفاظ میں آزادی کی تلاش ایک طویل اور مشکل راستہ ہے مگر یہ راستہ زندگی کو مکمل کرتا ہے۔
درویش کے خیال میں زندگی کی قدر اسی وقت ہوتی ہے جب انسان اپنی شناخت، اپنے حقوق اور اپنے خوابوں کے لیے لڑتا رہے جدوجہد دراصل زندگی کو معنی دیتی ہے۔ اگر زندگی میں جدوجہد نہ ہو تو وہ زندگی محض ایک سنسان وجود بن کر رہ جاتی ہے۔
ان کا یہ کہنا کہ انہوں نے "زندگی میں زندگی سے بڑھ کر کوئی اور خواب نہیں دیکھا" اس بات کی علامت ہے کہ وہ اپنی زندگی کو آزادی کی راہ میں قربان کرنے کے لیے تیار تھے اور ان کے لیے آزادی ہی زندگی کی اصل روح تھی۔
محمود درویش کی شاعری اور خیالات ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ آزادی اور زندگی ایک دوسرے کے متوازی ہیں زندگی کا اصل مطلب تبھی سمجھ آتا ہے جب انسان آزاد ہو اور اپنی مرضی سے جینے کا حق رکھتا ہو فلسطینیوں کی مسلسل جدوجہد کی کہانی درویش کے الفاظ میں ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ زندگی کی قدر تبھی ہوتی ہے جب وہ آزادی کے ساتھ جڑی ہو اور یہی آزادی کی طلب ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔
آزادی کی اصل قیمت ہم ان لوگوں سے پوچھ سکتے ہیں جو ظلم، جبر اور تشدد کے باوجود آزادی کی طلب میں دن رات محنت کر رہے ہیں جیسے فلسطینی مسلمان، کشمیری مسلمان اور بھارت کے اندر رہنے والے مسلمان یہی حقیقی مثالیں ہیں جہاں آزادی ایک خواب نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد ہے۔
آزادی کی قیمت کا اندازہ تب ہوتا ہے جب انسان اپنی زندگی کے نازک لمحات میں اپنے پیاروں کے خون اور اپنے مستقبل کی قربانی کے بارے میں سوچتا ہے فلسطینی شاعر محمود درویش نے اپنی شاعری میں نہ صرف فلسطینی مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد کو بیان کیا ہے بلکہ ان لوگوں کو بھی مخاطب کیا ہے جو آزادی کے حق کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں یا اسے محض الفاظ کی حد تک سمجھتے ہیں۔
درویش کی شاعری میں ایک طرف فلسطینی مسلمانوں کے دکھ، درد اور قربانیوں کی گونج ہے جو ان کی زمین، اپنی ثقافت اور اپنی شناخت کے لیے لڑ رہے ہیں دوسری طرف وہ آزادی کے نام پر ظلم یا خودغرضی کرنے والوں کو بھی خبردار کرتے ہیں ان کے لیے آزادی صرف حق طلبی نہیں بلکہ ذمہ داری بھی ہے۔
مثلاً اگر کوئی آزادی کے نام پر دوسروں کے حقوق پامال کرے یا طاقت کے ذریعے اپنی مرضی مسلط کرے تو وہ آزادی کی اصل روح سے دور ہے محمود درویش کی شاعری میں یہ خیال بہت اہم ہے کہ آزادی کا مطلب صرف اپنی خواہشات کا نفاذ نہیں بلکہ انصاف، مساوات اور انسانی وقار کی پاسداری بھی ہے۔
کشمیری مسلمانوں کی صورت حال بھی اسی تناظر میں دیکھی جا سکتی ہے وہاں کے لوگ بھی کئی دہائیوں سے ظلم و ستم کا شکار ہیں ان کی آزادی کی خواہش اور حق خودارادیت کی جدوجہد عالمی سطح پر ایک بڑا انسان دوست مسئلہ ہے یہاں بھی آزادی کی قیمت جاننے کے لیے ان کی قربانیوں کو سمجھنا ضروری ہے۔
بھارت کے اندر رہنے والے مسلمانوں کو بھی مختلف قسم کی سماجی، سیاسی اور مذہبی مشکلات کا سامنا ہے ان کی آزادی کے حقوق پر سوال اٹھائے جاتے ہیں اور وہ اکثر اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں یہ لوگ بھی آزادی کی وہ قیمت چکا رہے ہیں جو کسی قوم یا فرد کے حق میں نہایت قیمتی ہوتی ہے۔
آزادی کی اصل قیمت کو سمجھنے کے لیے ہمیں ان لاکھوں انسانوں کی قربانیوں کو یاد رکھنا ہوگا جو جبر اور ظلم کے خلاف اپنی زندگیوں کو وقف چکے ہیں محمود درویش جیسے شاعر ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ آزادی کا مطلب صرف ذاتی مفادات نہیں بلکہ ایک بڑی اجتماعی ذمہ داری ہے یہ پیغام آج کے دور میں ہر اُس فرد اور قوم کے لیے ضروری ہے جو آزادی کے حقیقی معنی کو سمجھتا ہے۔
ہمارا ملک کافی حد تک جنونی سیاست کی دلدل سے چھٹکارا پاچکا ہے مگر اب بھی کچھ سیاسی نابالغ لوگ آزادی کا غلط فائدہ اٹھا کر ملک، سیاست یا اداروں پر بلاوجہ تنقید کرتے نظر آتے ہیں جو معاشرے میں بےچینی اور انتشار کا باعث بنتی ہے۔
تنقید تب مفید ہوتی ہے جب اس کا مقصد بہتری ہو نہ کہ ملک کے مفادات کو نقصان پہنچانا یا اداروں کی ساکھ خراب کرنا اور بغیر دلیل کے تنقید کرنا جو محض صرف انتشار پھیلانے کا ذریعہ بن رہی ہے۔
ہر ملک کے ادارے، خواہ فوج ہو یا عدلیہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں مشکلات کے باوجود کام کر رہے ہوتے ہیں ایسے افراد جو اداروں کی بےجا تنقید کرتے ہیں وہ اپنی تنقید سے ملک کے استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
اب وقت آگیا ہے ہمیں ایک باشعور قوم بننے کا ہماری نظر میں سب سے پہلے پاکستان ہونا چاہیے پاکستان ہماری شناخت اور ہم محنت کے ذریعے پاکستان کی شناخت بنیں
ملکی ادارے ہماری سلامتی اور ترقی کے ضامن ہیں ان کی بےوجہ تنقید دشمنوں کو خوش کرنے کے مترادف ہےہمیں اپنے ملک کے ساتھ وفادار رہنا ہے نہ کہ بلاجواز تنقید کر کے اسے نقصان پہنچانا۔
262