انسانی تعلقات ہمیشہ سے ایک پہیلی کی طرح ہیں۔ یہ پہیلی نہ صرف نفسیات کے ماہرین کے لیے دلچسپی کا باعث رہی ہے بلکہ مابعد از نفسیات اور باطنی روایات میں بھی اس پر بہت کچھ کہا گیا ہے۔ ہم اکثر یہ دیکھتے ہیں کہ کسی شخص کو ہم نے پہلی بار دیکھا ہوتا ہے اور دل میں ایک غیر مرئی سا جھٹکا محسوس ہوتا ہے ؛ یا تو وہ شخص دل کے قریب لگنے لگتا ہے یا پھر ایک انجانی بے چینی اور بیزاری جنم لیتی ہے۔ یہ کیفیت محض اتفاق نہیں بلکہ شعور، لاشعور اور داخلی توانائیوں کی پیچیدہ گتھیوں سے جڑی ہوئی ہے۔
انسانی تعلقات میں کشش اور ناپسندیدگی محض سماجی یا اخلاقی عوامل تک محدود نہیں ہیں بلکہ دماغ، نیورو ٹرانسمیٹرز اور لاشعوری رجحانات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کشش کی حالت میں، جب کوئی انسان ہمیں بھاتا ہے، دماغ میں ڈوپامائن اور آکسیٹوسن جیسے کیمیکل میسینجرز فعال ہوتے ہیں جو خوشی، انعام کا احساس اور قربت کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔ ساتھ ہی لیمبیک نظام خاص طور پر امیگڈالا کیفیات اور تاثرات کو تیزی سے پہچان کر مثبت ردعمل کا باعث بنتا ہے۔
نیوروسائنس اور نفسیات کے مطابق دماغ میں ”اچھے“ اور ”برے“ لوگوں کی فوری پہچان کوئی مکمل حقیقت نہیں بلکہ ایک فطری رجحان اور ارتقائی میکانزم ہے۔ دماغ کچھ سگنلز پر ردعمل دیتا ہے، لیکن وہ ہمیشہ درست نہیں ہوتے۔
ہمارے دماغ کے کچھ حصے ہیں جو کشش یا دوری کی کیفیات پیدا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر:
امیگڈالا (Amygdala) : یہ دماغ کا حصہ خوف اور خطرے کو تیزی سے پہچانتا ہے۔ کسی شخص کے چہرے کے تاثرات، آواز یا حرکات کو دیکھ کر فوری فیصلہ کرتا ہے کہ وہ محفوظ ہے یا خطرناک۔ اسی لیے ہم بعض چہروں کو دیکھ کر فوراً بدگمانی یا کشش محسوس کرتے ہیں۔
پری فرنٹل کارٹیکس (Prefrontal Cortex) : یہ حصہ منطقی سوچ اور فیصلے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ جذباتی ردعمل کو جانچتا ہے اور طے کرتا ہے کہ واقعی کوئی شخص ”قابلِ اعتماد“ ہے یا نہیں۔ اگر صرف امیگڈالا پر چھوڑا جائے تو ہم اکثر جذباتی دھوکے کا شکار ہو سکتے ہیں، مگر پری فرنٹل کارٹیکس جذبات کو فلٹر کر کے زیادہ حقیقت پسندانہ نتیجہ نکالتا ہے۔ انسولا (Insula) : یہ حصہ اخلاقی بیزاری سے جڑا ہے۔ جب دماغ کسی کے رویے کو اخلاقی طور پر غلط یا ناپسندیدہ سمجھتا ہے تو انسولا متحرک ہوجاتی ہے اور ہمیں اندرونی طور پر دوری کا احساس ہوتا ہے۔ لہذا دماغ کی فعالیت درست فیصلہ کرواتی ہے بصورت دیگر ہم مغالطے کا شکار ہو جاتے ہیں۔
نفسیات کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو سگمنڈ فرائڈ کے مطابق، انسان کے اندر ایک میکانزم ہمیشہ سرگرم رہتا ہے جسے پروجیکشن کہتے ہیں۔ پروجیکشن کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی دبی ہوئی خواہشات، خوف اور کمزوریاں دوسروں پر ڈال دیتے ہیں۔ یوں اگر کسی کو اپنے اندر ایک خامی کا احساس ہو تو وہ جب کسی اور شخص میں اس سے ملتی جلتی جھلک دیکھتا ہے تو فوراً ناپسندیدگی ظاہر کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی فرد اپنے بچپن میں سخت گیر والدین کے زیرِ سایہ پروان چڑھا ہو تو وہ بعد میں اُن اجنبی لوگوں سے بھی کھنچاؤ محسوس کرے گا جن کے اندازِ گفتگو یا تاثرات اسے اپنے والدین کی یاد دلا دیں۔
یہی بات ہمیں روزمرہ تعلقات میں بارہا نظر آتی ہے۔ بعض اوقات کسی ساتھی، استاد یا افسر سے صرف لہجے کی بنا پر الجھن ہونے لگتی ہے، حالانکہ حقیقتاً وہ شخص ہمارے ساتھ برا رویہ اختیار نہ بھی رکھتا ہو۔ یہ ردعمل زیادہ تر ہمارے لاشعور میں محفوظ پرانی یادوں کا عکس ہوتا ہے۔
کارل یونگ نے انسانی شخصیت کی گہرائیوں کو سمجھنے کے لیے ”شیڈو“ یا ”سایہ“ کا تصور پیش کیا۔ یونگ کے مطابق ہر انسان کے اندر ایسے پہلو موجود ہوتے ہیں جنہیں وہ سماجی یا اخلاقی وجوہات کی بنا پر تسلیم نہیں کرتا اور دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ جب یہی پہلو کسی دوسرے شخص میں ہمیں جھلکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں تو ہمارے اندر مخالفت یا نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس طرح بظاہر بے ضرر ملاقات بھی اندرونی ٹکراؤ میں بدل جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہم بعض اوقات کسی کی محض آنکھوں کے تاثر یا چہرے کی حرکات سے یہ طے کر لیتے ہیں کہ یہ شخص ہمیں پسند نہیں، حالانکہ عقل کی سطح پر اس کا کوئی جواز موجود نہیں ہوتا۔ یہ فیصلہ دراصل ہمارے لاشعور کی گہرائیوں میں چھپے ہوئے سایوں کی گونج ہوتی ہے۔
باطنی یا عرفانی نقطۂ نظر سے انسان محض جسم اور دماغ کا نام نہیں بلکہ ایک توانائی کا مظہر ہے۔ صوفیاء کے نزدیک ہر انسان کی اپنی ”فریکوئنسی“ یا ارتعاش ہے، جیسے موسیقی کے مختلف سر ہوتے ہیں۔ کچھ سروں سے دل کو سکون ملتا ہے اور کچھ سے اضطراب۔ اسی طرح بعض لوگوں کی داخلی توانائیاں ہمارے اندر ہم آہنگی پیدا کرتی ہیں اور بعض تضاد۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے ہم محبت، قربت یا پھر نفرت اور اجنبیت کی شکل میں محسوس کرتے ہیں۔
فقط ظاہری حوالے نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے موجود توانائی اور تحت الشعوری سطحوں کو بھی دیکھا جاتا ہے۔ کشش کو اکثر ایک ایسی توانائی کے طور پر بیان کیا جاتا ہے جو دو افراد کو غیر مرئی رشتے کے ذریعے قریب لاتی ہے۔ یہ کشش صرف جسمانی یا ظاہری صورت تک محدود نہیں ہوتی بلکہ ذہنی، روحانی اور لاشعوری سطحوں پر بھی فعال رہتی ہے۔ بعض پیرا سائیکالوجسٹ اسے ”thought energy“ یا ”aura connection“ سے جوڑتے ہیں، جس کے مطابق ہر شخص کے گرد ایک مخصوص توانائی کا دائرہ ہوتا ہے اور جب یہ دائرے ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوتے ہیں تو ایک غیر معمولی کشش پیدا ہوتی ہے۔
اس کے برعکس نفرت کو توانائی کی منفی صورت کہا جاتا ہے جو محض رویوں کا نتیجہ نہیں بلکہ باطنی تضادات اور توانائی کے تصادم کا اثر بھی ہوتی ہے۔ پیرا سائیکالوجی کے مطابق جب دو انسانوں کے شعوری یا لاشعوری لہریں آپس میں تضاد پیدا کرتی ہیں تو وہ ایک دوسرے کو رد کرنے لگتے ہیں۔ بعض اوقات یہ نفرت کسی ماضی کے تجربے یا اجتماعی لاشعور میں موجود تصورات کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے۔ اس طرح کشش اور نفرت دونوں ہی پیرا سائیکالوجی میں توانائی، لاشعور اور انسانی رشتوں کے باطنی پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہیں۔
سماجی نفسیات اس موضوع کو ایک اور زاویے سے بیان کرتی ہے۔ ایروِن گوفمین کے مطابق روزمرہ زندگی میں ہم سب ایک ”اسٹیج“ پر اداکار کی طرح ہیں۔ ہم اپنی شخصیت کا ایک مخصوص روپ دوسروں کے سامنے پیش کرتے ہیں اور اسی پر لوگ ہمیں قبول یا رد کرتے ہیں۔ لہٰذا اگر کسی کا پیش کردہ تاثر ہمارے اندر موجود تجربات یا توقعات سے میل نہ کھاتا ہو تو ہم بے چینی یا ناپسندیدگی محسوس کرتے ہیں۔
اسی طرح لیون فیسٹنگر نے ”Cognitive Dissonance“ کا نظریہ پیش کیا کہ جب دوسروں کے رویے یا خیالات ہمارے عقائد سے متصادم ہوتے ہیں تو ذہن میں ایک کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔ یہ کشیدگی اکثر نفرت یا اجتناب کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم سچائی کو اہم سمجھتے ہوں اور کوئی جھوٹ بولتا ہوا محسوس ہو تو ہم لاشعوری طور پر اس سے دوری اختیار کر لیتے ہیں، چاہے وہ شخص ہمارے قریب کا ہی کیوں نہ ہو۔
پیئر بوردیو نے ”Habitus“ کا نظریہ پیش کیا، جس کے مطابق ہماری پسند اور ناپسند دراصل ہمارے ماضی کے تجربات اور سماجی ڈھانچے سے تشکیل پاتی ہے۔ یوں یہ محض انفرادی فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ ہماری پوری زندگی کے اجتماعی تجربات کا عکس ہوتا ہے۔ کوئی شخص ہمیں ناپسند آ رہا ہے تو اس کی جڑیں ہمارے خاندانی ماحول، طبقاتی پس منظر یا معاشرتی تربیت میں پیوست ہو سکتی ہیں۔
اس کیفیت کو سمجھنے کے لیے سوشل میڈیا ایک بہترین مثال ہے۔ ہم کسی کو کبھی ملے بھی نہیں ہوتے، لیکن محض اس کے لکھے ہوئے الفاظ یا تصویر دیکھ کر ایک انجانی کشش یا دوری محسوس کرنے لگتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک عام سا جملہ ہمارے دل کو چیر دیتا ہے، جیسے وہ جملہ ہمارے کسی پرانے زخم پر نمک چھڑک رہا ہو۔ کبھی ایک ہلکی سی مسکراہٹ ہمیں اپنی طرف کھینچ لیتی ہے جیسے ہم کسی پرانے دوست کو پہچان گئے ہوں۔ یہ سب کچھ محض عقل کی بنیاد پر نہیں بلکہ ہماری یادداشتوں، داخلی ساخت اور باطنی توانائیوں کا کھیل ہے۔
باطنی علوم کے مطابق انسانوں کے درمیان موافقت یا مخالفت دراصل ایک آئینہ ہے۔ وہ شخص جو ہمیں ناپسند لگتا ہے، اکثر ہمارے اندر چھپے ہوئے زخم کو چھو رہا ہوتا ہے۔ اگر ہم اس آئینے کو پہچان لیں تو نہ صرف اپنی ذات کو بہتر سمجھ سکتے ہیں بلکہ دوسروں کے ساتھ زیادہ کشادہ دلی سے پیش آ سکتے ہیں۔ حضرت رابعہ بصریؒ کا قول ہے : ”جس کو تم برا کہتے ہو، وہ دراصل تمہارے اندر کی کسی تاریکی کا عکس ہے“ ۔ یہ قول اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ دوسروں کی ناپسندیدگی ہمارے اپنے باطن کی جھلک بھی ہو سکتی ہے۔
یوں یہ واضح ہوتا ہے کہ انسانی تعلقات میں ناپسندیدگی یا کشش محض سطحی نہیں بلکہ گہری نفسیاتی، باطنی اور سماجی بنیاد رکھتی ہے۔ کبھی یہ پروجیکشن اور شیڈو کی صورت میں سامنے آتی ہے، کبھی سماجی ڈھانچے کے اثرات میں، اور کبھی باطنی لہروں اور توانائیوں کی ہم آہنگی یا تضاد میں۔ اس کو سمجھنے سے ہم نہ صرف اپنے رشتوں میں نرمی اور برداشت پیدا کر سکتے ہیں بلکہ اپنی ذات کے چھپے ہوئے رخ کو بھی پہچان سکتے ہیں۔