101

بیٹے کی پرورش میں ماں کے منفی رویے کے اثرات: نفسیات کی روشنی میں

ایک مرد کی زندگی میں اُس کی ذہنی، جذباتی اور روحانی نشوونما میں موروثیت، پرورش اور ماحول بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ موروثی عوامل اور ماحولیاتی اثرات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ایک متوازن اور مثبت پرورش ان سب پر غالب آ سکتی ہے۔ تاہم یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ پرورش کرنے والے والدین خود کس حد تک پُرسکون اور مطمئن ہیں، کیونکہ بچے والدین کے رویّے اور کیفیات کا عکس ہوتے ہیں۔ والدین کی داخلی سکونت اور رویّے براہِ راست بچے کی ذہنی صحت اور شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

 

ایک ماں کی پرورش انسانی شخصیت کی تشکیل میں سب سے زیادہ مرکزی حیثیت رکھتی ہے، لیکن یہ پہلو ہمیشہ مثبت نہیں ہوتا۔ جب ماں کے رویوں میں عدم توازن پایا جائے، تو اس کا براہِ راست اثر بیٹے کی شخصیت پر پڑتا ہے۔ بچپن میں ملنے والی پرورش اس کی آنے والی محبت اور ازدواجی زندگی کو یا تو
کامیاب بناتی ہے یا پھر شدید طور پر مسخ کر دیتی ہے۔

 

ماں کے کچھ مخصوص رویے ایسے ہوتے ہیں جو بیٹے کو محبت اور شادی کے رشتے میں بے اختیار کر کے اسے نفرت اور اجتناب کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔

نفسیات کے شعبے میں کئی ماہرین نے اس موضوع پر گہرا کام کیا ہے۔ سگمنڈ فرائیڈ نے ماں اور بیٹے کے رشتے کو شخصیت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچپن میں ماں کی غیر معمولی گرفت مرد کی بلوغت میں اس کی جذباتی دنیا کو محدود کر دیتی ہے۔ جان باؤلبی کی اٹیچمنٹ تھیوری کے مطابق اگر بچپن میں ماں غیر محفوظ یا غیر متوازن وابستگی قائم کرے تو یہ بیٹا جوانی میں رشتوں کو بھی غیر محفوظ سمجھتا ہے۔ اسی طرح ایرک ایرکسن نے کہا کہ بچپن میں ماں کی بے جا سختی یا بے جا نرمی شخصیت میں اعتماد کی بجائے بے اعتمادی کو بڑھاتی ہے۔ ہمارے سماجی تانے بانے میں ایک ماں اکثر کام کی زیادتی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہے، اس حالت میں اس سے بیٹے کے پرورش کے حوالے سے غلطیاں سرزد ہو جاتیں ہیں۔

کارل یونگ کے الفاظ میں :

 

 The negative mother is like a shadow cast over the child ’s psyche. That shadow later manifests in dreams, fears, and the failures of relationships. ”

یعنی ”منفی سوچ کی حامل ماں ایک ایسے سائے کی مانند ہے جو بچے کی نفسیات پر چھا جاتا ہے، اور یہ سایہ بعد میں خواب، خوف اور رشتوں کی ناکامیوں میں ظاہر ہوتا ہے۔“

جب بیٹا بچپن سے ہی ماں کے فاصلے کا شکار ہو جاتا ہے، جیسا کہ اکثر مائیں سنِ بلوغت کے وقت شعوری یا لاشعوری طور پر بیٹے کو خود سے دور کر دیتی ہیں، تو اس کا گہرا نفسیاتی اثر پڑتا ہے۔ بچہ جذباتی طور پر محرومی کا شکار ہو کر اندرونی تنہائی محسوس کرنے لگتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے اعتماد، تعلق بنانے کی صلاحیت اور خودی کا احساس متاثر ہوتا ہے۔ ایسے بیٹے عموماً اپنی جوانی میں یا تو حد سے زیادہ انحصار کرنے والے تعلقات کی تلاش کرتے ہیں یا پھر دوسروں پر اعتماد کرنے سے کتراتے ہیں، کیونکہ ان کے لاشعور میں ابتدائی جذباتی قربت کے انکار کا زخم ہمیشہ باقی رہتا ہے۔

ماں کی ایک بڑی غلطی بیٹے کو ضرورت سے زیادہ لاڈ اور انحصار کی عادت ڈال دینا ہے۔ بچپن میں ہر خواہش پوری کرنا بظاہر محبت کی علامت ہے لیکن وقت کے ساتھ یہ بیٹا عملی زندگی میں دوسروں سے بھی یہی توقع رکھے ہے۔ جب بیوی سے اسے وہی لاڈ اور تابعداری نہیں ملتی جو ماں سے ملی تھی تو وہ اسے محبت کی کمی نہیں بلکہ بغاوت سمجھتا ہے۔ یہی فرق اسے ازدواجی تعلقات میں غیر محفوظ اور غصیلا بنا دیتا ہے۔

 

دوسری طرف ماں کی ضرورت سے زیادہ سختی بھی بیٹے کی شخصیت کو ٹھیس پہنچاتی ہے۔ ماہرِ نفسیات کارل راجرز نے اس پر زور دیا کہ بچے کو غیر مشروط قبولیت چاہیے، لیکن جب ماں ہر وقت تنقید اور کنٹرول میں رکھتی ہے تو بیٹا لاشعوری طور پر عورت کو ایک جبر کرنے والی ہستی سمجھ لیتا ہے۔ بعد میں وہ بیوی سے معمولی اختلاف کو بھی کنٹرول سمجھ کر نفرت یا جھگڑے کی شکل دے دیتا ہے۔

ایک اور رویہ جو شدید نقصان پہنچاتا ہے وہ یہ ہے کہ ماں بیٹے کو باپ کے خلاف کر دیتی ہے یا باپ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بیٹے کو جذباتی سہارا بنا لیتی ہے۔ یہ کیفیت جسے نفسیات میں ”جذباتی انسیت“ کہا جاتا ہے، مرد کو غیر شعوری طور پر عورت کو بوجھ سمجھنے پر مجبور کرتی ہے۔ ماہر نفسیات مورے باؤئن نے اپنی فیملی سسٹمز تھیوری میں بتایا کہ جب ماں بیٹے کے ساتھ غیر متوازن قربت رکھتی ہے تو وہ مرد شادی کے بعد اپنی بیوی کو کبھی حقیقی شریکِ حیات نہیں مان پاتا۔

اس کی ایک واضح مثال وہ مرد ہیں جو شادی کے بعد بھی ماں کی رائے کو بیوی پر فوقیت دیتے ہیں۔ ان کے اندر لاشعوری خوف یہ ہوتا ہے کہ ماں کو ناراض نہ کریں، کیونکہ بچپن میں ماں نے محبت کو شرطوں کے ساتھ جوڑا تھا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بیوی کو نظرانداز اور کمتر سمجھا جاتا ہے اور آخرکار مرد عورت سے دوری اختیار کر لیتا ہے۔

 

ایک اور مثال میں ایسے مرد سامنے آتے ہیں جنہیں ماں نے بار بار یہ باور کرایا ہوتا ہے کہ عورت ناقابلِ اعتماد ہے، یا عورت صرف مفاد کے لیے رشتہ بناتی ہے۔ یہ بیٹے اپنی جوانی میں کسی بھی عورت پر بھروسا نہیں کرتے۔ یہ کور بلیف مرد کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ کور بلیف (Core Belief) دراصل نفسیات کی ایک بنیادی اصطلاح ہے۔ اس سے مراد وہ گہرے اور بنیادی عقائد یا یقین ہیں جو انسان اپنے بارے میں، دوسروں کے لئے اور دنیا کے بارے میں بچپن سے اپنے ذہن میں تشکیل دیتا ہے۔ یہ یقین اکثر لاشعوری سطح پر موجود ہوتے ہیں اور انسان کے رویے، سوچ اور جذبات پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔ مثال کے طور پر : ”میں محبت کے قابل نہیں ہوں“ ، ”دنیا خطرناک جگہ ہے“ ، یا ”میں ناکام ہوں“ یہ سب منفی کور بلیفس کی مثالیں ہیں۔

یہ تصور کگنیٹیو تھیراپی (Cognitive Therapy) کے بانی آرون ٹی۔ بیک (Aaron T  Beck) نے پیش کیا۔ اُن کے مطابق یہ کور بلیفس ہی بعد میں منفی خودساختہ خیالات (Negative Automatic Thoughts) کو جنم دیتے ہیں، اور یہی انسان کی ذہنی الجھنوں، ڈپریشن یا اینگزائٹی کی جڑ بنتے ہیں۔

اس کے برعکس کچھ ماؤں کا رویہ بیٹے کے ساتھ حد سے زیادہ خدمت گزاری کا ہوتا ہے۔ بیٹے کے کپڑے، کھانے، فیصلے سب کچھ ماں اپنے قابو میں رکھتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ وہ مرد ایک مکمل شخص بننے کی بجائے ہمیشہ کسی نگہداشت کرنے والی عورت کا محتاج رہتا ہے۔ جب شادی کے بعد بیوی یہ کردار ادا کرنے سے انکار کرتی ہے تو وہ اسے محبت کی کمی نہیں بلکہ نفرت کی علامت سمجھتا ہے اور ردِعمل میں بیوی سے بیزاری اختیار کر لیتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ رویے صرف بیٹے کی شادی ہی نہیں بلکہ اس کی مجموعی شخصیت کو متاثر کرتے ہیں۔ ایک مطالعہ جسے برطانوی ماہرِ نفسیات جان گولڈ نے انجام دیا، ظاہر کرتا ہے کہ ایسے مرد اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بھی عورتوں کے ساتھ تعاون کرنے سے ہچکچاتے ہیں اور لاشعوری طور پر ان کے ساتھ برابری کا رشتہ قائم نہیں کر پاتے۔

 

اگر بیٹا اپنی ماں سے شدید محبت کرتا ہے تو اس محبت میں ایک پوشیدہ خوف بھی موجود رہتا ہے۔ یہ خوف ماں کو کھو دینے کا ہوتا ہے، جو لاشعوری طور پر اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق یہ کیفیت ”سیپریشن اینگزائٹی“ کہلاتی ہے، یعنی جدائی کا اضطراب۔ ایسے بیٹے بڑے ہو کر بھی عورت کے رشتے میں غیر یقینی اور بے چینی محسوس کرتے ہیں، کیونکہ ان کے ذہن میں یہ خیال بیٹھ جاتا ہے کہ جس طرح ماں کو کھونے کا خطرہ تھا، اسی طرح کوئی اور عورت بھی کبھی ان سے دور جا سکتی ہے۔ یہ کیفیت محبت کو سہارا دینے کے بجائے بوجھ میں بدل دیتی ہے، اور وہ مرد عورت کے قریب آتے ہوئے بھی دوری کے خدشے میں مبتلا رہتے ہے۔

بچپن کی حد سے بڑھی ہوئی قربت یا سختی، بیٹے کو ایک ایسے مرد میں ڈھال دیتی ہے جو یا تو عورت سے غیر حقیقی توقعات رکھتا ہے یا عورت کو ہمیشہ خطرہ سمجھتا ہے۔ نتیجے میں محبت کی بجائے نفرت، اعتماد کی بجائے شک، اور ہمسفری کی بجائے تنہائی جنم لیتی ہے۔

ایک اچھی اور مثبت ماں کا اثر بیٹے کی شخصیت پر گہرائی سے پڑتا ہے، کیونکہ ماں کی محبت، اعتماد اور حوصلہ افزائی اس کے اندر خوداعتمادی، مثبت سوچ اور دوسروں کے لیے احترام پیدا کرتی ہے۔

نپولین بوناپارٹ نے کہا کہ ”Let France have good mothers، and she will have good sons۔“ (اگر فرانس کے پاس اچھی مائیں ہوں گی تو اس کے پاس اچھے بیٹے بھی ہوں گے )

 

ماں جو اپنے بیٹے کو عزت، انصاف اور صبر سکھاتی ہے، دراصل اسے زندگی کے نشیب و فراز کا مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط بناتی ہے۔ بیٹا جب دیکھتا ہے کہ ماں ہر حال میں امید اور حوصلے کے ساتھ کھڑی ہے تو وہ بھی مشکلات کو سمجھنا سیکھتا ہے، یوں اس کی شخصیت میں احساسِ ذمہ داری، دوسروں کے لیے نرمی اور اپنی ذات پر یقین پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ماں پرورش میں اعتدال پیدا کرے۔ بیٹے کو محبت اور آزادی دے لیکن انحصار اور کنٹرول سے بچے۔ اگر بیٹے کو صحت مند حدود کے ساتھ پرورش دی جائے تو وہ ایک ایسا مرد بنتا ہے جو محبت کو بوجھ نہیں بلکہ سکون سمجھتا ہے اور عورت کو شک کے بجائے اعتماد کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

بشکریہ ایکسپرس