شادی ایک مقدس بندھن ہے جو دو لوگوں کے بیچ ہی نہیں ہوتا بلکہ دو خاندانوں کو تعلق کی ڈور میں باندھ دیتا ہے۔ یہ فقط جسم کا ناتا نہیں بلکہ آگے چل کر ذہنی و روحانی قربت میں بدل جاتا ہے۔ مگر یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا یہ شادی فریقین کے باہمی رضامندی سے طے پائی ہے یا ایک زبردستی کا رشتہ جوڑ دیا گیا ہے۔
اگر شادی شدہ جوڑے میں مرد یا عورت اس رشتے سے خوش نہیں ہے تو پھر کوئی بھی تیسرا فرد درمیان میں آ سکتا ہے۔ یہ تیسرا شخص ایکسٹرا میریٹل ریلیشن کی بنیاد بنتا ہے۔
دوسرے لفظوں میں شادی کے بعد کسی تیسرے شخص سے جذباتی یا جسمانی تعلق قائم کرنا ایک ایسا موضوع ہے، جو رشتوں، سماجی ڈھانچے، اور نفسیاتی محرکات کے لئے سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ اس عمل کو دھوکہ، گناہ، یا اخلاقی روایتوں سے انحراف سمجھا جاتا ہے، مگر اس کے پس پردہ محرکات محض جسمانی کشش پر مبنی نہیں ہوتے بلکہ بے اطمینانی کا خلا، معاشرتی تضادات اور انسان کی پیچیدہ فطرت سے جُڑے ہوتے ہیں۔
عورت جب معاشرتی دائرہ کار سے ہٹ کر کسی مرد سے تعلق قائم کرتی ہے چاہے وہ جذباتی ہو یا جسمانی تو اس کے پیچھے محض ”خواہش“ کا محرک نہیں ہوتا، بلکہ اکثر یہ رویہ کسی اندرونی کشمکش، جذباتی تنہائی یا احساس محرومی کی صورت میں ابھرتا ہے۔ شادی شدہ عورت اگر دوسرے مرد کی طرف متوجہ ہوتی ہے تو یہ اس کی ازدواجی زندگی میں جذباتی نارسائی، محرومی اور عدم توجہ کی علامت ہو سکتی ہے۔ بلوچستان میں ہونے والے کارو کاری کے واقعے میں بانو جیسے کردار کا فیصلہ دراصل ایک چیخ ہوتی ہے، ایک صدا جو وہ سماج سے نہیں، بلکہ اپنے اندرونی ٹوٹتے ہوئے وجود سے کر رہی ہوتی ہے۔ اس معاملے میں جس کا بھی قصور تھا مگر یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ غیر یقینی رشتوں پر انحصار کرنے کے بجائے عورت کو مرد کے جذباتی سہارے کے بغیر، خود انحصاری کے ساتھ جینے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ سراب کو سراب سمجھنا ہو گا اور تلخ حقائق کا سامنا کرنا ہو گا۔ کیونکہ جو محبت اور احساساتی تحفظ وہ مرد سے چاہتی ہے وہ شاذ و نادر ہی کسی خوش نصیب کے حصے میں آتا ہے!
اس صورتحال میں عورت کی شخصیت دوہری اذیت سے گزرتی ہے۔ ایک طرف اسے اپنے جذبات، خواہشات اور شناخت کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے، دوسری طرف معاشرہ اسے ”ناقابلِ عزت“ ٹھہراتا ہے۔ مرد جیسا کہ اکثر اس معاشرتی الزام سے بچ نکلتا ہے کیونکہ مرد کی جنسی یا جذباتی آزادی کو اکثر ”فطری“ یا قابل معافی ”سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس عورت کی ہر لغزش کو“ عزت ”کے پیمانے پر تول کر قتل جیسے جرائم کا جواز بنا دیا جاتا ہے۔
نفسیاتی طور پر، ایسی عورتیں گہرے عدم تحفظ، خوف، اور بے یقینی کا شکار ہوتی ہیں۔ ان کے اندر ایک مسلسل کشمکش چلتی رہتی ہے : ”کیا میں اپنی خواہشات کی مالک ہوں؟ یا میرے جذبات پر بھی سماج کی اجارہ داری قائم ہے؟“ یہ کشمکش رفتہ رفتہ اضطراب، ڈپریشن، خود سے نفرت اور حتیٰ کہ خودکشی جیسے رجحانات کو جنم دے سکتی ہے۔
جب دو افراد شادی کے بندھن میں بندھتے ہیں تو وہ صرف قانونی یا مذہبی طور پر نہیں جُڑتے بلکہ ان کے درمیان اعتماد، عزت نفس اور جذباتی انحصار کا نازک رشتہ بھی قائم ہو جاتا ہے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ توجہ کی کمی، جذباتی فاصلے، یا مسلسل بے قدر کی وجہ سے جب یہ رشتہ کمزور پڑ جاتا ہے تو انسان لاشعوری طور پر اُس خلا کو کسی اور ذریعہ سے پُر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ کوشش کبھی ایک شادی شدہ فرد سے تعلق کی صورت میں ڈھلتی ہے، کبھی کسی پرانے جاننے والے سے جذباتی گفتگو کی صورت اختیار کرتی ہے، اور کبھی خالص جسمانی تعلق تک جا پہنچتی ہے۔
ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان ظاہری طور پر مطمئن ازدواجی زندگی گزار رہا ہوتا ہے، مگر اندر ہی اندر وہ کسی جذباتی تشنگی یا شناخت کے بحران سے گزر رہا ہوتا ہے۔ ایک مرد جو خود کو اپنی بیوی کے سامنے بے وزن محسوس کرتا ہے، یا ایک عورت جو اپنے شوہر کی مسلسل بے توجہی سے زخم خوردہ ہو چکی ہو، وہ اپنے لاشعور میں کسی ایسے شخص کی تلاش شروع کر دیتے ہیں جو اُسے مکمل، قابلِ قدر اور اہم محسوس ہونے کا احساس دے۔ یہ احساس اکثر کسی دوست، کولیگ، یا کبھی کبھی سوشل میڈیا پر کسی اجنبی سے بات چیت کے دوران پیدا ہوتا ہے۔
نفسیاتی لحاظ سے دیکھا جائے تو شادی شدہ زندگی میں یہ غیر قانونی تعلق اکثر کسی اندرونی عدم توازن کا عکس ہے۔ بعض اوقات یہ رویے نرگسیت (Narcissism) کی علامت ہیں، جب کوئی شخص مسلسل تصدیق کا خواہاں ہوتا ہے۔ بعض اوقات یہ ماضی کے کسی جذباتی صدمے کی بازگشت ہوتی ہے، بچپن میں محبت کی کمی، والدین کے غیر مستحکم تعلقات، یا جنسی بدسلوکی کے تجربات۔ اس کے علاوہ کئی لوگ جنہیں commitment phobia ہوتا ہے، وہ شادی کے باوجود دوسرے تعلقات کی طرف مائل ہو جاتے ہیں کیونکہ انہیں کسی ایک بندھن میں خود کو مکمل طور پر سپرد کرنے سے خوف آتا ہے۔
سماجی حوالے سے یہ تعلقات اکثر ایک خاموش بحران کو جنم دیتے ہیں۔ مردوں کے لیے معاشرے میں شادی کے بعد کی محبت کو ’مردانگی‘ یا ’فطری حق‘ سمجھا جاتا ہے، جب کہ عورت کے لیے یہی عمل گناہ، بے غیرتی اور خاندان کی عزت کی توہین بن جاتا ہے۔ یہی تضاد غیرت کے نام پر قتل (آنر کلنگ) جیسے المیوں کو جنم دیتا ہے، جہاں عورت کو اپنے انتخاب یا محض شک کی بنیاد پر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔
آنر کلنگ کا تصور درحقیقت اس بات سے جنم لیتا ہے کہ عورت کو خاندان کی ”ملکیت“ سمجھا جاتا ہے، اور جب وہ اپنے جذبات، بدن، یا فیصلوں پر خود اختیار حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے تو خاندان اسے عزت کے دائرے سے خارج سمجھتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایکسٹرا میریٹل ریلیشن شپ صرف ایک ذاتی یا جذباتی معاملہ نہیں رہتا بلکہ سماجی سیاست، طاقت کے توازن، اور صنفی امتیاز کا میدان بن جاتا ہے۔
چارلس نیپیئر جب 1843 ء میں سندھ فتح کر کے برطانوی راج کا نمائندہ بن کر آیا، تو اس نے نہ صرف سیاسی نظم و نسق قائم کیا بلکہ سندھ کے مقامی رسوم و رواج کا بھی گہرا مشاہدہ کیا۔ ان میں ایک خونی رسم ”کارو کاری“ تھی، جس کے تحت عورتوں کو ”غیرت“ کے نام پر قتل کر دیا جاتا تھا، اکثر محض شک کی بنیاد پر۔ نیپیئر نے اس رسم کو ظلم اور قانون شکنی قرار دیا۔ اس نے واضح کیا کہ برطانوی قانون کے تحت کوئی بھی انسان غیرت کے نام پر قتل نہیں کر سکتا۔
نیپیئر کا مقامی سرداروں اور مذہبی رہنماؤں سے ایک تاریخی مکالمہ بہت مشہور ہے، جس میں انہوں نے کہا: ”تمہاری رسم ہے کہ عورتوں کو قتل کیا جائے ؛ ہماری رسم ہے کہ قاتلوں کو پھانسی دی جائے۔“ یہ جملہ اس ظاہر کرتا ہے کہ کہ وہ انسانی جان کی حرمت پر یقین رکھتا تھا اور عورتوں کے خلاف ظلم کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔ نیپیئر نے پولیس اور عدالتوں کو ہدایت دی کہ کاروکاری کے ہر مقدمے کو قتل کے مقدمے کے طور پر لیا جائے، اور مجرموں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
اگرچہ نیپیئر کے ان اقدامات سے شہری علاقوں میں اس رسم میں وقتی کمی آئی، مگر دیہی اور قبائلی نظام میں یہ ظلم مکمل طور پر ختم نہ ہو سکا۔ بعد ازاں جب برطانوی توجہ دیگر مسائل کی طرف مبذول ہوئی، تو مقامی طاقتور طبقات نے دوبارہ اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے کاروکاری جیسے مظالم کو زندہ رکھا۔ تاہم، نیپیئر کی یہ کوشش انسانی حقوق اور عدل کے قیام کی جانب پہلا قدم تھی، جو آج بھی ایک تاریخی مثال کے طور پر یاد رکھی جاتی ہے۔
ماضی کی طرف چلتے ہیں تو سترہویں صدی میں سندھ کے صوفی شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی نے عورت کو اہم شناخت عطا کی اور اسے خوداعتمادی اور فیصلے میں با اختیار دکھایا ہے۔ حالانکہ ان عورتوں سے غلطیاں بھی سرزد ہوتی ہیں۔ جیسے مومل رانو کی کہانی میں رانو کی غیر موجودگی میں وہ بہن کو کہتی ہے کہ رانو کے کپڑے پہن کر اس کے قریب لیٹ جائے تاکہ اسے رانو کی غیر موجودگی محسوس نہ ہو۔
اتفاق سے رانو واپس آتا ہے اور مومل کے قریب غیر مرد لیٹا دیکھ کر واپس لوٹ جاتا ہے لیکن اسے کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔ شاہ جو رسالو کے ایک اور کردار لیلا سے غلطی ہوتی ہے مگر چنیسر اس کے ساتھ کسی جارحیت کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ عمر ماروی کی داستان میں جب عمر کوٹ کا بادشاہ ماروی کے حسن کے چرچے سن کر اسے اغوا کر کے اپنے محل میں قید کر لیتا ہے مگر آخر تک ماروی اسے اپنا بھائی کہتی رہی۔ بالآخر عمر بادشاہ اس کی ضد کے آگے ہار کر اسے اپنے لوگوں میں واپس بھیج دیا اور گھر والے اسے اپنا لیتے ہیں۔ سوہنی مہینوال کے مشہور قصے کو پنجاب کے صوفیوں نے گایا ہے۔ شاہ لطیف نے سوہنی کی محبت کو اپنی شاعری کا محور بنایا ہے۔ وہ شادی کے بعد بھی مہینوال سے ملنے جاتی ہے۔ اکثر لوگ سوال کرتے ہیں کہ شاہ لطیف نے شادی کے بعد عورت کے عشق کو کیوں دکھایا ہے؟ تو اس کا سادہ سا جواب ہے کہ جب سوہنی نے والدین کو اپنی پسند سے آگاہ کیا تو والدین نے اس کی کیوں نہ سنی؟ اور زبردستی اس کی شادی کسی اور جگہ کردی۔ کسی جائز مگر غلط رشتے میں بندھ کر عورت کے سینے میں ایک محرومی کی چنگاری سلگنے لگتی ہے، جو ایک دن گھر اور خاندان کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ لہذا سماجی رویوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ عورت کو شوہر سے شکایت ہے تو اس کی شکایت کی کو حل کیا جانا چاہیے۔
شاہ لطیف نے سترہویں صدی میں عورت کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا ہے مگر دوسری جانب انیسویں صدی میں رابرٹ براؤننگ کی نظموں Porphyria ’s Lover اور My Last Duchess میں عورت کے قتل کو مرد راوی کی نظر سے بیان کیا گیا ہے، جو محض قتل نہیں بلکہ طاقت، ملکیت، اور جذباتی تسلط کی علامت ہے۔ Porphyria‘ s Lover میں عاشق اپنی شادی شدہ محبوبہ پورفیریا کو اس کے سنہری بالوں سے گلا گھونٹ کر اس وقت قتل کرتا ہے جب وہ اس کی مکمل محبت کا یقین پا لیتا ہے۔ یہ قتل اس کے لیے محبت کو اپنے اختیار میں سمجھنے اور امر بنانے کا طریقہ ہے، ایک ایسا لمحہ جسے وہ ہمیشہ کے لیے روک دینا چاہتا ہے۔ وہ خود کو کسی پچھتاوے یا جرم کا مجرم محسوس نہیں کرتا بلکہ سمجھتا ہے کہ اس نے ایک مکمل اور خوش لمحے کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا ہے۔ ایک اور نظم My Last Duchess میں ایک طاقتور ڈیوک اپنی پہلی بیوی کی فطری خوش اخلاقی، مسکراہٹ اور دوسروں سے ملنساری کو اپنی شان و شوکت کے خلاف سمجھتا ہے، اور مبہم انداز میں بتاتا ہے کہ اس نے اسے قتل کروا دیا: ”I gave commands; then all smiles stopped together“ ۔ قتل کروانے کی وجہ اس کی بیوی کے چہرے پر وہ مسکراہٹ تھی جو تصویر بناتے وقت اس نے چہرے پر سجائی تھی، جسے شوہر نے شک کی نگاہ سے دیکھا تھا، شاید یہ مسکراہٹ مصور کو دیکھ کر اس کے چہرے پر ابھری ہو۔ یہاں قتل ایک سوچا سمجھا قدم ہے، جو انا، سماجی رتبے اور مردانہ ملکیت کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ دونوں نظموں میں عورت ایک مکمل فرد کے بجائے مرد کے احساس ملکیت، جنون یا رتبے کی نمائندہ بن جاتی ہے، اور اس کی زندگی مرد کے ہاتھوں میں ایک خاموش فیصلہ بن کر ختم ہو جاتی ہے۔ یہ نظمیں محبت، اختیار اور صنفی طاقت کے پیچیدہ رشتے کو گہرے انداز میں ظاہر کرتی ہیں۔
آنر کلنگ کے واقعات محض قبائلی علاقوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ ایشیا کے ساتھ یورپ کے ممالک میں بھی رونما ہوتے رہے ہیں۔ خاص طور پر ترکی میں خواتین کے خلاف تشدد ایک سنجیدہ اور ابھرتا ہوا سماجی مسئلہ بن چکا ہے، جس کی ایک بھیانک شکل خواتین کا قتل (Femicide) ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں اس رجحان میں جو تیزی آئی ہے، وہ تشویش ناک ہونے کے ساتھ ریاستی اداروں کی ناکامی کی عکاسی بھی کرتی ہے۔
اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ 2000 کی دہائی کے بعد ترکی میں خواتین کے قتل کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا۔ صرف 2019 میں 474 خواتین کو قتل کیا گیا، جو گزشتہ دس سالوں میں کسی ایک سال میں سب سے زیادہ تعداد تھی۔ اسی تناظر میں ”وی ول اسٹاپ فیمی سائیڈ پلیٹ فارم“ (We Will Stop Femicide Platform) کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق، 2020 میں 300 خواتین مردوں کے ہاتھوں قتل ہوئیں جبکہ 171 خواتین کی موت مشتبہ حالات میں واقع ہوئی۔
یہ اعداد محض جرائم کی فہرست نہیں بلکہ وہ علامتی نشانیاں ہیں جو ترکی جیسے معاشرے میں خواتین کے خلاف ساختیاتی صنفی تشدد کی موجودگی کی تصدیق کرتی ہیں۔ یہ واقعات صرف ذاتی یا گھریلو نوعیت کے نہیں بلکہ وسیع تر معاشرتی، قانونی اور ریاستی سطح پر خواتین کے لیے غیرمحفوظ ماحول کا پتا دیتے ہیں۔
شادی کے بعد محبت میں شامل افراد اکثر گہری بے چینی، احساسِ جرم، اور شناخت کے بحران کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جب یہ تعلقات بے نقاب ہوتے ہیں تو نہ صرف شادی شدہ زندگی بکھر جاتی ہے، بلکہ بچے، خاندان اور سماجی رشتے بھی اس زلزلے کی زد میں آ جاتے ہیں۔ بعض افراد شدید ڈپریشن، خودکشی یا جذباتی تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
مگر اس کے ساتھ ساتھ، یہ بھی سچ ہے کہ کئی لوگ ایسے تعلقات سے گزر کر اپنی زندگی کے اصل مسائل سے روبرو ہوتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اُن کی شادی پہلے ہی مردہ ہو چکی تھی، اور وہ صرف سماج کے خوف سے اُسے ڈھوتے رہے۔ بعض لوگ اپنے اندر چھپی خواہشات، شناخت، اور جذبات کو پہلی بار پہچان پاتے ہیں۔ یہ تعلقات اگرچہ اخلاقی دائرے سے باہر سمجھے جاتے ہیں، مگر بعض اوقات یہ انسان کو اپنی اصل ذات تک لے جانے کا راستہ بھی بن جاتے ہیں۔
سماج کو چاہیے کہ وہ سماجی طور پر ممنوعہ اس تعلق کو صرف سزا، شرمندگی یا قتل کی نظر سے نہ دیکھے بلکہ اُن اسباب پر توجہ دے جو ایسے تعلقات کو جنم دیتے ہیں۔ تعلیم، جذباتی ذہانت، جنسی آگہی، اور رشتوں میں کھلے پن کا فروغ ایسے حالات سے بچنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ روایتی سوچ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب تک ہم شادی کو صرف ایک سماجی بندھن اور عورت کو صرف وفاداری کا مجسمہ سمجھتے رہیں گے، تب تک ایسے تعلقات نہ صرف جاری رہیں گے بلکہ اُن کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سانحات بھی بڑھتے جائیں گے۔ اس طرح کے سانحے ملکی اور بین الاقوامی طور پر رسوائی کا سبب بنتے ہیں۔
شادی کے بعد کے تعلقات کو صرف جرم سمجھ کر مسترد کر دینا مسئلے کا حل نہیں۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رشتوں کی گہرائی کو سمجھیں، انسان کی جذباتی پیچیدگی کو تسلیم کریں، اور ایک ایسا ماحول پیدا کریں جہاں لوگ اپنے جذبات، خواہشات، اور مسائل کو بغیر خوف کے بیان کر سکیں۔ ورنہ یہ خفیہ تعلقات، جھوٹ، بد اعتمادی، اور قتل جیسے المناک انجام، ہمارے معاشرے کے ماتھے پر ایک مستقل داغ بنے رہیں گے۔