153

پرفریب محبت کے طلسم سے آزادی: عورت کا نیا جنم

عورت کا پرفریب محبت کے جادو سے نکلنا ایک نہایت اہم موضوع ہے، کیونکہ یہ صرف انفرادی زندگی کا معاملہ نہیں بلکہ پورے معاشرتی تانے بانے سے جڑا ہوا ہے۔ اس بناوٹی محبت کا اثر عورت کی شخصیت، اس کے خواب، اس کے رشتوں اور حتیٰ کہ اس کی آنے والی نسلوں پر بھی گہرا پڑتا ہے۔ مرد جب چاہت کو دھوکے، وقتی لطف یا طاقت کے اظہار کے طور پر استعمال کرتا ہے تو عورت کی عزت نفس پر ایسے زخم چھوڑ جاتا ہے جو سالہا سال بھر نہیں پاتے۔ لیکن عورت اگر اپنی شعوری آنکھ کھول لے تو اس فریب کا جادو کو توڑ سکتی ہے۔

محبت انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ فرائڈ نے کہا تھا کہ انسان کی زیادہ تر ذہنی توانائیاں محبت اور جنسی کشش کے گرد گھومتی ہیں۔ لیکن فرق یہ ہے کہ سچی محبت اگر خلوص اور ذمہ داری پر مبنی ہو تو وہ شخصیت کو نکھارتی ہے، جبکہ مصنوعی محبت شخصیت کو توڑ دیتی ہے۔ عورت کی ذہنی ساخت چونکہ زیادہ جذباتی، تعلق پر مبنی اور قربت کی خواہش رکھنے والی ہے، اس لیے وہ مرد کی چاہت کے

دعووں اور وعدوں پر جلدی اعتبار کر لیتی ہے۔ یہ یقین اکثر اس کی تنہائی، عدم تحفظ اور بچپن کی نفسیاتی خلا کی وجہ سے اور بھی بڑھ جاتا ہے۔

بچپن کی ذہنی تربیت پر غور کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ بچیاں اکثر اپنے والد کے رویے کو ایک بنیادی معیار سمجھتی ہیں۔ اگر والد پیار کرنے والا اور قابلِ اعتماد ہو تو لڑکی کے اندر اعتماد پیدا ہوتا ہے اور وہ بڑے ہو کر محبت کو حقیقت پسندی کے ساتھ دیکھتی ہے۔ لیکن اگر والد غیر حاضر، جابرانہ یا بے پرواہ ہو تو لڑکی کے لاشعور میں یہ منفی رویے نقش ہو جاتے ہیں۔ لہذا وہ کسی ایسے مرد کی تلاش کرے گی جو اس خلا کو پر کر دے۔ یہی کمی اکثر عورت کو ایسے مرد کے پاس لے جاتا ہے جو بظاہر محبت کا دعویدار ہو لیکن حقیقت میں صرف اپنی خواہشات پوری کرنا چاہتا ہو۔

جدید نفسیات میں ایک نظریہ Attachment theory کہلاتا ہے۔ اس کے مطابق انسان بچپن میں جس طرح کا تعلق اپنے والدین سے بناتا ہے، وہی تعلق بعد کی زندگی میں اس کے رشتوں کا معیار بن جاتا ہے۔ جن عورتوں کا بچپن غیر محفوظ یا جذباتی کمی کا شکار ہوتا ہے، وہ اکثر ”anxious attachment“ رکھتی ہیں۔ یعنی وہ رشتے میں ضرورت سے زیادہ جڑ جاتی

ہیں، ہر اشارہ سچ مان لیتی ہیں اور جدائی کے خوف سے مرد کی کھوکھلی باتوں کو بھی قبول کر لیتی ہیں۔ یہی نفسیاتی کیفیت مرد کو موقع دیتی ہے کہ وہ اپنی وقتی چاہت کو عورت پر مسلط کرے۔

 

مرد کی فطرت میں بھی ایک تضاد ہے۔ وہ ایک طرف اظہارِ محبت کرتا ہے اور عورت کو یقین دلاتا ہے کہ وہی اس کا سہارا ہے، لیکن دوسری طرف وہ اپنی جبلت کے ہاتھوں مجبور ہوتا ہے کہ نئے پن، طاقت اور تسلط کی تلاش کرے۔ ایرک فرام کے مطابق اگر چاہت میں تخلیقی قوت اور ذمہ داری نہ ہو تو وہ صرف ”possessive love“ یعنی قبضہ کرنے والی محبت بن جاتی ہے۔ مرد کی لگن اکثر اسی رخ پر چلی جاتی ہے۔ وہ عورت کو اپنی ملکیت سمجھ کر چاہتا ہے، لیکن جب ذمہ داری اور قربانی کا وقت آتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتا ہے۔

مرد چونکہ ایک صارف (consumer) کی حیثیت میں زندگی کو دیکھنے لگتا ہے، اس لیے وہ اکثر جذبات کی باریک نزاکت کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتا۔ جدید نفسیات بتاتی ہے کہ مسلسل صارف کلچر میں رہنے والا فرد اشیاء اور تعلقات کو بھی ایک پروڈکٹ کی طرح دیکھنے لگتا ہے۔ جرمن ماہرِ نفسیات ایرک فرام اپنی کتاب To Have or To Be میں لکھتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام نے انسان کو ”ہونے“ کے بجائے ”رکھنے“ کی جبلت پر قائم کر دیا ہے، نتیجہ یہ کہ مرد رشتوں میں بھی ملکیت اور حصول کی جبلت زیادہ محسوس کرتا ہے جبکہ احساس اور ہمدردی ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر تعلقات میں جذباتی باریکیوں کو یا تو نظرانداز کرتا ہے یا انہیں وقتی خواہشات کی تکمیل کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ اس ذہنی رویے کی جڑ اس بات میں ہے کہ صارف ذہنیت فرد کو اندرونی طور پر زیادہ مادی، جلد باز اور سطحی بنا دیتی ہے۔

یہاں سماجی عوامل بھی عورت کے دھوکا کھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہماری معاشرتی تربیت عورت کو یہ سکھاتی ہے کہ اس کی اصل پہچان مرد کے ساتھ جڑنے میں ہے۔ لڑکیوں کو بچپن سے یہی باور کرایا جاتا ہے کہ شادی اور مرد کا پیار ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اس دباؤ کے تحت عورت محبت کے کسی بھی وعدے کو زندگی کا سب سے بڑا تحفہ سمجھتی ہے اور مرد کے فریب میں آ جاتی ہے۔ سماج میں عورت کی خود مختار شناخت کو کم اہمیت ملتی ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی تکمیل صرف مرد کی الفت میں تلاش کرتی ہے۔

عورت کی ذہنی کیفیت میں محبت محض ایک جذبہ نہیں بلکہ مکمل زندگی کا استعارہ ہوتی ہے۔ وہ اپنی ذات کو چاہت میں فنا کر کے کسی رشتے کو دوام دینا چاہتی ہے۔ اس کی فطرت میں یہ جستجو چھپی ہے کہ وہ اپنے وجود کے خالی پن کو کسی اور کی قربت سے بھر سکے، اسی لیے وہ رشتوں میں احساس کو سب سے اہم مقام دیتی ہے۔ وہ بانٹنے، قربانی دینے اور تحفظ فراہم کرنے کو محبت کا حصہ سمجھتی ہے، اس لیے اس کی چاہت کا زاویہ زیادہ گہرا اور جذباتی ہوتا ہے۔ عورت کا دل امن اور سکون کا مسکن ہے، وہ اپنے وجود کو دوسروں کے دکھ درد کا سہارا بنا کر معنی حاصل کرتی ہے۔

اس کے برعکس مرد کی ذہنی ساخت میں طاقت، غلبہ اور فتح کی جستجو بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ تاریخ انسانی کا بیشتر حصہ مرد کی جنگی فطرت اور اقتدار و عورت کی ہوس کی عکاسی کرتا ہے، جہاں وہ حاکمیت کے ذریعے اپنی برتری ثابت کرتا آیا ہے۔ مرد کے لیے محبت اکثر ایک فتوحات کے سلسلے کا حصہ محسوس ہوتی ہے، جبکہ عورت کے لیے یہ داخلی سکون اور زندگی کا سرچشمہ ہے۔ یہی فرق عورت کو محبت کے جادو میں زیادہ سنجیدہ اور مرد کو اس سے زیادہ آزاد اور خودغرض بنا دیتا ہے۔

نفسیات دان مارٹن سیلگمن نے ”learned helplessness“ کا تصور دیا تھا۔ اس کے مطابق اگر کوئی شخص بار بار دھوکہ کھائے، زخم اٹھائے یا مشکلات کا شکار ہو اور اس کے پاس کوئی راستہ نہ ہو، تو وہ ایک وقت کے بعد یہ یقین کرنے لگتا ہے کہ وہ اپنی تقدیر نہیں بدل سکتا۔ عورت بھی جب بار بار کھوکھلے رشتوں اور فریب دہ محبت کا شکار ہوتی ہے تو وہ اس کیفیت میں آ سکتی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ یہی اس کی قسمت ہے اور وہ اس جال سے نکل نہیں سکتی۔ اس کیفیت سے نکلنے کے لیے شعوری بیداری اور سماجی حمایت دونوں ضروری ہیں۔

عورت کو مسلسل نظرانداز کرنا، یعنی اس کی جذباتی یا عملی ضروریات کو اہمیت نہ دینا، عورت کے اندر شدید تنہائی اور غیر ضروری ہونے کا احساس پیدا کرتا ہے، جسے ماہرین Invisible Trauma کہتے ہیں۔ اس کیفیت میں عورت کو لگتا ہے کہ اس کے جذبات کی کوئی اہمیت نہیں اور نتیجتاً وہ اینگزائٹی، ڈپریشن اور تعلقاتی مسائل کا شکار ہو جاتی ہے۔

جسمانی تشدد عورت کے جسم کو زخمی کرتا ہے، زبانی تشدد اس کی روح کو توڑ دیتا ہے اور نظرانداز کرنا اس کے وجود کو خاموش موت کی طرف دھکیل دیتا ہے۔

عورت جب محبت میں مبتلا ہوتی ہے تو اس کے دماغ میں ڈوپامین اور آکسیٹوسن جیسے کیمیائی مادے خارج ہوتے ہیں۔ یہ مادے سکون، خوشی اور وابستگی کی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ اسی لیے عورت جھوٹی محبت کو بھی سچ سمجھتی ہے، کیونکہ اس کے جسمانی و دماغی نظام میں وہی کیمیکل پیدا ہو رہے ہوتے ہیں جو حقیقی محبت میں پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن یہ وقتی کیفیت جلد ختم ہو جاتی ہے اور عورت شدید صدمے میں چلی جاتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب عورت کو اپنی نفسیاتی کمزوری کو پہچاننا ہوتا ہے۔

عورت اگر ان تجربات سے سبق لے تو اسے اندازہ ہو گا کہ محبت کے وعدے صرف اس وقت معتبر ہیں جب وہ عمل اور قربانی کے ساتھ ہوں۔ عورت کے لیے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کو مرد کی چاہت کے بغیر بھی مکمل سمجھے۔

 

نفسیاتی طور پر جو عورت خود پر اعتماد رکھتی ہے اور اپنی شناخت کو اپنی ذات سے جوڑتی ہے، وہ جھوٹے پیار کے فریب میں کم آتی ہے۔ تعلیم، خود انحصاری اور سماجی شعور عورت کو محبت کے جادو سے آزاد کرتے ہیں۔ یہ آزادی صرف ذاتی فائدہ نہیں دیتی بلکہ اجتماعی سطح پر بھی تبدیلی لاتی ہے۔ جب عورت کھوکھلے طلسم سے نکل کر اپنی شناخت قائم کرتی ہے تو وہ نئی نسل کو بھی یہ شعور دیتی ہے کہ محبت ذمہ داری، قربانی اور سچائی کے بغیر محض دھوکا ہے۔

عورت چاہتی ہے کہ مرد نہ صرف اس سے محبت کرے بلکہ اس کے جذبات کو سمجھے، اس کی حفاظت کرے، اس کے دکھ اور سکون کا ساتھی بنے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر مرد ان تصورات پر پورا نہیں اتر پاتا۔ اس کی کئی وجوہات ہیں : کچھ مرد محبت کو صرف خواہش یا جسمانی کشش تک محدود کر دیتے ہیں اور اس کی گہرائی میں نہیں اترتے۔ کچھ مردوں کی تربیت اور معاشرتی سوچ انہیں عورت کے احساسات کو سمجھنے کے بجائے اپنی برتری اور طاقت منوانے پر مجبور کرتی ہے۔ کچھ مرد اندر سے ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں، وہ خود اپنی کمزوریوں اور خوف سے آزاد نہیں ہو پاتے، اس لیے دوسروں کو سہارا بھی نہیں دے پاتے۔

لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں کہ تمام مرد عورت کے خواب پائمال کرتے ہیں۔ ایسے مرد بھی موجود ہیں جو عورت کو برابر کا انسان سمجھتے ہیں، جو محبت کو صرف لفظوں یا وقتی جوش نہیں بلکہ ایک ذمہ داری اور زندگی کی ہمراہی کے طور پر لیتے ہیں۔ وہ عورت کی عزت کرتے ہیں، اس کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں، اور اس کے خوابوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ فرق صرف نظر، تربیت، شعور اور محبت کی گہرائی کا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ مرد کی فطرت میں چاہت اور فریب دونوں موجود ہیں، لیکن عورت اگر اپنی شعوری آنکھ کھول لے، اپنی شناخت مرد کے بغیر مکمل سمجھے اور اپنی زندگی کو مقصد اور شعور سے جوڑ لے تو وہ جھوٹے سحر سے باہر نکل کر بغیر کسی ذہنی دباؤ کے اچھی زندگی گزار سکتی ہے۔

 

بشکریہ ایکسپرس