79

ڈی سی لیہ امیرابیدار کی فرض شناسی 

میں زندگی بھر ایسی خبریں پڑھ پڑھ کے کڑھتا اور اس ملک کے کرتوں دھرتوں کو کوستا رہا کہ فلاں فلاں سرکاری اہلکار یا افسر کو کرپشن یا کسی اور خباثت کے الزام میں فلاں جگہ سے فلاں جگہ ٹرانسفر کردیا گیا۔ ضلع لیہ میں یونین کونسل کے سیکریٹری لیول کے ایک اہلکار رضا خان کا کئی روز قبل تبادلہ ہونے کے باوجود وہ اپنی سیٹ پر بر اجمان ہے ۔مجھے لگتا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کیلئے وہ ایک کماو پت ہے ۔پنجاب حکومت اور ڈی سی لیہ امیرا بیدارکو اس بات کی داد دیتا ہوں کہ انہوں نے عوامی شکایات پر ایکشن لیا مگر جانے کیوں وہ اپنی سیٹ پر ہے  

میں اکثر سوچتا تھا کہ کسی بھی کرپٹ اہلکار کو ٹرانسفر کیا گیا، کیا وہاں بھی وہ یہی گل کھلائے گااس مجنونانہ حرکت کا صاف مطلب یہ ہے کہ ایک عوامی استحصال کرنے والےکو علاقہ ’’اے‘‘ سے نکال کر علاقہ ’’بی ‘‘ پر مسلط کردیا گیا تاکہ وہاں جا کر تازہ دم ہونے کے بعد وہاں کے باسیوں کی بوٹیاں نوچنا اور وہاں کا حرام کھانا شروع کردے کیونکہ شیطان اسلام پورہ میں ہو یا کرشن نگر میں کام ایک سا ہی کرے گا۔
یہ ملک رویوں میں تضادستان ہے کہ آپ کو قدم قدم پر ایسے تضادات کے انبار ملیں گے جو بدکاروں کی سرعام حوصلہ افزائی اور تحفظ کرتے ہیں۔

آمدنی سے زیادہ اثاثے یا لائف سٹائیل کے بعد کسی کیس، ایف آئی آر یا گواہوں کی ضرورت کسی خائن کو ہی ہوسکتی ہے اور اگر آپ اس کا اطلاق کسی  پر کرتے ہیں  ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔

یہ احمقانہ اور مکروہ غیر منطقی کلچر اس طرح ہماری رگوں ریشوں میں سرائیت کر چکا کہ خدا کی پناہ ہی بھلی

پنجاب حکومت خاص طور پر محترمہ امیرا بیدار کا عوامی شکایات پر یہ فیصلہ بظاہر بہت معمولی لیکن دراصل بہت زبردست ہے کہ عوامی شکایات پر سرکاری ملازم کا تبادلہ  مگرکامن سینس کی بات ہے کہ ایسے اہلکاروں کے اثاثےچیک کئے جائیں کہ سروس میں آنے سے قبل یا کسی سرکاری سیٹ پر مسلط ہونے سے قبل کیا تھے اور اب کیا ہیں  اگر امیرا بیدار صاحبہ اس نقطہ کو مد نظر رکھتے ہوئےایک اہلکار کے احتساب کا فیصلہ اور اس پر عملدرآمد کریں تو یہ ایک تاریخ ساز فیصلہ ہوگا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اتنا بڑا ریلیف جس کا کوئی آدمی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسے اہلکاروں کا ہر سرکاری دفتر عملاً سلاٹر ہاؤس میں تبدیل ہو چکا ہے۔

چھوٹے سے چھوٹا ملازم بھی اپنے دفتر نہیں ’’اڈے‘‘ پر ’’دیہاڑی‘‘ لگانے جاتا ہے۔ سو محترمہ ڈپٹی کمشنر امیرا بیدارکو چاہیے اس پر فوکس کئے رکھیں۔ وہ ایک ایسے خاندان کی بیٹی ہیں جن کی والدہ محترمہ صوفیہ بیدار نے گڈ گورنس اور ایک عام پاکستانی کے مسائل پر لکھا اور اقتدار کے ایوانوں میں اپنی تحریر سے ہل چل مچادی،میں محترمہ امیرا بیدار کی تعیناتی کے بعد دیکھ رہا ہو ں کہ ان کی دہلیز سے عام سائل کوفوری ریلیف ملاجس کے اثرات ہفتوں نہیں دنوں میں سامنے آ ئے لیکن اس تضاد کے اندر بھی ایک تضاد چھپا ہوا ہے اور وہ ہیں سرکاری تنخواہیں۔

میں کئی بار یہ بات کر چکا ہوں کہ مضحکہ خیز حد تک کم تنخواہوں میں زندہ ہر شخص اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کرپٹ ہے کیونکہ کتنے فیصد لوگ ہیں جنہیں پیچھے سے کوئی سپورٹ ہے۔ باپ سپورٹ کر رہا ہے یا بیوی کو ملنے والی جائیداد سے کرائے آ رہے ہیں۔

ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہ ہوں گے۔ ایک عام اہلکار کو دیکھیں، پھر اس کی شرمناک TAKE HOME پر غور فرمایئے اور پھر اس کے بے لگام اختیارات پر نظر ڈالتے ہوئے اس کے بے ہنگم اثاثوں کا جائزہ لیجئے جو اس نے سروس میں ناجائز طور پر بنائے ۔
محترمہ امیرا بیدار صاحبہ آپ  قابل، محنتی، دیانتدار لیکن ایک حساس شاعرہ کی بیٹی ہیں،  لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں صوفیہ بیدار   ہیں کتنی؟ اور جو باقی ہیں، وہ کیا کر رہے ہیں؟

اک اور قسم بھی ہے یعنی ’’زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے ’’پاگل‘‘ ہونے کی حد تک دیانتدار، اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز  لیکن ’’ہینڈ ٹو ماؤتھ‘‘ تو عرض یہ ہے کہ ان اور ان جیسے بے شمار بھیانک برہنہ تضادات پر  غور فرمائیں کہ یہ ملک اور معاشرہ ایسے بے شمار تضادات کا کوہ ہمالیہ ہے۔جو بھی ہو یہ  آپ کافیصلہ ہونا چاہیئے کی کرپشن پر سزا کا عمل بہت زبردست اور عوامی فیصلہ ہوگا تبادلہ نہیں، برطرفی ہوگی تو آپ کا نام سنہری الفاظ میں آئے گا۔ کلچر کی ’’تبدیلی‘‘ کی طرف مثبت قدم ہوگا بہرکیف یہ خوشی کی بات ہے کہ آپ کے اقدامات عوامی ہیں اللہ آپ کا حامی وناصر ہو

بشکریہ اردو کالمز