434

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ز ہسپتال لیہ میں ہونے والی مالی اور اخلاقی کرپشن 

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ایمر جنسی وارڈ میں داخل ہوں تو دائیں جانب دیوار میں لگی افتتاحی تختی ہمارا منہ چڑاتی ہے،جس پر ملک احمد علی اولکھ کا نام کنندہ ہے حالانکہ یہ منصوبہ مرحوم مہر فضل حسین سمرا کا تھا لیہ میں جتنے بھی بڑے منصوبے ہیں ان کا کریڈٹ مہر فضل حسین سمرا کو جاتا ہے،مگر ن لیگ کے کچھ لوگوں کو جھوٹی شہرت کی خواہش درکار ہوتی ہے،سپورٹس کمپلیکس کا منصوبہ مہر فضل حسین سمرا لیکر آئے لیکن تختی مہر اعجاز احمد اچلانہ نے اپنے نام کی لگوائی،زکریا یونیورسٹی کا کیمپس مہر فضل حسین سمرا کا کارنامہ تھا،لیکن بلاک ان لوگوں کے نام پر بن گئے جن کی تعلیمی میدان میں دور دور تک کوئی خدمت نہیں، آپ یورپ چلے جائیں اگر کوئی تعلیم کے حوالے سے منصوبہ ہے تو وہاں بلاکس پر ان کے اسلاف کے نام کی تختیاں لگیں گی جن کی تعلیم کے حوالے کوئی خد مات ہیں سپورٹس کمپلیکس میں بننے والے بلاکس پر ان کھلاڑیوں کے نام کنندہ ہوں گے اور تصاویر لگیں گی جن کا کھیل کے میدان میں نام رہا،مگر ہمارے ہاں سیاستدان اپنے اور اپنے عزیزوں کے نام کی تختیاں لگا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ عوام جاہل ہے اور ہم عقل مند اور فلاسفر ہیں،لیہ میں زکریا یونیورسٹی کا کیمپس بہادر کے نام پر ہے جس کی تعلیمی میدان میں کوئی خدمت نہیں،سیاستدان دوسروں کے منصوبوں پر تختیاں لگاتے وقت اپنے ضمیروں کو نہیں ٹٹولتے کہ وہ زندہ ہیں یا مر گئے ہیں،میرا یہ آج کا موضوع نہیں میرا موضوع صحت کے حوالے سے ہے،کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ز ہسپتال میں عرصہ پہلے صحت سہولت پروگرام کی تقریبا ٍ تین کروڑ کی کثیر رقم آچکی ہے لیکن بندر بانٹ پر جھگڑا اس کی تقسیم میں حائل ہے،ڈاکٹرز کا اصرار ہے کہ ہمیں مطلوبہ حد سے زیادہ رقم ملے،نرسز اپنے مطالبات لیکر اڑی ہوئی ہیں جبکہ درجہ چہارم کے اہلکاروں کی اپنی ضد ہے،کئی روز سے میں دیکھ رہا ہوں کہ انسولین کی وائلز جو ڈیمانڈ کے مطابق چھ ہزار تھی ہسپتال میں دستیاب ہونے کے باوجود غریب مریضوں کی پہنچ سے دور ہے،من پسند اور سفارشی افراد کو نوازا جارہا ہے،صحت کے نام پر قائم ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں بد انتظامی نے عملے کو بے لگام کر دیا ہے،اور میں اس کا ذمہ دار ایم ایس کو سمجھتا ہوں جس نے ایک مخصوص خاندان کو ہسپتال کے ہر شعبہ پر قبضے کا اختیار دے رکھا ہے فارماسسٹ جس کا تعلق اسی خانوادے سے ہے ملتان کارڈیالوجی میں دو کروڑ کی کرپشن کے باوجود اور متعدد انکوائریوں میں جرم ثابت ہونے پر بھی بے گنا ہ ہے،محترمہ مریم نواز نے مفت میڈیسن فراہم کرنے کے آرڈرز تو دیئے مگر ان پر انتظامیہ کی طرف سے عمل درآمد نہیں ہورہا،اور اس شعبہ میں مجرموں کا خاصہ یہ ہے کہ ”ہردیگی چمچے“کی طرح ہر اقتدار میں فٹ ہوجاتے ہیں،ملک غلام حیدر تھند کو اس بات کی داد بنتی ہے کہ ان کے دور میں ضلع لیہ کے شعبہ صحت میں کرپشن اتنی بے لگام نہیں تھی جتنی اب ہے،بطور ضلع ناظم وہ باقاعدہ ہسپتال کا وزٹ کرتے تھے اور ادویات ان کے دور اقتدار میں وافر مقدار میں موجود تھی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں مریضوں کی بات سنی جاتی تھی،ایم ایس ایک بہترین منتظم کے طور پر موجود ہوتا تھا مگر اب ایسا نہیں ہے،ان کے اقتدار کے بعد نرسوں کا سکینڈل سامنے آیا اور ذمہ دار کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی جاسکی،کئی روز قبل ایک مریض کی صرف اس وجہ سے موت واقع ہوگئی کہ اس کو آکسیجن فراہم نہ کی جاسکی یہ ڈاکٹرز کی بہیمانہ غفلت تھی جس سے محض بیانات دیکر جان چھڑا لی گئی،نئی تعینات ہونے والی ڈپٹی کمشنر لیہ نے اگر سپتال کا وزٹ نہیں کیا تو ضرور کریں کیونکہ ضلع لیہ میں صحت کا شعبہ توجہ چاہتا ہے، اور ایم ایس اتنا بے اختیار ہے کہ درجہ چہارم کے ملازم بھی اس کے سامنے بااثر ہیں،دل کے مریضوں کیلئے ایکو مشین کا اہم رول ہے لیکن یہ مشین بھی عرصے سے خراب پڑی ہے

بشکریہ اردو کالمز