338

محمد ہشام ایس ایچ او تھانہ صدر لیہ—فرض شناسی، خلوص اور انسانیت کا خوبصورت امتزاج

جب بھی خدمت، فرض شناسی، اور نرم خوئی کی بات ہو، توایس ایچ او تھانہ صدر لیہ محمد ہشام   کا نام عزت و وقار سے لیا جاتا ہے۔ وہ محض ایک ایس ایچ او یا پولیس کے شعبہ میں ایک افسر نہیں، بلکہ ایک باوقار راہنما، ایک درد دل رکھنے والے انسان، اور خالصتاً عوام دوست شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔انہوں نے اپنی منزل انتہائی قلیل عرصہ میں پائی یہ ان کی محنت شاقہ کا شاخسانہ ہے
ان کی شخصیت کا طرہ امتیاز محبت، احترام، حوصلہ افزائی، مظلوم کی دادرسی اور مہمان نوازی جیسے اوصاف سے مزین ہے۔ ان کے فرائض صرف قانون کی عملداری تک محدود نہیں، بلکہ انسان دوستی، انصاف پسندی اور عوامی خدمت کے گہرے جذبات اس میں شامل ہوتے ہیں۔اور پولیس کے شعبہ میں بہت کم افراد ہشام جیسے ہوتے ہیں جو تحقیق کی بنیاد پر جرائم کا کھوج لگاتے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ کوئی بے گناہ فرد پولیس کے عتاب کا نشانہ نہ بنے جبکہ اکثر آفیسر اس مقصد کو مد نظر نہیں رکھتے

لیہ کی پولیس کا شہزادہ افسر —یہ لقب بجا طور پر ہشام کو عطا کیا جا رہا ہے، کیونکہ  پولیس کی تفتیش میں جو کام دہائیوں سے نہیں ہو سکا، وہ ہشام نے نہایت خاموشی، شفافیت اور میرٹ کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر وہ کر کیایعنی قانون کے مطابق میرٹ پر فیصلہ سائل کو بر وقت اور عجلت میں انصاف کی فراہمی کے اس خواب کو جو برسوں سے لیہ کے باسیوں کے دلوں میں بس رہے تھے، ان کی تعبیر کی حقیقت کو ممکن بنا دیا ۔ لیہ میں ہمیشہ میرٹ کو بائی پاس کرکےسائلین کو انصاف سے محرومی کا سامنا کرنا پڑا اور اکثر پولیس اہلکار اس کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں اپنی محنت کے بل بوتے پر ہشام نے اپنا مقام بنایا،ہشام جیسے افسر نہ صرف قانون کی عملداری کو برقرار رکھتے ہیں بلکہ عوامی خوابوں کی تعبیر بھی بن جاتے ہیں۔

ڈی پی او لیہ محمد علی وسیم کا ذکر نہ کرنا ناانصافی ہوگی میں نے بہت سے کالم لکھے کہ ایک جونیئر اے ایس آئی کو پولیس سٹیشن پر ایس ایچ او بناکر انسپکٹر اور سب انسپکٹر کو اس کے تابع کردیا جاتا ہے موجودہ ڈی پی او لیہ نے اس خلیج کو ختم کیا ۔عوامی حلقے انکے اس جرات مندانہ، میرٹ پسند اور شفاف قدم پر انہیں بھرپور خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔ انہیں عوامی امن، انصاف اور نوجوان نسل کے لیے ایک امید کی کرن سمجھا جا رہا ہے۔

ہشام بھائی کی ذات محنت، دیانت، پیشہ ورانہ مہارت، رواداری اور اخلاق کا حسین امتزاج ہے۔ وہ صرف افسر نہیں، بلکہ ایک ایسا لہجہ ہیں جو دلوں کو سہارا دیتا ہے، ایک ایسا انداز ہیں جو خاموشی سے دلوں پر راج کرتا ہے۔ وہ ان نایاب لوگوں میں سے ہیں جن کی موجودگی ادارے کو نکھارتی ہے اور معاشرے کو سنوارتی ہے۔

“لہجے بدلنے سے ہمیشہ خوف آتا ہے…”
یہ جملہ انسانی تعلقات کی نازک حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ لیکن ہشام ان معدودے چند افراد میں سے ہیں جن کا لہجہ ہمیشہ نرمی، شفقت، حوصلے اور احترام کا پیغام دیتا ہے۔ ان کے اندازِ گفتگو اور طرزِ عمل میں وہ تاثیر ہے جو دلوں کو چھو لیتی ہے۔

دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہشام جیسے نوجوانوں کو مزید رفعتیں، عزتیں، استقامت اور کامیابیاں عطا فرمائے۔
انہیں اپنی خاص حفاظت میں رکھے،
اور ہر قدم پر حق، سچ، اور عوامی خدمت ان کا شعار رہے۔
آمین ثم آمین

بشکریہ اردو کالمز