'سی سی ڈی‘ کے حوالے سے عوام میں ملا جلا رجحان ہے، بارہا کہا جاتا رہا ہے کہ پولیس کو عوام دوست اور موثر بنانے کے لیے اس کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ تو ایسے میں ایک نیا ادارہ کھڑا کر دینا کیا صرف کاسمیٹک تبدیلی نہیں؟
حکومت پنجاب نے پولیس اصلاحات کا بیڑہ اٹھاتے ہوئے اپریل 2025 میں سی سی ڈی (کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ) کا ایک نیا اور خصوصی ادارہ قائم کیا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس کے مقاصد بھی بالکل وہی ہیں، جو کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ہیں۔ یعنی جرائم کا خاتمہ اور عوام کے جان و مال کی حفاظت کرنا۔ چوں کہ عوام کے ذہنوں میں ساٹھ، ستر سالوں سے پولیس کا ایک تاثر موجود ہے، اس لیے بہت سے لوگ اس کے قیام کو بھی مشکوک نظروں سے دیکھ رہے ہیں اور اسے بھی روایتی پولیس جیسا ہی قرار دے رہے ہیں۔
پنجاب کے ہر ضلع میں 'سی سی ڈی‘ پولیس اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ 'سی سی ڈی‘ کے قیام کے حوالے سے خصوصی طور پر جو مقاصد متعین کیے گئے ہیں ان میں چوری، ڈکیتی، اغوا اور قتل وغیرہ جیسے جرائم سے لے کر بلیک میلنگ اور زمینوں پر قبضے جیسے جرائم کا خاتمہ شامل ہے۔ 'سی سی ڈی‘ کو جدید 'اے آئی‘ اور ڈرون ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا گیا ہے، جس میں ڈیجیٹل کرائم ڈیٹا سسٹم کے ذریعے مجرموں کی شناخت اور گرفتاری کی جا سکے گی۔
یہ نہیں کہا جا سکتا کہ عوام نے پنجاب پولیس سے بہتری کی امید چھوڑ دی ہے، بہت سے لوگوں کو امید ہے کہ 'سی ڈی سی‘ پولیس بہتری کی جانب ایک قدم ثابت ہو گا، کیوں کہ دیہی علاقوں میں پولیس کی 'کارکردگی‘ اتنا رپورٹ بھی نہیں ہو پاتی۔ با اثر شخصیات پولیس کو جس طرح استعمال کرتی ہیں اور مجبور اور بے کس عوام جس طرح تھانوں سے خوف زدہ ہو کر زندگی گزارتے ہیں۔ کہیں انہیں رشوت دینی پڑتی ہے اور کہیں بھتا، تو کہیں ناکردہ گناہوں کی پاداش میں اپنی جان و مال اور عزت و آبرو تک گنوانی پڑ جاتی ہے۔ضلع لیہ بھی ایسا ضلع ہے جہاں شہری اور دیہی امزاج ملتا ہے مگر یہاں سی سی ڈی کے لئے جن اہلکاروں کا چناؤ کیا گیا ہے وہ انتہائی فرض شناس اور حقائق کا تعین کرنے والے ہیں،انہوں نے ایک طویل عرصہ پولیس کے محکمہ کی نذر کردیا ہے اور انہوں نے اپنی تعیناتی کے دوران مظلم اور مستحق سائلین کی داد رسی کیلئے ذاتی درد محسوس کیا اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ کسی بھی معاشرے میں امن و امان اور جان و مال کے تحفظ کے نظام کے سارے بگاڑ کی کڑی پولیس کی خرابیوں سے ہی شروع ہوتی ہے، کیوں کہ ہماری ریاست نے اس اہم ترین فورس کو اس کے اصل مقصد سے دور کر کے اپنے مقاصد کی تکمیل کا ذریعہ بنا لیا ہیمگر ضلع لیہ کی ٹیم کسی بھی ایسے اثر کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔لیہ کی ٹیم نے اپنی فرض شناسی سے انتہائی قلیل عرصہ میں جرائم کی بیخ کنی کی ہے جس سے وہ داد کی مستحق ہے اور پہلی بار شہریواں کا اعتماد اس پر بڑھاہے
اس ٹیم میں شامل تمام افراد اس موقف پر یقین رکھتے ہیں کہ رشوت اور سفارش سے پولیس کا آزاد اور با وقار کردار بری طرح مجروح ہوتا ہے۔دباؤ کے تحت ایسے احکامات کو رد کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً یہ بگاڑ پھر پھیلتا چلا جاتا ہے۔ پولیس کے اختیارات بہت احتیاط سے جرائم پیشہ اور مشکوک افراد اور گروہ کے خلاف استعمال ہونے چاہییں نہ کہ عام شہریوں کے خلاف استعمال ہوں۔
ملک کے مختلف علاقوں میں ہماری پولیس کو دہشت گردی جیسی سنگین دشواریوں کا سامنا ہے، اس کے باوجود بھی ریاستی سطح پر پولیس کی جانب توجہ نہیں دی جا رہی، بلکہ صورت حال بگڑنے پر رینجرز اور 'ایف سی‘ جیسے اداروں کو تعینات کر دیا جاتا ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ ہمارے ادارے نہیں ہیں، ہمیں ضرور ملک میں امن و امان کے لیے ضرورت پڑنے پر ان اداروں کی خدمات حاصل کرنی چاہیے لیکن یہ بندوبست عارضی ہونا چاہیے۔
کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ہم یہ سب باتیں 'پولیس‘ جیسے ادارے کے حوالے سے کر رہے ہیں جو ریاست کی جانب سے ہمارے گھروں، گلی محلوں اور شہروں اور دیہاتوں میں مجرموں سے ہمیں بچانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ لوگ تو یہ سوچنے اور کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ یہ چاہتے ہیں کہ جرائم ہوتے رہیں تا کہ سسٹم پہ ان کی گرپ بنی رہے، ان کی یہ سوچ پولیس کی کارکردگی کا نتیجہ ہے، جو وہ صبح شام اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ عوام کے 'سی سی ڈی‘ کے حوالے سے مثبت تاثر کو سامنے رکھتے ہوئے کام کیا جائے تو اس حوالے سے شکوک رکھنے والے حلقے بھی اپنی رائے پر ضرور نظر ثانی کریں گے۔
جب تک پولیس کو صرف پولیس کے کاموں تک محدود نہیں کیا جائے گا۔ جب تک ہم ان کی کارکردگی پر ان کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے تب تک کوئی بھی مثبت بدلاؤ بہت مشکل ہے، بصورت دیگر پولیس بااثر پولیس کا بنیادی کام شہریوں کے جان و مال و بنیادی حقوق کا تحفظ اور سماج دشمن عناصر کی بیخ کنی کرنا ہوتا ہے لیکن عملاً سوال یہ ہے کہ جب تک فرض شناس اور عوام دوست اہلکاروں کی تعیناتی اس ادارہ میں ممکن نہیں بنائی جاتی کیا سی سی ڈی کے قیام سے اس کی ساکھ بہتر ہو جائے گی؟
146