بائیس اگست کی صبح سے گھبراہٹ محسوس ہورہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے کوئی ناخوشگوار واقعہ ہونے والا ہو۔ دل میں طرح طرح کے وسوسے جنم لے رہے تھے اور اسی روز دو ناخوشگوار واقعات ظہور پذیر بھی ہوئے مگر اللّٰہ رب العزت کی مہربانی اور رضا سے بغیر کسی ناقابل تلافی نقصان کے ٹل گئے۔ ایک تو شام کو کراچی میں بھائی کے ایکسیڈنٹ کی خبر ملی۔ اللّٰہ تعالٰی نے اپنا خصوصی کرم فرمایا۔ اسے زیادہ چوٹیں نہیں آئیں اور وہ بخیریت چند گھنٹوں بعد گھر واپس پہنچ گیا۔ جب کہ دفتر سے گھر آنے کے فوراً بعد ہی معلوم ہوا کہ صبح تقریباً سات بجے کے قریب خیبرپختونخوا کے ضلع بٹگرام میں ایک چئیر لفٹ فضا میں معلق ہوگئی ہے۔ اس کی دو رسیاں ٹوٹ چکی ہیں اور وہ صرف ایک ہی رسی کے سہارے چھ سو سے زائد فٹ کی بلندی پر لٹک رہی ہے۔ اوپر سے اس میں سوار آٹھ مسافروں میں ایک استاد اور چودہ سال سے کم عمر اسکول کے چھ معصوم بچے بھی شامل تھے۔ جو معمول کے مطابق وطن کے مستقبل میں اپنا حصہ ڈالنے اس خطرناک سواری میں روزانہ دو بار سفر کرتے ہیں۔ اس کے علاؤہ بھی روز مرہ کے معمولات میں بچوں اور مردوں سمیت عورتوں کو بھی اس سواری میں سفر کرنا پڑتا ہے۔ یہ دونوں واقعات دل دہلا دینے کے لیے کافی تھے۔ ان معصوم بچوں کے لیے یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں رہا بل کہ ان کی دل و دماغ پر پوری زندگی کے لیے خوف کی مہر ثبت ہوگئی۔ ایک بچہ دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کی وجہ سے بے ہوش بھی ہوا۔ اوپر سے کھانے پینے کی اشیاء کا نہ ہونا اور موبائل میں چارج ختم ہونا بھی مسئلہ بن گیا جس کی وجہ سے ان کا زمینی مواصلاتی رابطہ تقریبا منقطع ہوگیا اور وہ صرف اللّٰہ کے توکل پر تھے۔ ساڑھے گیارہ بجے کے بعد ان کے ریسکیو کا آپریشن شروع ہوا۔ پاکستان آرمی کے منجھے ہوئے کمانڈوز نے ہیلیز کے ذریعے سلنگ آپریشن کی مدد سے شام چھ بجے کے بعد دو بچوں کی جان بچائی۔ مغرب کے بعد اندھیرا ہونے کے باعث فضائی کاروائی روک کر زمین سے ریسکیو کا عمل شروع کیا گیا۔ جس میں مقامی افراد نے بھی بھرپور حصہ لیا۔ مقامی افراد کی مدد سے دو گھنٹوں کے اندر یہ آپریشن کامیابی سے مکمل ہوگیا اور لفٹ میں موجود باقی چھ افراد کو بھی بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔ مقامی افراد عمر اور صواحب کی ہمت اور دلیری کے باعث ان کی شہرت کے ڈنکے بجنا شروع ہوگئے۔ لیکن یہاں سب داد کے مستحق ہیں۔ آرمی کے اہل کار، مقامی افراد، خدمت خلق والے اور عوام جو اس تکلیف دہ واقعہ میں لمحہ بہ لمحہ اس اذیت کو محسوس کرکے مسلسل دعائیں کر رہی تھی۔ اس سارے معاملے میں سب سے اہم بات ہماری قوم کا مزاج ہے۔ کسی بھی تکلیف دہ واقعے پر ایک ہوکر دعائیں مانگنے والی قوم واقعے کے خوش گوار یا تکلیف دہ انجام کے فوراً بعد سیاسی بلیم گیم کا شکار ہوکر اپنے ان مفاد پرست لیڈروں کے حق میں لڑنا شروع کر دیتی ہے جنہیں اپنے کارکنوں کے نام اور چہروں سے شناسائی تک نہیں ہوتی۔ یہاں بھی سوشل میڈیا کے ایسے ناقدین اپنی سیاسی جوہر دکھاتے ہوئے اپنا ماہرانہ تجزیہ پیش کرنے لگے۔ بلاشبہ مقامی افراد کی تعریف سب نے کی مگر پی ٹی آئی والے فوج اور گورنمنٹ کو برا بھلا کہنے لگے۔ پی ڈی ایم والے سیلاب میں پھنسنے والے پانچ افراد کے حادثے کو لے کر پی ٹی آئی کو نشانہ بنانے گے۔ جماعت اسلامی نے سب کے کاموں کو پس پشت ڈال کر حسب روایت اپنی سیاست چمکانے کی بھرپور کوشش کی اور رہی سٹریم میڈیا اس کا تو اپنا ہی مخصوص راگ ہے۔ پاکستانی عوام کا شروع سے ہی یہی وطیرہ ہے۔ بدلا کچھ بھی نہیں ہے بس پلیٹ فارم بدل گیا ہے اور سوشل سرکل بڑھ گیا ہے جس نے افواہوں، نفرتوں اور طوفان بد تمیزی کو مزید وسعت دی ہے۔ یہاں مسئلہ یہ نہیں کہ کس نے بچایا، کس نے نہیں بچایا۔ حدیث نبوی کی رو سے واضح ہے کہ "جس نے ایک انسان کو بچایا اس نے گویا پوری بنی نوع انسان کو بچایا"۔ اس لیے داد کے مستحق بلاشبہ سب ہیں کیونکہ لفٹ میں پھنسے ہر فرد کے پس منظر میں ایک خاندان امید و ناامیدی کی اذیت سے دو چار تھا۔ البتہ اس واقعے سے ایک سوال سب کے ذہنوں میں پیدا ہوا کہ پاک آرمی نے دن ساڑھے گیارہ بجے سے اندھیرا ہونے تک مسلسل کوشش کیں اور الحمدللہ دو جانیں بھی بچائیں۔ اگر مقامی افراد اور باقی تنظیموں کی مدد لے کر یہ حکمت عملی دن کی روشنی میں اپنائی جاتی اور زمینی کاروائی بھی ساتھ شروع کی جاتی تو مسئلہ اتنا گھمبیر نہ ہوتا۔ کیونکہ مقامی افراد یہاں کے چپے چپے سے واقف ہونے کی وجہ سے جلد ہی متعلقہ افراد کو ذہنی اذیت سے نجات دلا سکتے تھے۔ مگر ان سب عوامل سے ماورا یہ بات اہم ہے کہ "ھٰذا من فضل ربی" کیونکہ تکلیف میں مبتلا کرنے اور پھر بچانے والی ذات صرف پروردگار عالم کی ہے۔ انسان تو اس کے "کن" کا وسیلہ ہیں۔ انسانی زندگی بچانے کے دعوے کرنا تکبر کا احساس بڑھانے کے ساتھ خدا کی کبریائی کے خلاف بھی ہے۔ حالیہ بٹگرام کے واقعے میں سب سے اچھی بات سب کی جانیں بچنا ہے۔ ورنہ تو ملکی تاریخ میں ایسے لاتعداد واقعات نے جنم لیا ہے جو حادثات میں بدل گئے۔ برسر اقتدار حکمرانوں کے خلاف عوامی اور سیاسی رد عمل سامنے آیا، کچھ دن لعنت ملامت ہوئی اور پھر وقت کی رفتار کے ساتھ حکومتیں بدل گئیں، حکمرانوں کے چہرے بدل گئے مگر باقی تمام عوامل وہی رہے۔ ان میں سیلاب میں پھنسے پانچ افراد کی بے بسی والی موت، شیر شاہ پل کے نیچے گاڑی میں دم توڑتے افراد، مری کی برف باری میں گاڑیوں میں دبے افراد کی موت۔ ان تمام حادثات میں ایک قدر مشترک تھی کہ ان سب کے متاثرین نے کئی کئی گھنٹوں موت کی اذیت اور اپنی بے بسی کو لمحہ بہ لمحہ محسوس کیا۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ موت کا دن معین ہے لمحوں میں موقع دیے بغیر روح قبض ہو جاتی ہے۔ ایسے واقعات بھی ہوئے جہاں چئیر لفٹ کے اونچائی سے گرنے سے کسی کی زندگی بچانے کا موقع بھی نہیں ملا اس لیے جہاں مہلت ملے سمجھو کہ مشیت ایزدی کی جانب سے حکومت وقت اور متعلقہ انتظامیہ کے لیے تنبیہہ ہے۔ ساتھ ہی بہترین حکمت عملی کے ساتھ ترجیح بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان واقعات کے بیچ چھپے حقائق کو جان کر انہیں حل کرنا ہی مثبت حکمت عملی ہے مگر حکمران وقت کچھ دن یہ یاد رکھتے ہیں اور یقین دہانی اور وعدے کرتے ہیں پھر سب بھول جاتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے مقتدر سیاسی قائدین نے ایک دوسرے کی مٹی پلید کرنے کے لیے اپنے اپنے تنخواہ پر رکھے کارندے سوشل میڈیا پر چھوڑ رکھے ہیں جب کہ خود سکون سے اپنے غیر ضروری کاموں میں لگ جاتے ہیں اور عوام دوسرے حادثے میں پہلا بھول کر دوبارہ اپنے اپنے قائدین کی بقاء کے لیے میدان میں کود پڑتی ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کونسا واقعہ کس حکمران کے دور میں ہوا اور اس کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات ہوئے البتہ نتیجہ سب کا صفر ہی آیا ہے۔ ایسے واقعات کی تاریخ نوٹ کی جائے تو سولہ سال پہلے 2007 کو جرنل پرویز مشرف کے دور حکومت میں شیرشاہ پل کا واقعہ ہوا۔ جو افتتاح کے ایک ماہ بعد ہی زمین بوس ہوگیا اور اپنے ساتھ چھ افراد کی جانیں لے گیا۔ سابقہ وزیر اعظم عمران خان کے دور حکومت میں 2022 کو خیبرپختونخوا کے ضلع کوہستان میں وادی دبیر میں سیلاب میں پھنسے پانچ افراد کی لمحہ بہ لمحہ موت کا دل خراش واقعہ ہوا۔ جو آخر تک اس امید میں رہے کہ شاید کہیں سے کوئی مدد آئے اور وہ بچ پائیں مگر اسی دوران وزیراعظم کی ہمشیرہ علیمہ کی مدد کے لیے خصوصی طیارہ گیا اور یہ افراد سیلاب کی نذر ہو گئے۔ اس کے علاؤہ مری کا واقعہ ٹرین اور ہوائی جہازوں کے دل خراش حادثات زرداری، شریف اور نیازی جیسے بے حس حکمرانوں کے دور حکمرانی میں ظہور پذیر ہوتے رہے۔ ان واقعات کے متاثرین کو وقتی ریلیف دینے کے بعد تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں اور پھر کمیٹیوں کی کرپشن اور بڑے ہاتھ ملوث ہونے کی وجہ سے یہ معاملات سرد خانوں کی نذر ہو گئے۔ تاحال ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر لانگ ٹرم منصوبہ بندی عمل میں نہیں لائی گئی۔ یہ سب تو ایسے واقعات ہیں جو چشم زد میں آکر عوامی اور حکومتی توجہ حاصل کر پاتے ہیں ورنہ ملک میں روزانہ کئی دل خراش واقعات ظہور پذیر ہوکر کیمرے کی آنکھ سے پوشیدہ رہ جاتے ہیں۔ یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ فضول قسم کی کمیٹیاں تشکیل دینے، ان پر پیسے خرچ کرنے اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے اور طعن زنی کرنے کے بجائے ایسے واقعات کے پس پشت اصل حقائق کی چانچ پڑتال اور ترجیحی بنیادوں پر ان کی روک تھام کی جائے جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔
477