577

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین



رنج و الم ، خوشی و مسرت ، کامیابی و ناکامی ، عزت و ذلت، ندامت وپچھتاوے کا ایک اور باب ڈاکٹر عامر لیاقت حسین تہمتوں کا بوجھ برداشت نہیں کرپایا اور اپنے انجام کو پہنچ گیا مگر جاتے جاتے اپنے پیچھے سب کے دلوں میں کئی سوالات چھوڑ گیا۔ وہی سوالات جو کسی بھی مشہور شخصیت کی اچانک موت پر پیدا ہوتے ہیں اور آخر کار وقت کی دبیز تہہ میں دفن ہو جاتے ہیں مگر اس ملبے میں ایک آدھ چنگاری ہمیشہ سلگتی رہتی ہے۔ جو کبھی بھی کسی اور متعلقہ شخص کو اپنی لپیٹ میں لینے کا سبب بن سکتی ہے۔
    51 سالہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اپنی مختصر زندگی میں ایک عمر بسر کی وہ ایک شاعر، مذہبی عالم، براڈ کاسٹر، نعت خواں مصنف اور سیاست دان ہونے کے ساتھ ساتھ  ہمیشہ ہی متنازع شخصیت کے طور پر جانے جاتے رہے۔ تعلیمی اسناد کے ساتھ ساتھ ان کی سیاسی، سماجی اور ازدواجی زندگی بھی تنازعات کا شکار رہی۔ وہ خبروں میں کبھی انتہائی مذہبی اور نعت خواں تو کبھی عیاش اور حسن پرست شخص کے طور پر ابھرے۔
    عالم آن لائن سے ان کی مقبولیت کا سفر شروع ہوا اور پھر مختلف چینلز سے رمضان سے متعلق نشریات میں شہرت کی بلندیوں کو چھوا۔ ان کا طرز تخاطب اور الفاظ کی ادائیگی کا انداز بہت ہی منفرد تھا جو سامعین کو مسحور کرتا تھا۔ اپنی اسی خاصیت کو انہوں نے استعمال کرکے نعت خوانی میں بھی اپنا لوہا منوایا جو سننے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا تھا مگر پھر عالم آن لائن کی سیٹ پر ان کی غیر معیاری آف لائن گفتگو نے ان کے ایک نئے روپ سے متعارف کروایا۔ شہرت کی بلندیوں کا یہ سفر چلتا رہا مگر نقشہ بدل چکا تھا اور وہ تھا خودپسندی اور خبروں میں موجود رہنے کا خبط اور اسی بنا پر اسے مختلف ٹی وی شوز پر عجیب و غریب حرکات بھی کرتے دیکھا گیا اور اسی متزلزل خاصیت کی بنا پر انہوں نے ملکی سیاست کے گندے تلاب میں بھی ڈبکی لگائی۔ 2002 سے 2016 تک ایم کیو ایم میں رہے اور پھر 2018 کو پی ٹی آئی جوائن کیا اور حالیہ دنوں میں وہ پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست، اختلافات اور منشور کی منافقانہ پالیسیوں اور رویوں سے بھی اختلاف کرتے پائے گئے اور منحرف ارکان اسمبلی میں شامل ہوگئے۔ اس بات کو لے کر انہوں نے غیر محسوس انداز میں پارٹی کی جانب سے انتقامی کارروائی کا بھی تذکرہ کیا۔ ان کی زندگی کی گاڑی اس مد و جزر سے گزرتی ہوئی آخر کار 9 جون 2022 کو اختتام پذیر ہوئی اور وہ اپنے گناہ ثواب کا توشہ لیے  بارگاہ رب العزت میں پیش ہوئے۔
ان کی ازدواجی زندگی، یکے بعد دیگرے تین شادیوں اور طلاق کو لے کر سوشل میڈیا پر ہمیشہ بھونچال رہا مگر سوال یہ ہے کہ کیا نکاح کرنا کوئی بری بات یا عیاشی ہے۔ نکاح تو زنا جیسے گناہ سے بچنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس نے تین نکاح کئے جو کہ غلط اقدام نہیں ان کی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ کیسے تعلقات رہے یہ ان کا مکمل ذاتی فعل تھا۔ جس طرح ہم میں سے کوئی بھی شخص اپنی ذاتی زندگی کو زیر بحث لانا پسند نہیں کرتا اسی طرح کس بھی سیلیبرٹی کی  شادی اور طلاق اس کے نجی افعال ہیں جن کے لیے وہ خود جواب دہ ہے مگر اس وقت تک جب تک یہ تعلقات عوام پر یا ملکی سلامتی پر اثرانداز نہ ہوں بصورت دیگر اگر یہ معاملات عوام کی زندگی پر گہرے منفی یا مثبت اثر چھوڑیں تو یہ ذاتی  معاملات سے خارج قرار دیے جاسکتے ہیں ۔
   ہماری قوم کی ایک عجیب  عادت ہے کہ ہم  نے خود پر خود ساختہ حساسیت کا خول چڑھا لیا ہے اور ملک عزیز کے کسی بھی معمولی یا غیر معمولی واقعے کو  بڑا بنا کر پیش کرتے ہیں۔ سٹریم میڈیا کو  برا بھلا کہہ کر سوشل میڈیا پر اپنے اپنے الگ الگ چینل بنا چکے ہیں جہاں اپنی پسند کو اچھا اور دوسروں کو ہر حال میں برا ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے۔ پھر چاہے وہ عامر لیاقت کی شادیوں کا معاملہ ہو ، ملالہ یوسف زئی کا کوئی بے معنی ٹوئٹ ، سیاسی لیڈران کی آئے روز لوٹ کھسوٹ کے واقعات، یا دعا زہرہ اور نمرہ کا گھریلو مسئلہ۔ بال کی کھال نکالنے میں ہمارا کوئی ثانی نہ اور اس سلسلے میں ہم نے سٹریم میڈیا والوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔  اس کی ایک حالیہ مثال میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہریوں کو سوشل میڈیا پر اپنے دشمن ملک کے ایک غیر مسلم گائیک سدھو کے لیے ہفتوں سوگ مناتے اور سوشل میڈیا پر اپنی ڈی پیز میں اس کی تصاویر لگاتے دیکھا جاسکتا ہے ۔یہ بھی اس وقت جب انڈیا میں توہین رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ بھی چل رہا ہے۔ یہ زیادہ تر یہ وہی لوگ ہیں جو خود کو محب وطن اور باقیوں کو غدار کے طمغے دینے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں اور بھاشن دیتے نظر آئے.  مگر اپنے ملک میں آئے دن  بے گناہ لوگ قتل ہورہے ہیں، مر رہے ہیں، غائب ہو رہے ہیں مگر وہاں سب سرعام مظلوم کو ہی برا ثابت کرنے پر تلے ہیں۔
   جہاں تک بات عزت اور بے عزتی کی موت کی ہے۔ مرنے کے بعد جانے والے کو ہرگز پتا نہیں ہوتا کہ پیچھے اپنے لیے کیا چھوڑ کر جارہا ہے اس کا مادی وجود اس فانی دنیا  کی سوچوں سے مکمل طور پر ماورا ہوچکا ہوتا ہے۔ کون جان رات بھر بند کمرے میں عامر لیاقت کی اپنے رب سے کیا گفتگو ہوئی ہوگی۔ اپنے گناہوں کی تلافی کے ساتھ کتنے لوگوں کے لیے خاموش شکوئے شکایات آنسوؤں میں بہے ہونگے. مگر اہم بات یہ ہے کہ جاتے جاتے کچھ لوگوں کے بدنما چہرے بے نقاب کرگیا۔ اللہ پاک اس کی بخشش کرے ۔اسے جنت میں جگہ دے آمین۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کے ایمان کی حفاظت کرے اور ہم سب کو توفیق اور مہلت عطا فرمائے کہ ہم بھی جب  اس فانی دنیا سے جائیں تو اپنے ظاہر و باطن سب گناہوں کو بخشوا کر جائیں نہ صرف حقوق اللہ بلکہ حقوق العباد میں بھی جہاں جہاں کوتاہی کے مرتکب ہوئے ہیں ان کی تلافی یقینی بنا کر اس دنیا سے رخصت ہوں۔ پھر چاہے موت کیسی بھی ہو مگر آخرت کے لیے ایمان کا توشہ سلامت اور ساتھ رہے۔

بشکریہ اردو کالمز