331

"قصہ عید کی شاپنگ کا"


آج مجھے  بیوٹی پارلر سے ہوتے ہوئے سنار کے پاس جانا ہے۔ میں نے اپنے شوہر کو مطلع کیا۔

"سنار کے پاس! اس مہنگائی میں کس لیے جارہی ہو؟"
"کچھ خریدنا ہے"۔
"ٹھیک ہے جاؤ، مگر اپنے سامان کا خیال رکھنا، عید نزدیک ہے، بہت چوریاں ہورہی ہیں"۔ شوہر نے پیسوں کی جگہ نصیحتیں کیں اور مجھے لیاقت بازار، چوڑی گلی کے سامنے ڈراپ کیا۔
میں بیوٹی پارلر گئی اور فیشیل کرایا۔ بیوٹی پارلر والی نے میوزک کی آواز  اتنی اونچی کی ہوئی تھی کہ کانوں پڑی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے میں بیوٹی پارلر میں نہیں کسی شادی کی تقریب میں ہوں۔ سارا کام کرا کر جب بیگ سے پیسے نکالے تو موبائل پر نظر پڑی جہاں بیٹے کی کال آرہی تھی۔
"امی آپ کال وصول کیوں نہیں کر رہی ہیں۔ پاپا بھی مسلسل فون کر رہے ہیں؟" بیٹے کی آواز جھنجھلائی ہوئی تھی۔
"بیٹا آواز نہیں آئی مجھے اس لیے پتا نہیں لگا۔" میں نے دوبارہ موبائل دیکھا تو واٹس اپ پر، میسنجر پر اور فون کال پر ہر جگہ باپ بیٹے کے مس کال کی لائن لگی تھی۔ میں کال ہسٹری دیکھ ہی رہی تھی کہ بہن کا فون آیا کہ "تم کہاں ہو؟ بھائی صاحب بہت پریشان ہیں کہ تمہاری بہن سنار کے پاس گئی ہے کال وصول نہیں کر رہی ہے۔ کوئی اس کا پرس، پیسے اور موبائل نہ چوری کر گیا ہو"۔ یہ سب سن کر میری ہنسی چھوٹی۔ میں نے اپنے شوہر کو کال کی، انہوں نے غصے میں مجھے ڈانٹا کہ فون کیوں نہیں اٹھا رہی ہو۔ میں نے خاموشی سے شوہر کی ڈانٹ کھالی کہ اب بازار میں کیا صفائی دوں۔
"خیر اب احتیاط کرنا، سونے کی چیزوں کا خیال رکھنا، بہت چوریاں ہو رہی ہیں"۔ دوبارہ سے وہی نصیحتیں۔
"اور ہاں رکشے میں بہن کے گھر چلی جانا وہیں سے پک کرلوں گا۔"
"جی اچھا"۔ معصومیت سے جواب دے کر میں باقی شاپنگ کرنے لگی مگر برائے نام ہی خریداری کی کیوں کہ مہنگائی نے کھل کر خرچ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ شوہر نے تو نصیحتیں دیں اور نصیحتوں سے چیزیں خریدیں نہیں جاسکتیں۔  
خریداری سے فارغ ہوکر بہن کے گھر چلی آئی۔
"کہاں گم تھی تم فون نہیں اٹھا رہی تھی تو ہم سمجھے کہ شاید تمہارا پرس بمع پیسے، موبائل اور سونا چوری ہوگیا ہے۔ بس تھانے میں رپورٹ لکھوانے کی کسر رہ گئی تھی"۔ آتے ہی شوہر اور بہن کی ڈانٹ کا سامنا کرنا پڑا۔
"کیا خریدا ہے؟" بہن نے ڈانٹ سے اچھی طرح خاطر مدارت کے بعد اشتیاق سے پوچھا۔
"ایک منٹ دکھاتی ہوں"۔ میں نے اپنے پرس میں دیکھا تو مجھے سونا نظر نہیں آیا۔ بڑی چھان بین کے بعد پرس کے ایک انتہائی اندرونی کونے میں آخر کار مجھے اپنا گولڈ والا ڈبہ مل گیا جو میں نے انتہائی فخر سے سب کے  سامنے پیش کیا۔
یہ کیا ہے؟ تم یہ لینے گئی تھی؟ حیرت اور غصے سے  دو آوازیں بیک وقت گونجی۔
" جی! کیسی ہے میں نے بڑی محبت سے دو ہزار والی خوردبینی لونگ ان کی جانب بڑھاتے ہوئے پوچھا اور سب ہونقوں کی طرح مجھے دیکھ رہے تھے۔

بشکریہ اردو کالمز