کوئٹہ شہر کے بیچوں بیچ جناح ٹاؤن، مین سمنگلی روڈ پر ایک بڑی سی عمارت ہمیشہ مجھے اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔ اس کی وجہ عمارت کی خوبصورتی نہیں بلکہ اس پر لکھے لفظ "آبرو"کے ہیں۔ یہاں کئی گھروں کی آبروئیں مستعار زندگی کی آخری ساعتیں نہایت عزت و احترام سے گزار رہی ہیں۔آبرو ویسے تو گھروں میں اچھی لگتی ہے مگر ہم نے اپنی آبروؤں کو اپنی ترقی اور خوشیوں کی راہ میں رکاوٹ جان کر اس جیسی بڑی اور خوبصورت عمارات میں سسکنے کے لیے دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ یہاں میری مراد گھر کی بہو بیٹیاں نہیں بلکہ وہ عظیم ہستیاں ہیں جن کی خدمت میں عظمت اور قدموں تلے جنت ہے۔
جو اپنی زندگی کے حسین دن اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر تکلیف میں گزارتے ہیں تاکہ ان کی اولاد سکھی رہی اور زندگی کے آخری ایام میں ان کی دیکھ بھال کرے مگر بڑھاپے میں جب یہی والدین اپنے ہی گھر میں بچوں کی توجہ اور تھوڑے سے وقت کے طلب گار ہوتے ہیں تو بچے انہیں بوجھ جان کر ان کا بٹوارہ کرتے ہیں یا انہیں اپنے پاس رکھنے کی باری لگاتے ہیں۔ بصورت دیگر گھروں سے دور اونچی دیواروں والی جیل نما عمارات کو ان کا مسکن بنا ڈالتے ہیں یہ جانے بغیر کہ وقت کا پہیہ بڑی تیزی سے حرکت میں ہے اور مکافات عمل ہر اس شخص کا نصیب ہے جو اپنے ماں باپ کے ساتھ یہ رویہ رکھتا ہے۔
جرم ضعیفی ویسے بھی اس معاشرے کا بہت بڑا جرم ہے جس کی سزا قید تنہائی اور مکمل نظر انداز کرنا ہے جو یا تو مکافات عمل کا نتیجہ ہے تو پھر شاید آزمائش مقصود ہے۔ اولڈ ایج ہومز اصل میں انگریزوں کا رائج کردہ نظام ہے۔ ان کے دیکھا دیکھی ہمارے معاشرے نے بھی ترقی کے منازل طے کرنے اور پرسکون زندگی گزارنے کے لیے اپنے بزرگوں کو ایسے اولڈ ایج ہوم میں قید تنہائی کے سپرد کرکے خود کو ترقی یافتہ ثابت کردیا۔ انگریزوں میں اور ہم میں فرق یہ ہے کہ ان کے ادارے ہر طرح کی سہولیات سے آراستہ ہیں جبکہ ہمارے اداروں میں باقی سہولیات تو درکنار سخت گرمیوں میں پنکھا اور سردیوں میں ہیٹر بھی میسر نہیں۔ ڈراموں میں گھر سے بے دخل کیے جانے والے بوڑھے ماں باپ کے کرداروں پر ترس کھا کر رونے والے حقیقی کردار اپنے بوڑھے ماں باپ کو ایدھی سنٹر اور اولڈ ایج ہوم میں داخل کرواتے ہیں یا پھر بڑے بڑے بنگلوں میں اکیلا زندگی کی تکالیف جھیلنے کے لیے چھوڑ کر پردیس چلے جاتے ہیں۔ انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا معاشرہ اس کی بد ترین تصویر بن چکا ہے۔ ایک بار جناب عبدالستار ایدھی صاحب سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو سب سے زیادہ افسوس کس لاوارث شخص کی تدفین پر ہوئی ہے۔ ان کا جواب معاشرے کے منہ پر طمانچے سے کم نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیفینس میں مجھے ایک شخص کی تدفین کے لیے بلایا گیا اور گھر کے دروازے پر ایک لاش اور کچھ روپے سپرد کرکے کہا گیا کہ یہ ہمارے والد ہیں، ان کی اچھے سے تدفین کرنا ہماری آج کے دن کی بیرون ملک کی ٹکٹیں ہیں۔ یہ کہہ کر وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اسی وقت عدم دیس روانہ ہوگئے اور مجھے ان کے بچوں کے اس رویے کا نہایت افسوس ہوا۔
زندگی ایک بار ملتی ہے، جس سے بھرپور انداز سے لطف اندوز ہونے کے لیے بچے اپنے والدین کو یہ سوچے بغیر تنہا چھوڑ دیتے ہیں کہ والدین بھی ایک بار ہی صرف قسمت والوں کو ملتے ہیں اور زندگی کی خوبصورتی اور آسائشیں بھی انہی کی قربانیوں اور دعاؤں کے مرہون منت ہیں۔ ایسے والدین کی دل خراش داستانیں روزانہ اخبارات اور سوشل میڈیا کی زینت بنتی ہیں۔ایسی ہی ایک وڈیو کچھ وقت پہلے نظر سے گزری جس میں بچوں نے اپنے بوڑھے والد کو گھر سے بےدخل کردیا۔ کسی نے جے ڈی سی والوں کو اس سانحے (میں اسے سانحہ ہی لکھوں گی) کی خبر دی۔ اور جے ڈی سی کے کرتا دھرتا ظفر صاحب بصد احترام انہیں اپنے گھر لے گئے اور سب سے گزارش کی کہ ایسے والدین کے لیے انہیں اطلاع کریں وہ انہیں اپنے اولڈ ایج ہوم میں لے جائیں گے۔ میرا سوال ہے کہ کیا یہ درست حل ہے؟ کیا اس طرح مزید کئی لوگ اپنے والدین کو اولڈ ایج ہوم میں داخل نہیں کریں گے۔ میں یہاں کہنا ضروری سمجھوں گی کہ سارے اولڈ ایج ہوم آبرو نہیں بن سکتے۔ میں نے بہت پہلے ایک وڈیو دیکھی جس میں ضعیف افراد کو اولڈ ایج کے ملازم مار رہے تھے۔
ابن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ ایک بار میں نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا کہ اپنے وقت پر نماز پڑھنا ، پھر پوچھا، اس کے بعد، فرمایا والدین کے ساتھ نیک معاملہ رکھنا۔ پوچھا اس کے بعد، آپﷺ نے فرمایا کہ اللّٰہ کی راہ میں جہاد کرنا۔(صحیح بخاری527)
بڑھاپے میں والدین کی خدمت کا اجر جہاد سے بھی افضل ہے۔المیہ یہ ہے کہ اب اکثر گھروں میں بوڑھے والدین کی جگہ، انسانوں سے کئی گنا بہتر زندگی گزارنے والے کتے اور بلیاں ملیں گی جن کا گھر میں رکھنا ممنوع ہے۔ ساتھ ہی پالتو جانوروں کے حقوق کی پاسداری نہ کرنے پر سزائیں بھی مقرر ہیں۔ المیہ یہ بھی ہے کہ کتے، بلیوں اور باقی پرندوں کو پالنے اور ان کے حقوقِ کی پاسداری کرنے والے والدین کے حقوق سے قطعی لاتعلق ہو جاتے ہیں۔ اکثر اوقات جانوروں کے حقوق کے لیے کیس دائر کرنے والوں کے والدین در بدر ملیں گے جو سہولیات کے نہیں بلکہ بڑھاپے میں سر چھپانے کی جگہ کے آرزو مند اور دو وقت کی روٹی کے طلب گار ہیں۔ اس طرز عمل میں بہت بڑا ہاتھ ان نام نہاد علماء کا بھی ہے جنہوں نے نئی نسل کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کراتے ہوئے اس بات کی نشاندھی کی ہے کہ شوہر کے والدین کی ذمہ داری صرف شوہر پر عائد ہوتی ہے بیوی پر نہیں۔
بات ہو رہی تھی کوئٹہ میں آبرو(ABURO) کی یعنی ادارہ بہبود عمر رسیدہ
Al adare e behbood e umar raseeda old age home
جو ایک ایسا ہی پرائیویٹ ادارہ ہے جس نے نہ صرف ان معزز خواتین کی آبرو کا خیال رکھا بلکہ انتہائی باوقار انداز طریقے میں دو وقت کی روٹی اور سائباں کا انتظام بھی کیا ہے۔ یہ خصوصاً ان ماؤں کی آخری پناہ گاہ ہے جو اپنوں کی بے اعتنائی کا شکار ہو کر یہاں رہنے پر مجبور ہیں۔ ریٹائرڈ بریگیڈیئر عبد الرزاق بلوچ اس کے بانی ہیں۔ 2013 میں اس وقت کے ایم پی اے محترمہ راحیلہ درانی صاحبہ نے اس کا افتتاح کیا۔ محترمہ ناہید کریم صاحبہ اس ادارے کی انچارج ہیں۔ ناہید صاحبہ پروقار طبیعت کی مالکہ ہیں اور بہترین انداز میں یہاں کا انتظام سنبھالا ہے۔ اس عمارت کے دو حصے ہیں ایک انتظامی امور کے لیے اور ایک رہائشی حصہ ہے جہاں معمر اور معزز خواتین رہتی ہیں۔ مجھے سب سے یہاں کی صفائی نے بہت متاثر کیا۔ عمارت کے دونوں شعبے ہی نہایت
خوبصورت اور صاف ستھرے ہیں۔ ان کی بہترین سجاوٹ انتظامیہ کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ مین راہداری سے جاتے ہی ہال نما خوبصورت کمرہ اور انتظامی امور کے لیے مختص کمرے ہیں۔ اسی طرح رہائشی دو منزلہ عمارت میں اٹیچ باتھ سمیت گیارہ کمرے اور بڑا سا کچن، ڈرائنگ اور ڈائنگ روم ہیں۔
کارپٹ کیے ہوئے کمروں میں بیڈ، کرسی اور ٹیبل موجود ہیں۔ ڈرائنگ روم میں بڑی سی الماری جس میں اسلامی امور کے علاؤہ مختلف موضوعات پر کتابیں موجود ہیں۔ یہاں کھانا بنانے اور صفائی ستھرائی کے لیے ملازم موجود ہیں۔
گورنمنٹ کے اولڈ ایج ہوم اور آبرو میں یہ فرق ہے کہ یہاں بہترین سہولیات دی جارہی ہیں جب کہ اسے حکومت کی جانب سے یا یہاں رہائش پذیر افراد کے رشتےداروں کی جانب سے کوئی بھی مدد نہیں ملتی۔ اسے چند مخیر حضرات کے تعاون سے چلایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب گورنمنٹ کا اولڈ ایج ہوم ایک خالی عمارت ہے جہاں گھوسٹ ملازمین اور گھوسٹ والدین کا قیام ہے اور جہاں کی سہولیات بھی خوردبینی آنکھ کی محتاج ہیں۔ آبرو میں رہنے والوں سے ملنے کے بعد یہ تاثر ابھرتا ہے کہ یہاں کسی قسم کی روک ٹوک اور سختی ہے اور نہ ہی یہاں رہنے والے کسی قسم کی احساس کمتری کا شکار ہیں۔ اس کی مثال ایک خاتون کا اپنے معصوم سے معذور بیٹے عمران کے ساتھ یہاں قیام ہے۔ جو گردن توڑ بخار کی وجہ سے معذور ہوا تو گھر والوں نے ماں سمیت اسے گھر سے بےدخل کیا۔ اس بچے کی سب سے اچھا بات اس کی خوبصورت مسکراہٹ ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ ناخلف اولاد اپنی جنت یہاں چھوڑنے کے بعد نہ تو پلٹ کر انہیں پوچھتے ہیں اور نہ ہی ان کی مالی معاونت کرتے ہیں۔ دوسری طرف یہاں رہنے والی معزز خواتین مجال ہے کہ اپنے بچوں کے لیے کوئی بد دعا یا غصہ میں کوئی بات منہ سے نکالیں۔ بہت سی خواتین تو یہ کہتی ہیں کہ ہم یہاں اپنی مرضی سی ہی آئی ہیں، یہ الگ بات ہے کہ اس نہج تک پہنچنے کے لیے بھی کچھ نہ کچھ ناخوشگوار عوامل کار فرما ہوں گے۔
یہاں کی منتظم اعلی محترمہ ناہید کریم صاحبہ سے میری ملاقات ہوئی۔ میں نے ان کا تفصلی انٹرویو کیا ان کے خیالات انہی کی زبانی پیش خدمت ہیں۔
سوال: یہ عمارت کب بنی؟
جواب: یہ عمارت 2013 میں بننا شروع ہوئی اور 2015 میں مکمل ہوگئی۔ اوپر کا پورشن 2017 میں بنا اور جنوری 2018 کو سابقہ رکن صوبائی اسمبلی راحیلہ درانی نے اس کا افتتاح کیا۔
سوال: یہ عمارت کس نے بنائی؟
جواب: اس کے بانی ریٹائرڈ بریگیڈیئر عبد الرزاق بلوچ ہیں جن کی توسط سے محترمہ راحیلہ درانی نے اپنے ایم پی اے فنڈ سے بنوائی تھی۔
سوال: انتظامی امور کیسے چلتے ہیں؟
جواب: یہ ادارہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے زیر انتظام کام کرتا ہے پہلے ریٹائرڈ بریگیڈیئر عبد الرزاق بلوچ اس کے صدر تھے ابھی ان کی زوجہ صدر ہیں۔
سوال: آپ کی اس ادارے میں کیا حیثیت ہے ؟
جواب: میں یہاں ایڈمنسٹریٹر اور جوائنٹ سیکرٹری کی حیثیت سے کام کرتی ہوں اور بلا معاوضہ اپنی خوشی سے کام کرتی ہوں ۔ اور اپنا یہاں کا خرچہ بھی خود اٹھاتی ہوں بل کہ مالی مدد بھی کرتی ہوں۔
سوال: یہاں کتنے ملازم ہیں اور ان کی کیا ذمہ داریاں ہیں.
جواب: یہاں پانچ ملازم ہیں۔ ایک صفائی کرنے والا، ایک خاتون سپروائزر ہیں جو رہائشی حصے کے امور کی نگرانی کرتی ہیں، دو چوکیدار صبح اور شام کی چوکیداری پر معمور ہیں۔ آفس انچارج ندیم صاحب ہیں۔ جو انتظامی امور کی نگرانی کرتے ہیں۔
سوال: اس ادارے کو آبرو کا نام کیوں دیا ہے؟
جواب: اسے آبرو کا نام اس لیے دیا ہے کہ یہ گھر کی طرح عزت والی جگہ ہے۔ یہاں رہنے والی خواتین کو ہر سہولیت باعزت طریقے سے ملتی ہے۔ ان پر کوئی پابندی نہیں کہیں بھی آجا سکتی ہیں مگر یہاں کے قوانین اور ضوابط کے دائرے میں رہ کر۔ دوئم یہ ادارہ بہبود عمر رسیدہ کا مخفف ہے۔
سوال: اس میں کتنے کمرے ہیں؟
جواب: اس میں گیارہ کمرے ہیں۔
سوال: یہاں کے معاشی مسائل کیسے حل ہوتے ہیں اور ان کی مالی امداد کا کیا ذریعہ ہے؟
جواب: معاشی معاملات کو چلانے کے لیے مخیر حضرات فنڈنگ کرتے ہیں۔ جیسے محترم ریٹائرڈ بریگیڈیئر عبدالزاق بلوچ صاحب کے دور میں کافی لوگوں کی جانب سے بہت مدد ہوئی اور آرمی کی جانب سے بھی ڈرائی راشن سپلائی ہوتی ہے جو عبدالرزاق صاحب نے ہی کروائی۔ یہ سلسلہ اب بھی چل رہا ہے مگر اب اس میں کچھ کمی ہوئی ہے۔ اب الھدی ویلفئیر ٹرسٹ اور عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ کراچی والے ڈیمانڈ کرنے پر مدد کرتے ہیں۔
سوال: اس ادارے کو سرکار کی جانب سے کوئی معاشی مدد ملتی ہے؟۔
جواب: گورنمنٹ کی جانب سے کوئی ریگولر مدد نہیں ملتی۔ ان کے علاج معالجے اور کھانے پینے کا سارا خرچہ ادارہ خود کرتا ہے۔ ہم ان خواتین سے ایک روپیہ بھی نہیں لیتے۔ جو لوگ آکر انہیں پیسے دیتے ہیں وہ انہی کے پیسے ہوتے ہیں۔ اسے وہ اپنی مرضی سے خرچ کرتے ہیں۔
سوال: ان خواتین کے علاج معالجہ کا کیا طریقہ کار ہے؟
جواب: ان کے میڈیکل کا خرچہ ادارہ کرتا ہے، لیکن کچھ اسپتال پینل پر ہیں ۔جیسے سی ایم ایچ ہے جہاں ان کی کنسلٹیشن جناب عبدالزاق بلوچ صاحب نے مفت کروائی تھی جب کہ ادویات اور داخلے کا خرچہ ہم خود کرتے ہیں۔ اس کے علاؤہ ایوب میموریل ہاسپیٹل میں ڈاکٹر حشمت یہاں کے مریضوں کے مفت چیک اپ اور ادویات کی مفت فراہمی کے علاؤہ ماہانہ مالی مدد بھی کرتی ہیں۔ ڈاکٹر شفیق اور ڈاکٹر شیر زمان بھی ایمرجنسی کی صورت میں یہاں پر فی سبیل اللّٰہ آتے ہیں۔ ایک ڈاکٹر تو فوت ہوگئے اللّٰہ انہیں جنت نصیب کرے۔ ( آمین)
سوال: اب تک کتنی خواتین یہاں رہ چکی ہیں؟
جواب: 85 کے قریب خواتین یہاں آئی اور جا چکی ہیں۔ ان میں سے اب تک صرف ایک خاتون کا انتقال ہوا ہے۔ اصل میں ہم یہاں آنے والی خواتین کی ان کے گھر والوں سے مفاہمت کروا دیتے ہیں اور وہ واپس اپنے گھر جاتی ہیں یا اگر ان کا کہیں اور بندوبست ہوجائے تو وہ یہاں سے چلی جاتی ہیں۔ فل حال یہاں 13 خواتین رہائش پذیر ہیں ۔
سوال: کیا ان خواتین کو ان کے گھر والے یہاں چھوڑ جاتے ہیں؟۔
جواب: عموماً یہ خواتین خود ہی یہاں آتی ہیں۔ بہت کم ایسے ہیں جنہیں ان کے گھر والے چھوڑ جاتے ہیں۔
سوال: تقریباً کس عمر کی خواتین یہاں آتی ہیں؟
جواب: یہاں مختلف عمر کی خواتین آتی ہیں۔ شروع میں عمر کی حد پچاس سال سے اوپر تھی مگر بہت سی خواتین بہت مجبوری میں آتی ہیں اس لیے اب یہ حد چالیس سال سے اوپر رکھی ہے۔ کم عمر اور بزرگ خواتین سے لے کر کبھی سو سے اوپر عمر کی عورتیں بھی آتی ہیں۔
سوال: زیادہ معمر خواتین کو کیسے ڈیل کیا جاتا ہے؟
جواب: ہم یہاں ایسی خواتین نہیں رکھتے جنہیں خدمت گار کی ضرورت ہو۔ کیوں کہ ہم خدمت گار افورڈ نہیں کرسکتے۔ کم عمر عورتیں جو چلتی پھرتی ہیں اور اپنا کام کرسکتی ہیں وہ یہاں سپروائزر کی مدد بھی کرتی ہیں۔
سوال: کیا یہاں صرف غریب گھروں کی خواتین رہائش پذیر ہیں یا امیر گھروں کی بھی خواتین ہیں ؟
جواب: یہاں غریب امیر دونوں طرح کی خواتین آتی ہیں۔
سوال: کیا ان کے گھر والے عام دنوں میں یا عیدین پر انہیں دیکھنے آتے ہیں؟
جواب: ان سے ملنے کوئی بھی نہیں آتا۔ ان کے رشتے دار عید اپنے گھروں میں مناتے ہیں مگر ان سے ملنے نہیں آتے ہیں اور نہ ہی انہیں لے کر جاتے ہیں۔ عید بھی ہم ہی ان کے ساتھ مناتے ہیں یا پھر کوئی این جی او والے آکر مناتے ہیں۔
سوال: کیا ان کی بچے اپنے والدین کی یا ادارے کی مالی معاونت کرتے ہیں؟
جواب: ایسا کبھی بھی نہیں ہوتا۔ کبھی کوئی خدا ترس بندہ انہیں پیسے دے جاتا ہے۔ ہزار دو ہزار اکثر اوقات پانچ ہزار دس ہزار تک بھی دے جاتے ہیں۔ رمضان یا عیدین کے علاؤہ عموماً ایسا نہیں ہوتا۔
سوال: کیا معمر خواتین کو اپنے گھروں میں اپنی اولاد کے ساتھ رہنا زیادہ اچھا ہے یا اولڈ ایج ہوم میں ؟
جواب: یہاں پر انہیں ہر سہولت حاصل ہے مگر یہ اپنے گھر اور بچوں کو بہت یاد کرتے ہیں۔ ہر ایک کی خواہش ہے کہ گھر میں رہے چاہے ایک دو کمروں کا گھر ہو کیوں کہ گھر تو گھر ہے۔ یہاں پر آنے والی بہت سی خواتین کی گھر والوں کے ساتھ مفاہمت ہوچکی ہے۔ کیوں کہ کچھ کے گھر والے ڈر جاتے ہیں وہ یہاں آگئیں تو ان کی بے عزتی ہوگی۔ اس لیے ہم انہیں بلاکر ان کی پردہ پوشی رکھ کر ان کی مفاہمت کراتے ہیں۔ اور ہم خود بھی کوشش کرتے ہیں کہ ان خواتین سے ایسے سوالات سے اجتناب کریں جن سے انہیں دکھ ہو۔ کیوں کہ یہاں دکھی خواتین ہی آتی ہیں، خوشی سے کوئی نہیں آتا۔ اللّٰہ کے بعد ہم لوگ ہی ان کے اپنے ہیں۔
سوال:آپ کب تک یہاں ہیں؟
جواب: جب تک اللّٰہ توفیق عطا فرمائے۔ میں تو یہاں تاحیات ہی ہوں، آگے دیکھا جائے گا کب تک ہم ان کے ساتھ چلتے ہیں۔
سوال: کیا آپ اس ادارے میں کی جانے والی مالی امداد سے مطمئن ہیں؟۔
جواب: ریٹائرڈ بریگیڈیئر عبد الرزاق بلوچ کو اللّٰہ پاک جزائے خیر عطا فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے وہ بہت اچھا کام کرکے گئے ہیں مگر اب یہاں دیگر مالی مشکلات کے علاؤہ ملازمین کی تنخواہوں کا مسئلہ بھی ہے جو بہت کم ہے اور مخیر حضرات کی فنڈنگ سے چلتی ہیں۔ اس لیے آپ کے توسط سے مخیر حضرات سے گزارش ہے کہ وہ مالی معاونت کے ذریعے ہمارا ساتھ دیں۔
سوال: بلوچستان میں سرکاری سطح پر ایسی خواتین کے لیے کتنی اولڈ ایج ہوم ہیں؟ ان کا آبرو موازنہ کریں تو کون سی زیادہ بہتر ہیں؟
جواب: بلوچستان میں ایک برائے نام سرکاری اولڈ ایج ہوم ہے۔ جو سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے بند ہے جب کہ آبرو تو روز اول سے اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔ یہاں ہر ذمہ داری شفاف انداز میں نبھائی جاتی ہے۔ کوئی چیز ادھر ادھر نہیں ہوتی اور ہر چیز وصول کرنے پر رسید فراہم کی جاتی ہے۔ چاہے راشن ہو، چیک ہو یا کیش ہو۔ رجسٹر بھی مکمل ہیں۔ میں خود بھی آڈٹ کرتی ہوں کیونکہ میں ایکس بینکر ہوں۔
سوال: سرکار یا عوام کے نام کوئی پیغام دیں۔
جواب: یہی گزارش ہے کہ اپنے بڑوں کا خیال رکھیں۔ بزرگ گھر کی برکت ہیں۔ انہیں گھر میں رکھیں اگر نہیں رکھ سکتے تو پھر ہم تو موجود ہیں۔ جو لوگ بے آسرا ہیں انہیں یہاں تک پہنچا سکتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں شناختی کارڈ کی کاپی چاہیے ہوتی ہے۔ تاکہ ریکارڈ رکھنا ممکن ہو۔
339