انسانیت کی خدمت کرنے والی عظیم سماجی شخصیت عبدالستار ایدھی کی زوجہ محترمہ بلقیس ایدھی بھی گزشتہ روز انتقال کر گئیں،مرحومہ عارضہ قلب میں مبتلا تھیں، انہوں نے اپنے شوہر مرحوم عبدالستار ایدھی کے ساتھ مل کر انسانیت کی خدمت کے حوالے سے کارہائے نمایاں سر انجام دئیے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بلقیس ایدھی کی وفا ت پر تعزیت اور صدمے کا اظہار کیا ہے، سندھ کی حکومت نے بلقیس ایدھی کی وفات پر صوبے میں یوم سوگ کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ عبدالستار ایدھی اور بلقیس ایدھی کی ملک و قوم اور خصوصاً سماجی خدمت کے حوالے سے عظیم خدمات ہیں جنہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ایدھی سنٹر کے سربراہ فیصل ایدھی نے کہا کہ والد کی وفات کی بعد میری والدہ نے ایدھی سنٹر کو چلانے میں بہت مدد کی ، اب اکیلا ہو گیا ہوں۔ یہ حقیقت ہے کہ طوفان ہو یا زلزلہ، جنگ ہو یا حادثہ، پاکستان ہو یا دنیا کا کوئی کونا، کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں انسانیت کو ضرورت ہو اور عبدالستار ایدھی اور بلقیس ایدھی نہ پہنچے ہوں ، ہر زخمی ، ہر بیمار اور ہر لاچار کی مدد کا جذبہ ان کے خون میں شامل رہا، یہ جذبہ ہر ایک میں نہیں بلکہ کروڑوں میں سے کسی ایک میں ہوتا ہے اور ایسے لوگ روز روز نہیں صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ عبدالستار ایدھی اور بلقیس ایدھی اب ہمارے درمیان موجود نہیں ،انسانی خدمت کے حوالے سے دنیا کے کروڑوں دلوں میں ان کے احترام کے محل تعمیر ہو چکے ہیں ، انہیں یقینا قطعی طور پر ضرورت نہیں ہو گی لیکن پاکستان کا وقار اور قدرو منزلت اس میں ہے کہ عبدالستار ایدھی اور بلقیس ایدھی کا مزار اور یادگار تعمیر کی جائے اور اس سے بڑھ کر ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت خود ہر طرح کی کرپشن ‘ لوٹ مار کو ختم کرکے فلاحی ریاست کا نقشہ پیش کرے اور محروم و غریب طبقات کے ساتھ ساتھ دکھی انسانیت کیلئے حکومت بذات خود ایدھی بن جائے،یہ عبدالستار ایدھی اور بلقیس ایدھی کو خراج عقیدت پیش کرنے کا سب سے بہترین طریقہ ہے۔ پاکستان میں فوجی اعزازات کے علاوہ 21 اعزازات ایسے ہیں جنہیں شہری اعزازات کا نام دیا جاتا ہے ، ان میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کاکردگی بھی شامل ہے، میں نے عبدالستار ایدھی کے اعزازات کی لسٹ دیکھی جو بہت طویل ہے مگر ان میں سے ایک آدھ پاکستانی تھا باقی سب غیر ملکی تھے ، نوبل انعام کا اجراء 1895ء میں سویڈن کے کیمیا دان الفریڈ کی وصیت کے مطابق قائم کیا گیا اس کیلئے انہوںنے اپنی تمام منقولہ جائیداد وقف کی یہ انعام علم ایجادات ،امن و انسانی خدمات کے حوالے سے ہیں۔ نوبل انعام کا مجھے علم نہیں کہ وہ عبدالستار ایدھی کو کیوں نہیں ملا مگر اس کا افسوس ضرور ہوا کہ سوا سو سال کے دوران سینکڑوں انعام یافتگان میں ہمارے خطے کے نام بھی نظر نہ آئے ،مسلمان ملکوں کے نام خالی خالی نظر آئے۔ اگر ہم اپنے وسیب کی طرف آئیں تو سرائیکی وسیب میں صاحب حیثیت لوگوں کی کمی نہیں ، سردار ، جاگیر دار ، تمندار اور بڑے بڑے سرمایہ دار موجود ہیں مگر انسانی خدمت کے حوالے سے ان کی کوئی خدمات نہیں، کوئی بھی شخص ایسا نہیں کہ گنگا رام ہسپتال ، گلاب دیوی ہسپتال یا دیال سنگھ کالج کی طرح کوئی ہسپتال یا کالج بنوا دیتا۔ البتہ ایک بات یہ بھی ہے کہ سرائیکی وسیب میں سردار کوڑے خان جیسے لوگ بھی پیدا ہوئے جنہوں نے ہزاروں ایکڑ زمین تعلیم کیلئے خرچ کی مگر پاکستان کی تاریخ یا سرکاری نصاب میں ان کا کوئی ذکر نہیں ، تمام معاملات کو ایک بار پھر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بلقیس ایدھی 1947ء میں بھارتی ریاست گجرات کے ضلع بانٹوا میں پیدا ہوئیں، سولہ برس کی عمر میں انہوں نے عبدالستارایدھی کے قائم کردہ نرسنگ ٹریننگ اسکول سے پیشہ وارانہ تربیت حاصل کی اورایدھی فائونڈیشن میں ہی ملازمت اختیار کرلی۔ ان کی صلاحیتوں سے متاثر ہوکر عبدالستار ایدھی نے ان سے نکاح کرلیا پھر دونوں نے ایدھی فائونڈیشن کیلئے دن رات محنت کی اور اسے پاکستان کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم بنادیا۔بے گھر خواتین کی رہائش، شادی،،لاوارث بچوں کی دیکھ بھال سمیت بہت سے فلاحی کاموں کی نگرانی بلقیس ایدھی خود کرتیں، معصوم بچوں کی جان بچانے کیلئے انہوں نے جھولا پراجیکٹ بھی متعارف کرایا۔غلطی سے سرحد پار کرکے پاکستان آنے والی قوت گویائی اور سماعت سے محروم لڑکی گیتا کی دیکھ بھال پر انہیں بھارت نے مدرٹریسا ایوارڈدیا جبکہ حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔ بلقیس ایدھی اور عبدالستار ایدھی کا ذکر ایک ساتھ آتا ہے، وہ میاں بیوی بھی تھے اور ایدھی سنٹر کیلئے لازم و ملزوم ، عبدالستار ایدھی نے 1950 ء میں اپنی برادری (میمن) کے بعض ارکان حاجی عثمان عبدالغنی ایدھی، حسین عبدال دھامیا، عبدالستار بورا وغیرہ کے ساتھ مل کر ایک خدمت کمیٹی بنائی۔ زیادہ تر بے سہارا خواتین اور یتیم بچوں کی خدمت کا کام تھا اس لیے ضرورت محسوس ہوئی کہ رفیقہ حیات ہونی چاہیے۔ مولانا کے نرسنگ ہوم میں چھ خواتین بطور نرس کام کرتی تھی۔ایک رشتہ دار بلقیس نے پیش کش قبول کر لی۔ شادی کے پہلے ہی دن دولہا اور دولہن کو ایک شدید زخمی کو ہسپتال لے جانا پڑا سارا دن اور ساری رات اس کی دیکھ بھال پر صرف کرنا ہوا، گویا سہاگ بھی خدمت رات ٹھہری۔ عالمی سروے میں ایدھی ایمبولینس سروس آف پاکستان کو دنیا کی سب سے بڑی رضاکارانہ سروس تسلیم کیا گیا ہے، 500 سے زائد ایمبولینس گاڑیاں ، 300 امدادی کیمپ، 3 ائر ایمبولینس، 24 ہسپتال، دار الامان فری شفاء خانے اس میں شامل ہیں ، ماہانہ ایک لاکھ سے زائد ضرورت مندوں کو سروسز مہیا کی جاتی ہیں، ماہانہ بجٹ 5 ملین ڈالر سے زائد ہے۔ عظیم خدمات پر برطانیہ کی بریڈ فورڈ شائر یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطاء کی، پاکستان میں ڈاکٹریٹ کرنیوالے بہت ہیں مگر ان میں سے اکثر ڈگریوں کی حیثیت محض ان کی یونیورسٹی فیسوں کی رسیدوں سے زیادہ نہیں۔ عبدالستار ان پڑھ تھے، ان کو ڈگری دینے و الوں نے اپنے ادارے کی توقیر بڑھائی۔ انسان کے پاس ڈگریاں ہوں مگر اس کے اندر کا انسان جاہل ہو تو پھر ڈگریوں کا فائدہ نہیں، ویسے دیکھا جائے تو ابو جاہل بھی ان پڑھ نہ تھا۔ بہر حال یہ سچ ہے کہ انسانیت کا تعلق علم سے زیادہ سوچ کے ساتھ ہے۔