پاکستان پیپلزپارٹی کے سر براہ ذوالفقار علی بھٹو 4 اپریل 1979ء کو نواب محمد احمد خان قصوری کے قتل کے الزام میں پھانسی دے دی گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر محترمہ بے نظیر بھٹو تک جس طرح بھٹو خاندان کو غیر طبعی موت کے ذریعے راستے سے ہٹایا گیا دنیا کی سیاسی تاریخ میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے، بھٹو خاندان کے یکے بعد دیگر قتل کے بعد جو اثرات پاکستان پر مرتب ہوئے اس سے پاکستانی قوم آج تک نہیںنکل سکی۔ بھٹو کی پھانسی پر دستخط کرنے والے ضیاء الحق کے ساتھ قدرت کی طرف سے جو ہوا وہ مکافات عمل تھا۔ بھٹو کے خلاف ایک فیصلہ عدالتوںنے دیا اور پھر انہی عدالتوں نے 44سال بعد بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل بھی قرار دیا۔ بھٹو لوگوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہے اور لوگ اسے دعائوں میں یاد کرتے ہیں۔ دکھ اس بات کا ہے کہ آج ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت بھٹو کی عوامی سوچ اور ان کے جمہوری نظریے کے برعکس اقتدار کی مفاہمتی سیاست پر عمل پیرا ہے جو کہ کسی المیے سے کم نہیں۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ بھٹو کا قتل انصاف کا قتل بھی تھا، یہی بات عدالتوں نے خود تسلیم کی ، 44 سال بعد سپریم کورٹ نے اتفاق رائے سے قرار دیا کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ٹرائل میں آئینی وقانونی تقاضے پورے نہیں کئے گئے ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس سردار طارق مسعود ،جسٹس منصور علی شاہ ،جسٹس یحییٰ آفریدی ،جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل 9رکنی لارجر بنچ میں ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے بارے میں صدارتی ریفرنس میں مختصر رائے جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ مسٹر بھٹو کے خلاف لاہو ر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں کارروائی آئین میں دئیے گئے بنیادی حقوق اور آرٹیکل چار ، نواور دس اے کے مطابق نہیں تھی ۔ سپریم کورٹ کی طرف سے یہ مان لینا بہت بڑی بات ہے کہ بھٹو کیس میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے اس بنا ء پر عدالتی قتل والی بات درست ثابت ہوگئی۔ بھٹو کی پھانسی کو 46برس بیت گئے مگر اس کے اثرات اب بھی باقی ہیں، بھٹو کی موت نے صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا کو متاثر کیا ، وہ غریب ممالک خصوصاً عالم اسلام کے پسندیدہ لیڈر تھے ۔ بھٹو کو پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روکنے کیلئے کئی بین الاقوامی رہنمائوں نے جنرل ضیاء الحق پر دبائو ڈالا لیکن وہ اپنے فیصلے پر بضد رہے، یوں 4 اپریل 1979ء کو ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک منتخب وزیراعظم کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا گیا۔ ضیاء الحق اور غلط عدالتی فیصلے کے نتیجے کی سزا قوم آج بھی بھگت رہی ہے ۔ ایسے موقع پر یہ بات صادق آتی ہے کہ ایک غلط فیصلہ نسلوں کی سزا کا موجب بن جاتا ہے۔ بھٹو کے مقدمے میں وعدہ معاف گواہ فیڈرل کے سر براہ مسعود محمود دنے اعتراف کیا تھا کہ بھٹو نے ا نہیں مسٹر قصوری کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا، لا ہور ہائی کورٹ نے 18 مارچ 1978ء کو اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے بھٹو کو سزائے موت اور 25 ہزار جرمانہ ادا کرنے یا چھ ماہ تک سخت قید کی سزا سنائی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے ورثاء پھانسی کو سیاسی قتل کا نام دیتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ عدالت نے جنرل ضیاء کے حکم پر پھانسی کا فیصلہ سنایا تھا، وہ اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کیلئے یہ بات بھی کہتے ہیںکہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق علی نے صد رکی ہدایات براہ راست وصول کی تھیں، سپریم کورٹ کے 4 ججوں نے پھانسی کے حق میں جبکہ 3 نے اس کے خلاف فیصلہ سنایا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ بھٹو دراصل امریکہ کے غضب کا نشانہ بنے کیونکہ انہوںنے پاکستان میں ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا تھا اور عالم اسلام کے اتحاد کے خواہاں تھے، سرمایہ دار ملکوں کے خلاف تھرڈ ورلڈ کے نام سے 77ترقی پذیر ملکوں کا بلاک بنایا،بھٹو کو پھانسی دینے کے بعد پورے ملک میں ہنگامے شروع ہو گئے۔ پیپلزپارٹی اسے عدالتی قتل قرار دیتی رہی ، ذوالفقار علی بھٹو کے چاروں بیٹوں اور بیٹیوں میں سب سے چھوٹے بیٹے شاہ نواز بھٹو سوئٹرز لینڈ میں پڑھ رہے تھے جب ان کے والد کو پھانسی کے تختے چڑھا دیا گیا تھا انہوںنے اپنے بڑے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کیساتھ مل کر بین الاقوامی لیڈروں سے ملاقات کے دوران جنرل ضیاء کو پھانسی کے فیصلے سے باز رکھنے کی بھرپور کوشش کی لیکن ان کی تمام یہ کوششیں بے کار ثابت ہوئیں۔ ۔ 18 جولائی 1985ء کو 27 سالہ شاہ نواز اپنے فلیٹ میں مردہ پائے گئے، ان کی موت کو بھی بھٹو خاندان کو ختم کرنے کی کڑی قرار دیا جاتا ہے۔ بھٹو کی برسی کے موقع پر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کی سیاست بھٹو کے تذکرے کے بغیر نا مکمل اور ادھوری ہے ، بھٹو ایک شخص نہیں ایک سوچ کا نام ہے ۔ ذوالفقار بھٹو ایک قومی رہنما تھے ’’غریب کو اپنے ہونے کا احساس‘‘ دیکر بلا شبہ بھٹو نے بہت بڑا کارنامہ سر انجام دیا ۔ بھٹو کی شخصیت کے کئی پہلو تھے،ان کاسرائیکی وسیب سے محبت کا حوالہ بہت اعلیٰ ہے ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ نسل در نسل اسمبلیوں میں جانے والے سرائیکی وسیب کے جاگیرداروں کو اپنے خطے کی تہذیب‘ ثقافت اور تاریخ کا علم نہیں ہے مگر بھٹو اس سے واقف تھے وہ سرائیکی کی جداگانہ شناخت کو سمجھتے تھے ۔ آج ہمیں بہت دُکھ ہوتا ہے کہ بھٹو کی سیاسی میراث کے وارثوں نے ان کے اس پہلو کو فراموش کر دیا۔پیپلز پارٹی مہاجر صوبے کے خوف سے سرائیکی صوبے کے مسئلے کو بیچ منجھدار میں چھوڑ کر خود کنارے لگ گئی، کیا اس کا نام وفا شعاری ، اصول اور نظریہ ہے؟ ۔
60