ملک اقبال حسن بھپلا ایک شخص نہیں ایک عہد کا نام ہے۔ ملک صاحب کا تعلق ملتان سے تھا۔ نواحی علاقہ قاسم بیلہ سے ملحقہ بستی گھوٹیہ اُن کی جنم بھومی ہے۔ملک اقبال حسن بھپلا کی حیات کو چار ابواب میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اُن کی زندگی کا ایک باب زمیندار کی حیثیت سے ہے دوسرا باغبان کی حیثیت سے تیسرا سیاستدان کی حیثیت سے اور سب سے اہم چوتھا باب سرائیکی سوجھوان اور درویش انسان کی حیثیت سے ہے۔ خان پور کے بعد 1994ء میں ملتان سے سرائیکی اخبار جھوک کا اجراء ہوا۔ ملک صاحب تشریف لائے اور کہا کہ آپ کی ہماری پہلی ملاقات ہے تاہم مجھے 17 نومبر کی افتتاحی تقریب کا علم ہوا تھا، نہ آسکا۔ اب مبارکباد کیلئے آیا ہوں، ہمارا دور پہلے فارسی، اب اردو کا ہے۔ سرائیکی میرے لیے بہت کشش رکھتی ہے کہ یہ ہماری ماں بولی ہے۔ اب میں بھی جھوک کیلئے وقتاً فوقتاً لکھتا رہوں گا، کچھ عرصے بعد سرائیکی میں ابتداء ہوئی، سرائیکی شاعری مجموعہ ’’کچے دھاگے‘‘ ہم نے شائع کیا۔ ملک صاحب کی ایک نثری کتاب ’’ستھ‘‘ کے نام سے شائع ہوئی جو دیہی پراہ پنچائت کے حوالے سے تھی۔ اس میں پنچائت کے اصول بیان کئے گئے تھے اور پنچائت کے حوالے سے بہت سی باتوں کا ذکر تھا۔ کتاب مختصر تھی لیکن اپنی نوعیت کی بہترین کتاب تھی۔ ملک صاحب کی ایک کتاب اردو میں آئی جس کا نام ’’سچ کا کشکول‘‘ تھا۔ یہ کتاب اقوال زریں اور اصلاح معاشرہ پر مبنی مضامین کے حوالے سے تھی۔ سرائیکی ڈوہڑا سرائیکی شاعری کی بنیادی صنف ہے۔ وسیب کے دیگر علاقوں خصوصاً ڈی جی خان میں بہت طاقتور ڈوہڑا لکھا جا رہا تھا، ڈوہڑے کے میدان میں احمد خان طارق، شاکر شجاع آبادی، امان اللہ ارشد بڑے نام تھے لیکن ملتان میں ڈوہرے کے حوالے سے کوئی بڑ انام نہ تھا۔ دوسرے لفظوں میں کہا جا رہا تھا کہ ملتان میں ڈوہڑے کی صنف دم توڑ چکی ہے۔ ان حالات میں ملک اقبال حسن بھپلا نے سرائیکی ڈوہڑا لکھنا شروع کیا اور اس حوالے سے ملتان کی آبرو بنائی۔ اُن کے شعری مجموعہ ’’بیٹ چنہاں دا‘‘ کے نام سے شائع ہوا تو اُس میں دیگر اصناف کے ساتھ ساتھ ملک اقبال حسن بھپلا کے لکھے ہوئے ڈوہڑے نے سرائیکی ادب کے قارئین کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ ملک اقبال حسن بھپلا کی ایک پوری کتاب ڈوہڑوں پر مشتمل ہے اس کتاب کا ہر ڈوہڑا اڑی سینگی کے لفظ سے شروع ہوتا تھا۔ یہ نوعیت کی بہترین اور شاندار کتاب تھی۔ ملک اقبال حسن بھپلا بزرگ اور عمررسیدہ آدمی تھی مگر ادب کے میدان میں وہ نئے تجربے کرتے رہتے تھے۔ انہوں نے ایک کتاب ’’بالو‘‘ کے نام سے لکھی ، جب وہ مسودہ لے کر آئے تو میں نے پوچھا کہ آپ کا نام تو اقبال ہے، بالو کس کا نام ہے؟ تو مسکرائے اور کہا کہ آپ جس طرف اشارہ کر رہے ہیں ایسی کوئی بات نہیں۔ یہ نام مجھے اچھا لگا ہے۔ میری یہ کتاب نثر میں ہے اور میں نے افسانے اور انشائیے کی آمیزش کی ہے اور اس نثری صنف کا نام بالو رکھا ہے۔ یہ میرا ادبی تجربہ ہے شاید سرائیکی ادب میں اس کی کوئی جگہ بن جائے۔ ملک اقبال حسن بھپلا کی اس کتاب کو بہت پسند کیا گیا۔ اس کے عنوانات بھی اچھے تھے۔ ملک اقبال حسن بھپلا کی کتاب پر میں نے جان کر ’’ناشر بھپلا ادبی اکیڈمی‘‘ لکھا، ملک صاحب نے کہا کہ ایسا کیوں؟ میں نے کہا کہ اس نام کی اکیڈمی ضروری ہے اور پھر وہ اکیڈمی بنی مگر اُن کی زندگی کے ساتھ اکیڈمی کا کام معطل ہے البتہ اُن کی یاد منائی جاتی ہے۔ ملک اقبال حسن بھپلا بہت اچھے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھے انسان بھی تھے۔ عاشق رسولؐ تھے جب سرکار مدینہؐ کا ذکر ہو تو آنکھوں میں آنسو امنڈ آتے ہیں۔ اُن کا ایک شعری مجموعہ سرائیکی نعتیہ کے کلام کے حوالے سے ہے جس کا نام ’’منگتا مدینے دا‘‘ ہے۔ یہ کتاب بھی اپنے نام کی طرح بہت اعلیٰ ہے۔ ملک اقبال حسن بھپلا ملتان کی تاریخ بھی تھے اور تاریخ ساز شخصیت بھی۔ وہ انفرادیت کے حامی تھے۔ انہوں نے دریائے چناب میں ایک سرائیکی مشاعرے کا انعقاد کیا جو بہت بڑی کشتی میں منعقد ہوا۔ یہ اپنی نوعیت کا شاندار، بہترین اور تاریخ ساز مشاعرہ تھا جو دریا میں منعقد ہوا۔ ملک اقبال حسن بھپلا ایک دانشمند اور درد مند انسان تھے۔ انسانوں سے محبت کرتے تھے وسیب اور وسیب کی تہذیب و ثقافت سے محبت کرتے تھے۔ وسیب کی ترقی کے خواہاں تھے۔ بحیثیت مثالی زمیندار و باغبان اُن کا نام روشن رہے گا کہ اُن کا آموں کا باغ آج بھی اُن کی یاد دلاتا ہے جب وہ سیاست میں آئے یونین کونسل قاسم بیلہ کے چیئرمین بنے تو ترقیاتی کاموں کے علاوہ تاریخی فیصلے اُن کے ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ درویش اس قدر تھے کہ ہم اکٹھے کہیں جا رہے ہیں، کہیں اُن کو خانہ بدوشوں کی جھونپڑیاں نظر آتیں تو فوراً وہاں چلے جاتے، اُن سے ملتے، خیریت دریافت کرتے، چھوٹے بچوں کو خرچی دیتے، ملک صاحب نے مجھے بتایا کہ میں کسی کو نہیں بتاتا لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ میں اُن لوگوں کے ساتھ وقت گزارتا ہوں اور دلی راحت محسوس کرتا ہوں۔ ملک صاحب کی جھوک سے اس قدر محبت ہو گئی کہ انہوں نے ہمارے ساتھ کئی کئی راتیں بسر کیں۔ وہ کہتے تھے کہ میں جھوک میں آتا ہوں تو ادیبوں، شاعروں سے ملاقات کے علاوہ ایسے لگتا ہے جیسے میں گھر آگیا ہوں۔ اُن کی درویشی اور علم دوستی کی بناء پر ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان شیخ سعید صاحب نے ریڈیو پاکستان ملتان کا ایک آڈیٹوریم اُن کے نام سے منسوب کیا ہے۔ ملک صاحب آج ہمارے درمیان موجود نہیں مگر تصور میں آج بھی سرائیکی لباس چادر، کھلا چولا، سر پر خوبصورتی پگڑی اور پائوں میں طلے دار کھسہ ۔ ایسے لگتا ہے آج بھی وہ جھوک بھپلا سے جھوک سرائیکی آرہے ہیں۔ سچی بات یہی ہے کہ وہ اپنی تہذیب، ثقافت، اپنے لباس اور اپنی شرافت کے باوصف چلتا پھرتا سرائیکستان تھے۔ ایسے لوگ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں وہ کبھی نہیں مرتے۔ بابا بلھے شاہ نے سچ فرمایا ’’بلھے شاہ اساں مرنا نا ہیں، گور پیا کوئی ہور‘‘۔
155