113

اسلامی سال کا پہلا دن یکم محرم ۔ سانحہ سوات

دریائے سوات کے سیلابی ریلے میں درجنوں افراد بہہ گئے۔ ان میں دس سیاحوں کا تعلق سیالکوٹ سے تھا۔ سانحہ سوات پر وزیر اعلیٰ نے دکھ کا اظہار کیا ہے جو کہ غیر تسلی بخش ہے۔ وزیر اعلیٰ خبیرپختونخوا علی امین گنڈا پور کے بیان نے زخموں پر نمک کا کام کیا۔ یہ حقیقت ہے کہ پہلی محرم کو سانحہ سوات نے قوم کو رلا دیا،پوری انسانیت غمزدہ ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کی بدترین نااہلی سامنے آئی،علی امین گنڈاپور کو استعفیٰ دینا چاہیے۔ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی تیسری حکومت ہے۔ صوبے میں بیڈ گورننس چل رہی ہے۔ سانحہ سوات نے غفلت، لاپروائی کے بہت سے واقعات سے پردہ اُٹھا دیا ہے۔ خیبرپختونخوا مسلسل بدترین دور سے گزر رہا ہے۔اتنے بڑے سانحے پر عمران خان سمیت تحریک انصاف کی خاموشی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔علی امین گنڈاپور کا ہیلی کاپٹر تو نشے میں تھا، مریم نواز کے ہیلی کاپٹر کو بھی توفیق نہیں ہوئی، صدر وزیراعظم اور ادارے اسلام آباد کے ایوانوں میں بیٹھ کر صرف چیخیں اور آہ و بکا سنتے رہے۔ اگر ان حکمرانوں کو ذرا بھی احساس ہوتا تو یہ ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے استعفیٰ دے د یتے۔ اس المناک سانحہ پر وسیب کے کروڑوں لوگ سیالکوٹ سے تعزیت کرتے ہیں اور مرحومین کے درجات کی بلندی کے ساتھ لواحقین کے صبر جمیل کیلئے دعا کرتے ہیں۔ محرم کا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ عشرہ محرم کے دوران امن و امان قائم رکھنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ فیک نیوز سے اجتناب ہونا چاہئے اور اہل وطن کو ہر طرح کی افواہوں سے گریز کرنا ہو گا۔ حکومت کی طرف سے ایک لاکھ سے زائد سکیورٹی اہلکاروں کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے، ان کی تنخواہیں عوام کے ٹیکسوں سے ادا ہوں گی۔ عوام کے جان و مال کا تحفظ ان کی ذمہ داری میں شامل ہے۔ حکومت کی طرف سے نو اور دس محرم کو موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی لگائی جاتی ہے مگر تین تین لوگ بھی سوار ہوتے ہیں اور ڈیوٹیوں پر پہنچنے کیلئے کچھ پولیس اہلکار بھی ایسا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دو پر پابندی ہے تین کا ذکر نہیں ہے۔ جلوس کے راستوں کو محفوظ بنانا بہت ضروری ہے۔ مذہبی منافرت پر مبنی نعروں اور مواد کے اشاعت پر پابندی پر عملدرآمد ہونا چاہئے۔ ہر مرتبہ ڈرون کیمروں کے استعمال پر پابندی لگائی جاتی ہے مگر عمل نہیں ہوتا اور یہی اسلحہ کی نمائش کے بارے میں ہوتا ہے۔ دفعہ 144 کو بھی مذاق بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ کئی سالوں سے عشرہ محرم سخت گرمی کے موسم میں آرہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ جگہ جگہ پانی کا انتظام ہونا چاہئے۔ اہل اسلام اپنے طور پر نذر اللہ نیاز حسین کے نام سے سبیلوں کا انتظام کرتے ہیں۔ شربت اور میٹھے پانی کی جگہ جگہ سبیل ہوتی ہے۔ تاہم اس مرتبہ سخت گرمی میں حکومت کی طرف سے بھی پانی کا انتظام ہونا چاہئے۔ حکومت کی طرف سے ہر سال کیمروں کی تنصیب کی جاتی ہے مگر اکثر کیمرے خراب ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ کرپشن ہوتی ہے کہ مہنگے کیمروں کے نام پر ناقص اور سستے کیمرے حاصل کئے جاتے ہیں۔ محرم کا مہینہ ہمیں حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ یہ اسوئہ حسین کا مہینہ ہے۔ اس کا سبق یہ ہے کہ حق پر قائم ہو جائو، باطل کا انکار کرو اور سچ کیلئے جان بھی قربان کرنی پڑے تو قربان کر دو۔محرم الحرام اسلامی کیلنڈر کا پہلا مہینہ ہے ۔ اس ماہ کو شہدائے کربلا کا مہینہ بھی کہا جاتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں اس مہینے کی بہت زیادہ عظمت ہے ‘ اس پورے مہینے کو شہدائے کربلا کی یاد منانے کے ساتھ ساتھ وسیب میں یہ بھی ہوتا ہے کہ مسلمان شہر خاموشاں کی طرف جاتے ہیں اور پہلی محرم سے 10 محرم تک قبروں کی لپائی کی جاتی ہے۔ لواحقین قبرستانوں میں جا کر فاتحہ خوانی کرتے ہیں ‘ نذر نیاز اور طعام کی تقسیم ہوتا ہے ‘ کھجور کے پتے ‘ دالیں ‘ خوشبودار پانی اور پھول کی پتیاں قبروں پر نچھاور کی جاتی ہیں‘ اگر بتیاں جلائی جاتی ہیں ۔ ان دنوں مستری مزدور بہت مصروف نظر آتے ہیں ۔ یہ رسومات ایک طرح سے اسلامی ثقافت کا حصہ بن کر رہ گئی ہیں۔ محرم الحرام کے موقع پر قبرستان جانے پر اعتراض نہیں لیکن یہ کام وہ ہیں کہ جو ہر وقت ہو سکتے ہیں اور پورا سال فاتحہ کیلئے قبرستان میں آنا جانا رہنا چاہئے ۔ قبرستان جانے کے مقاصد بھی فراموش نہیں کرنے چاہئیں ، موت بر حق ہے مگر ان کاموں کے بارے میں سوچنا چاہئے جو موت کو بھی مار دیں اور ہمیشہ یاد رکھے جائیں ۔ کربلا کا واقعہ تاریخ اسلام کا المناک واقعہ ہے، اس واقعہ کا پیغام باطل قوتوں سے ٹکرا کر حق و صداقت کا علم بلند کرنا ہے اور غمِ حسین کو طاقت بنا کر آگے بڑھنا ہے۔ سینہ کوبی کی نہیں ظالم سے ٹکرانے کی ضرورت ہے، دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھنی ہے، امریکا، اسرائیل ، بھارت گٹھ جوڑ مسلمانوں کے خلاف ہے، ان حالات میں مذہب اسلام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، فرقہ واریت سے بچنا ہے ، فرقہ واریت کے نام پر اسلام اور پاکستان کا بہت نقصان ہو چکا ہے۔ سرکاری طور پر فرقہ واری کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ علماء ، زاکرین اور گدی نشینوں کو خانقاہوں سے نکل کر رسم شبیری ادا کرنا ہوگی ۔واقعہ کربلا کے واقعات پڑھیں تو ایک ایک بات ہمارے لئے سبق اور مشعل راہ ہے ۔ کربلا کی جنگ میں خواتین کا کردار بھی لازوال اور بے مثال ہے ۔یوم عاشور کے دوران حضرت امام حسینؓ کے قافلے سے 21 خواتین اسیر ہوئیں جن میں سے غیر ہاشمی اور بنی ہاشم قبیلے کی خواتین شامل تھیں ۔ شام ، کوفہ کے بازاروں میں حضرت زینبؓ کے خطبات نے لوگوں کے ذہنوں میں آپ کے والد حضرت علیؓ کے خطبات کی یاد تازہ کر دی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ باطل قوتوں کے ساتھ ٹکرانے کیلئے خواتین کو بھی میدان میں آنا چاہئے۔

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز