شہید جمہوریت محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت بہت بڑا سیاسی المیہ ہے۔ دسمبر کو یادوں کا مہینہ کہا جاتا ہے۔ جب بھی 27 دسمبر کی تاریخ آتی ہے تو ناگوار یادوں کا طوفان امڈ آتا ہے کہ یہ محترمہ بینظیر بھٹو کا یوم شہادت ہے۔ لیاقت باغ راولپنڈی میں اپنی شہادت سے کچھ دیر پہلے محترمہ بینظیر نے کہا کہ پنڈی نے مجھے بہت دکھ دیئے ہیں اور کچھ خوشیاں بھی ، انہوں نے کہا کہ پی پی کی تاریخ جدوجہد سے بھری پڑی ہے ، میرے والد جابر قوتوں کے سامنے سرنگوں نہ ہوئے اور تختہ دار پر چڑھا دیئے گئے ۔ محترمہ نے کہا کہ میرے دو بھائی قتل ہوئے۔ میری ماں کا لاٹھیوں سے سر پھاڑ دیا گیا۔ مجھے قدم قدم پر اذیتیں دی گئیں اور ٹارچر کیا گیا ۔ میں جیلوں کے اندر رہ کر بھی جمہوریت کیلئے لڑتی رہی۔ آمروں نے ہمیشہ جمہوریت کا راستہ روکا۔ میرے کراچی کے جلسے میں دھماکے کرائے گئے ، ہم نے اپنے سینکڑوں کارکنوں کے لاشے اٹھائے۔ سیاسی یتیم کہتے تھے کہ بے نظیر بھٹو اب کبھی واپس نہیں آئیں گی لیکن میں تمام خطرات کو ایک طرف رکھ کے واپس آئی ہوں کہ میں موت سے نہیں ڈرتی اور اپنے وطن کے لوگوں کے ساتھ جینا مرنا چاہتی ہوں ۔ پنڈی سے قبل محترمہ نے وسیب کے اجتماعات سے خطاب کیا ۔ رحیم یارخان کے بعد بہاولپور کے جلسہ عام میں محترمہ نے کہا کہ مجھے اورمیرے بزرگوں کو بہاولپور سے پیار ہے ، یہ حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی اور جلال الدین سرخ بخاری کی دھرتی ہے ۔ میرے دادا میر مرتضیٰ بھٹو کو انگریز دور میں یہاں پناہ ملی ،ہم بر سر اقتدار آ کر اس شہر میں زراعت کی ترقی ، بے روزگاری کے خاتمے اور اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کرنے کے لئے اقدامات کریں گے کہ میرے والد ذوالفقار علی بھٹو نے وسیب کو تین یونیورسٹیاں دیں۔ افسوس کہ محترمہ کے فرمان کے بر عکس پی پی حکومت نے نہ تو بہاولپور میں کوئی تعلیمی ادارہ قائم کیا اور نہ کوئی صنعت قائم ہوئی نہ زراعت کو ترقی ملی اور چولستان میں زمینوں کی بندر بانٹ بندہونے کی بجائے بڑھ گئی ، آج وسیب میں گندم کے کھلے عام گودام بھرے ہیں لیکن لوگ بھوک سے خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں ۔ محترمہ نے کہا کہ کپاس ان کی ہے مگر کارخانے کہیں اور ہیں اور گارنمنٹس کا ایکسپوٹر کوئی اور ہے ۔ وسیب سمیت تمام پسماندہ علاقوں کو پسماندگی ختم کرنے کیلئے ترقی کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی ضرورت تھی جو نہیں کی گئی ۔ محترمہ نے ہمیشہ محروم طبقات کی بات کی اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے اقدامات بھی کئے اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے ہر فورم پر آواز بھی بلند کی۔ یہ صرف انہیں کا کریڈٹ ہے اور انہی اوصاف کی وجہ سے پسماندہ طبقات آج بھی ان کو یاد کرتے ہیں۔ یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ سندھ اور وسیب کے درمیان دکھ کی سانجھ قدرتی اور فطرتی طور پر موجود ہے، اسی سانجھ نے دونوں کو اپنائیت کے دھاگے میں پرو رکھا ہے۔ اسی بات کا سب سے زیادہ احساس دیدہ ور سیاست دان ذوالفقار علی بھٹو اور اُن کی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کا تھا ۔ انہوں نے جس طرح اپنی ماں دھرتی سندھ سے محبت کی اُسی طرح وسیب سے بھی محبت کی۔ لیکن آج مہاجر صوبے کے خوف سے سندھ کی قیادت نے وسیب سے آنکھیں پھیر لیں ہیں ۔جس طرح سندھ اور وسیب کی تاریخ بہت قدیم ہے اسی طرح سندھ وسیب کی تہذیبی ، ثقافتی جغرافیائی سانجھ بھی بہت پرانی ہے ۔ سندھ اور وسیب کے لوگ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہے ان کی زبان ، ثقافت ایک رہی اور یہ بھی ایک حقیقت ہے سندھ وسیب میں بسنے والی قومیں اور ذاتیں نا صرف ایک ہیں بلکہ ان کے درمیان زمانہ قدیم سے رشتہ داریاں بھی ہیں ۔ دونوں خطوں کے لوگ ایک ہی طرح کی تہذیبی ، ثقافتی اور جغرافیائی مسائل کا شکار ہیں ، دونوں خطے زمانہ قدیم سے حملہ آوری کی زد میں رہے ۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ دونوں کے درمیان دکھ کی سانجھ قدرتی اور فطرتی طور پر موجود ہے ۔اسی سانجھ نے دونوں کو اپنائیت کے دھاگے میں میں پرو رکھا ہے ۔ اسی بات کا سب سے زیادہ احساس دیدہ ور سیاست دان ذوالفقار علی بھٹو اور اُن کی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کا تھا ۔ انہوں نے جس طرح اپنی ماں دھرتی سندھ سے محبت کی اُسی طرح وسیب سے بھی محبت کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی اب برسراقتدار ہے مگر وہ محترمہ بینظیر بھٹو کے نظریات کو بھول چکی ہے۔ پسماندہ علاقوں کی ترقی کو بھول چکی ہے۔ بھٹو کی میراث کے وارث یہ تب کہلا سکتے ہیں جب بھٹو کے نظریات پر عمل پیرا ہوں۔ ٭٭٭
53