150

"ایف-آئی-اے اور آف لوڈنگ کا معاملہ: تفصیلات اور حقائق (پہلا حصہ)"


ہر تصویر کی طرح اس تصویر کے بھی دو رخ ہیں۔ ہمیں دونوں رخ سمجھنے ہوں گے، کیونکہ کسی بھی معاملے کے حوالے سے عقلمندانہ رائے کے قیام یا منصفانہ فیصلے کی تکمیل کیلئے اس معاملے کے متعلقہ تمام پہلوؤں کو جانچنا اور سمجھنا اشد ضروری اور ناگزیر ہوتا ہے۔ آئیں، تصویر کا پہلا رخ سمجھتے ہیں۔

سیالکوٹ کے ایک دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والا عبد القدوس بٹ 13 اکتوبر 2025ء کو ملازمت کے سلسلے میں سعودی عرب جانے کیلئے لاہور ایئرپورٹ پہنچا لیکن ایف-آئی-اے حکام نے اسے جہاز میں بیٹھنے نہ دیا اور آف لوڈ کر دیا۔ اس کے پاس سعودی عرب کا ورک ویزا اور دیگر تمام ضروری سفری دستاویزات موجود تھیں، تاہم اسے بنا کسی وجہ کے سعودی عرب کے سفر سے روک دیا گیا۔ اسی طرح کا ایک اور واقعہ 7 نومبر 2025ء کو اسلام آباد ایئرپورٹ پر پیش آیا، جب جہلم کے ایک نواحی علاقے سے محمد بشیر نامی مسافر کو ایف-آئی-اے حکام نے آف لوڈ کر دیا۔ یہ شخص وزٹ ویزہ پر متحدہ عرب امارات جا رہا تھا اور اس کے پاس بھی تمام سفری دستاویزات پورے تھے، تاہم اسے بھی واپس گھر بجھوا دیا گیا۔ ان دونوں مسافروں کے اصرار اور احتجاج کرنے کے باوجود ایف-آئی-اے کی جانب سے انہیں آف لوڈ کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ یہ تو محض دو واقعات ہیں۔ اس طرح کے سینکڑوں واقعات پچھلے چند ماہ سے پاکستان کے مختلف ائیرپورٹس پر پیش آ چکے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر رونما ہو رہے ہیں۔ اسی وجہ سے آج کل وطن عزیز میں ہر طرف ایک عجیب قسم کی سراسیمگی، افراتفری، دہشت، خوف اور غیر یقینی کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔

آپ روزانہ ٹیلیویژن پر اور بالخصوص سوشل میڈیا پر اس طرح کے واقعات پر مبنی لاتعداد رپورٹس اور ویڈیوز دیکھ رہے ہوں گے۔ ایف-آئی-اے کے اس ناروا اور غیر اخلاقی رویے کو ناانصافی قرار دے کر ہر طرف عوام سراپا احتجاج ہیں۔ وزارت داخلہ اور حکومت کے اوپر طرح طرح کے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایف-آئی-اے کے ملازمین پر مسافروں سے رشوت لے کر جہاز میں بٹھانے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں اور یہ سوال تو ہر طرف سے پوچھا جا رہا ہے کہ ایف-آئی-اے جن مسافروں کو آف لوڈ کر رہی ہے، ان کے پاس تمام سفری دستاویزات موجود ہوتے ہیں اور پاکستان کے آئین کی رو سے اگر کوئی بھی پاکستانی شہری وزٹ ویزہ یا ورک ویزہ یا کسی بھی اور مقصد سے بیرون ملک کا سفر کرنا چاہے اور اس کے پاس تمام ضروری سفری دستاویزات موجود ہوں، تو ایف-آئی-اے اسے بلاوجہ روکنے کی بالکل بھی مجاز نہیں ہے، بلکہ الٹا وہ بیرون ملک جانے والے شہریوں کو معاونت فراہم کرے گی، تاہم اس کے برعکس پورے پاکستان کے مختلف ایئرپورٹس پر روزانہ لاتعداد مسافروں کو ایف-آئی-اے کی جانب سے آف لوڈ کیا جا رہا ہے اور بارہا پوچھنے پر بھی ایف-آئی-اے کی جانب سے انہیں آف لوڈ کرنے کی وجوہات نہیں بتائی جا رہیں، آخر عوام سے اس قدر ظلم اور زیادتی کیوں کی جا رہی ہے ؟ 

متعدد عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایف-آئی-اے کے اس غیر قانونی اور ناانصافی پر مبنی سلوک کی وجہ سے عوام کے لاکھوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے اور بار بار ٹکٹ کی خریداری سے لوگ بے حد مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔ ویزہ کے حصول کیلئے ہر مسافر نے لاکھوں روپے خرچ کیئے ہوتے ہیں اور ایف-آئی-اے کے اس غیر قانونی اقدام کی وجہ سے عوام کا حلال سرمایہ ڈوب رہا ہے۔ مزید برآں، بیرون ممالک میں مقیم پاکستانی ہر سال لاکھوں ڈالرز کا زرمبادلہ پاکستان بجھواتے ہیں، جس سے پاکستان کی معیشت مستحکم ہوتی ہے، تاہم ایف-آئی-اے کی جانب سے عوام کو بلاوجہ آف لوڈ کرنے کی بدولت یہ اندیشہ پیدا ہو گیا ہے کہ وطن عزیز کو ملنے والا زرمبادلہ مستقبل میں کمی کا شکار ہو سکتا ہے۔ بلاشبہ یہ تمام باتیں درست ہیں اور آپ کے سامنے آج کل کے تمام حالات واضح ہیں، تاہم جیسا کہ میں ابتداء میں عرض کر چکا ہوں، ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں، لہذا اب آپ تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ کریں۔

ایف-آئی-اے کے ریکارڈ کے مطابق پاکستان سے پچھلے کئی سالوں میں ہزاروں، لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی شہری سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان، قطر، لیبیا، آذربائیجان ملائشیا، نیپال وغیرہ گئے، تاہم اپنے ویزہ کی مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد بھی تاحال واپس پاکستان نہیں آئے، جو کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ایک جرم ہے۔ تحقیقات سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق یہ افراد انسانی سمگلنگ کرنے والے ایجنٹوں کے ذریعے پہلے ان چھوٹے ممالک کا وزٹ ویزہ لیتے ہیں، جو کہ بڑے ممالک جیسے یورپی ممالک، کینیڈا، امریکہ، آسٹریلیا وغیرہ کی نسبت آسانی سے مل جاتا ہے۔ ان افراد کا اصل مقصد چھوٹے ممالک کا روٹ استعمال کر کے آگے غیر قانونی طور پر یورپ، کینیڈا، امریکہ وغیرہ جا کر وہاں مقیم ہونا ہوتا ہے، جس کے عوض انسانی سمگلر ان سے لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں۔ غیر قانونی طور پر کسی بھی بڑے ملک میں داخل ہونا ان افراد کا پہلا بڑا جرم ہوتا ہے، جسے چھپانے یا قانونی شکل میں ڈھالنے کیلئے یہ افراد وہاں "سیاسی پناہ" یعنی "اسائلم" کیلئے درخواست جمع کرواتے ہیں، جس کی بنیاد سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہے۔ اس کے بعد ان افراد  کی جانب سے جرائم کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے آپ محترم قارئین کرام "سیاسی پناہ" یا "اسائلم" کے متعلق چند اہم حقائق جان لیں۔

دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد 1951ء میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی 145 ممبر ممالک نے یورپی ممالک کے مسائل اور مشکلات سے دوچار شہریوں کو پناہ فراہم کرنے کیلئے ایک معاہدے پر دستخط کیئے، جسے "1951ء رفیوجی کنونشن" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے 1948ء میں اپنائے جانے والے "یونیورسل ڈیکلیریشن آف ہیومن رائٹس" کے تحت عمل میں لایا گیا تھا، جس میں اس امر کا اعادہ کیا گیا تھا کہ دنیا میں بسنے والے تمام اقوام کے افراد کو قومیت، زبان، مقام، رنگ، نسل مذہب یا جنس سے قطع نظر ایک جیسے مساوی حقوق حاصل ہوں گے اور ان حقوق کا تحفظ کرنا اقوام متحدہ کے تمام ممبر ممالک کی ذمہ داری ہو گی، لہذا "1951ء رفیوجی کنونشن" کے مطابق اگر دنیا کے کسی بھی ملک کے کسی شہری کو اپنے ملک میں نسل، مذہب، قومیت، سیاسی رائے، یا کسی سماجی گروپ کی رکنیت کی بنیاد پر ظلم و ستم یا جان کا سنگین خطرہ درپیش ہے، تو وہ دنیا کے کسی بھی دوسرے محفوظ ملک میں جا کر وہاں کی حکومت کو پناہ کی درخواست کر سکتا ہے کہ اسے وہاں رہنے دیا جائے تاکہ اس کے جان کی حفاظت ممکن ہو سکے اور وہ آزادانہ طور پر زندگی گزارنے کے قابل ہو سکے، جس کا ہر انسان کو حق حاصل ہے۔ اس عمل کو "سیاسی پناہ" یا "اسائلم" کہتے ہیں۔  

"1951ء رفیوجی کنونشن" کا معاہدہ شروع میں محض یورپ کے جنگ سے متاثرہ ممالک کیلئے محدود تھا، تاہم 1967ء میں ایک ترمیم کے ذریعے اس کا دائرہ کار بڑھا کر اسے پوری دنیا کیلئے نافذ العمل قرار دے دیا گیا۔ اس ترمیم کو "1967ء پروٹوکول" کہتے ہیں، جس کے بعد اس معاہدے کو "1951ء رفیوجی کنونشن اور اس کے 1967ء پروٹوکول" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پناہ کا درخواست گزار شخص کسی بھی ملک کی حکومت کو "سیاسی پناہ" یا "اسائلم" دینے کیلئے مجبور نہیں کر سکتا۔ یہ خالصتاً اس ملک کی صوابدید پر ہے کہ وہ پناہ کے متلاشی شخص کو "سیاسی پناہ" یا "اسائلم" دیتا ہے یا نہیں۔

قارئین کرام، تقریباً دو یا تین دہائیاں قبل یہ کام بہت آسان ہوا کرتا تھا اور یورپ، کینیڈا، امریکہ میں "سیاسی پناہ" یا "اسائلم" کیلئے درخواست کرنے والوں کو فالفور قانونی طور پر وہاں مقیم رہنے کا اجازت نامہ مل جاتا تھا، جسے چند سال بعد شہریت میں بھی تبدیل کرنا آسان ہوتا تھا، تاہم تقریباً پچھلے دس یا پندرہ سال سے حالات ویسے نہیں رہے، جیسے ہوا کرتے تھے۔ بیشتر یورپی ممالک اور امریکہ نے اس حوالے سے پچھلے کئی سالوں میں اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے "سیاسی پناہ" یا "اسائلم" کے متعلق انتہائی سخت قوانین بنا دیئے ہیں، جس کی وجہ سے اب ان ممالک میں جا کر "سیاسی پناہ" یا "اسائلم" لینا تقریباً نا ممکن ہو چکا ہے۔ پہلے ایسا ہوتا تھا کہ ان ممالک میں باقاعدہ طور پر "سیاسی پناہ" یا "اسائلم" لینے والوں کو حکومت کی جانب سے گھر، رہن سہن کا ماہانہ خرچہ، مفت علاج، مفت تعلیم وغیرہ کی سہولیات باآسانی مل جاتی تھیں، لیکن اب ایسا بالکل بھی نہیں ہے اور پناہ کے متلاشی افراد وہاں انتہائی سخت ترین مالی کسمپرسی اور جسمانی تکالیف سے دوچار ہیں۔ ان کے پاس نہ رہنے کو گھر ہے، نہ کھانے کو غذا ہے، نہ بیماری کیلئے ادویات ہیں اور نہ پہننے کو کپڑے ہیں، جو پہلے انہیں وہاں کی حکومتوں کی جانب سے باآسانی دستیاب ہوتے تھے۔

اس "تبدیلی" کے پیچھے بہت ٹھوس وجوہات ہیں۔ یہ وجوہات کیا ہیں اور ان کا "ایف-آئی-اے" کی جانب سے امیگریشن سسٹم میں کیئے جانے والے سخت ترین اقدامات اور آف لوڈنگ والے معاملے سے کیا تعلق ہے ؟ اس کے متعلق تفصیلات انشاء اللہ میں اس کالم کے اگلے حصے میں آپ کے گوش گزار کروں گا۔
 

بشکریہ اردو کالمز