68

ایف-آئی-اے اور آف لوڈنگ کا معاملہ: تفصیلات اور حقائق (دوسرا / آخری حصہ)"

میں آپ کو "ایف-آئی-اے" کی جانب سے امیگریشن سسٹم میں کیئے جانے والے سخت ترین اقدامات اور آف لوڈنگ والے معاملے کے پس پردہ اہم ترین وجوہات بتا دیتا ہوں، باقی فیصلہ آپ خود کر لیں کہ "ایف-آئی-اے" کی سمت درست ہے یا غلط ہے۔

تقریباً پچھلی ایک دہائی میں پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش سمیت پوری دنیا بالخصوص جنگ زدہ ممالک جیسے شام، فلسطین، سومالیہ، سوڈان، چاڈ، یمن، افغانستان وغیرہ سے لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے غیر قانونی طور پر یورپ، کینیڈا، امریکہ جا کر وہاں کی حکومتوں کو "سیاسی پناہ" یا "اسائلم" کیلئے درخواستیں دیں، جن میں سے 90 فیصد درخواستیں جھوٹی، بے بنیاد اور من گھڑت قصوں پر مبنی پائی گئیں۔ تحقیقات کرنے پر معلوم ہوا کہ "سیاسی پناہ" یا "اسائلم" کیلئے درخواستیں دینے والوں میں اصل ضرورت مند اور مستحق افراد کی تعداد سے دس گناہ زیادہ تعداد جھوٹی درخواستیں دینے والوں کی تھی۔ 

میرا موضوع حکومت پاکستان اور ایف-آئی-اے کی جانب سے آف لوڈنگ کا معاملہ ہے، لہذا آپ دنیا کے باقی ممالک کو ایک طرف کر دیں، آپ پاکستانی شہریوں کی بات کر لیں اور صرف ایک ملک برطانیہ کی مثال لے لیں تو وہاں ہزاروں کی تعداد میں پاکستانیوں نے "سیاسی پناہ" یا "اسائلم" کیلئے درخواستیں جمع کروا رکھی ہیں، جو 100 فیصد جھوٹ پر مبنی ہیں۔ میں خود برطانیہ میں رہ چکا ہوں، میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ہر سال انسانی سمگلروں اور ایجنٹوں کے بہکاوے میں آ کر اور ان کے دکھائے گئے جھوٹے سبز باغوں کے قصوں سے متاثر ہو کر ہزاروں پاکستانی غیر قانونی طریقے سے ترکی یا یونان کے راستے چھوٹی کشتیوں میں ڈنکی لگا کر برطانیہ میں داخل ہوتے ہیں یا پھر لاکھوں روپے کا قرضہ اپنے والدین پر چڑھا کر سٹوڈنٹ ویزہ، ورک ویزہ یا وزٹ ویزہ کے ذریعے برطانیہ "تشریف" لاتے ہیں۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ ان میں کم ہی پڑھے لکھے ہوتے ہیں، اکثریت جاہل، دیہاتی اور میٹرک فیل کی ہوتی ہے۔ "تشریف آوری" کے بعد یہ وطن عزیز کی عزت اور آبرو کا جس برے اور بدترین طریقے سے "تماشہ" بناتے ہیں، اس کی تفصیل میں اگر جائیں، تو بات اگلے سال بھی ختم نہیں ہو گی۔ میں آپ کو مختصراً سمجھا دیتا ہوں۔  

اول تو بے تعلیم ہونے اور ناقص علم رکھنے کے سبب "سیاسی پناہ" یا "اسائلم" کیلئے درخواست دیتے وقت یہ پاکستانی لکیر کے فقیر بن کر ایک ہی طرح کا رٹا رٹایا اور جھوٹا بیانیہ پیش کرتے ہیں کہ ہمیں پاکستان میں جان کا خطرہ ہے، جو کہ 100 فیصد جھوٹ ہوتا ہے۔ دوم، برطانیہ میں جب تک ان کا "سیاسی پناہ" یا "اسائلم" کا کیس چلتا رہتا ہے، انہیں وہاں کے قانون کے مطابق بہترین رہائش، صاف ستھری بہترین خوراک، اعلیٰ معیار کے علاج معالجے اور تعلیم کی سہولیات وغیرہ حکومت برطانیہ کی طرف سے مفت میسر ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں "مفت خوری" کی لت پڑ جاتی ہے۔ سوم، چونکہ اکثریت پاکستانیوں کا تعلق چھوٹے اور پسماندہ خاندانوں سے ہوتا ہے، لہذا غربت میں پلنے کے سبب زندگی میں اتنا سب کچھ پہلی بار دیکھ کر یہ اپنے آپ کو سنبھال نہیں پاتے اور نتیجتاً ہر قسم کی غیر قانونی، غلط، ناجائز اور اخلاق سے گری حرکات شروع کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے معاشرے میں موجود عوام الناس کیلئے لاتعداد مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ 

"سیاسی پناہ" یا "اسائلم" کے حوالے سے برطانوی پارلیمنٹ کی جانب سے مارچ 2026ء میں جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق سال 2025ء میں غیر قانونی طور پر برطانیہ میں داخل ہونے والوں سمیت بنا قانونی دستاویزات کے برطانیہ میں مقیم رہنے والے مختلف ممالک کے شہریوں کی جانب سے حکومت برطانیہ کو "سیاسی پناہ" یا "اسائلم" کیلئے 82,100 درخواستیں موصول ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق ان درخواستوں میں سب سے زیادہ درخواستیں جمع کروانے والے پاکستانی شہری تھے، جنہوں نے مجموعی درخواستوں کا 11 فیصد جمع کروایا اور 95 فیصد سے زیادہ درخواستیں جھوٹ پر مبنی تھیں۔ آپ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی پاکستانی شہریوں کے "کردار" کو دیکھ لیں۔ 

دسمبر 2024ء میں سعودی عرب کی پولیس نے 13 پاکستانی شہریوں کو بکریاں چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کیا۔ یہ تمام گرفتار شدگان کئی ماہ سے مختلف علاقوں سے بکریاں چوری کرنے میں ملوث تھے۔ کثیر تعداد میں مویشی چوری ہونے کی شکایات موصول ہونے پر پولیس نے خفیہ تحقیقات شروع کیں، جس کے نتیجے میں یہ گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ اسی طرح اس سال جنوری 2026ء کے اوائل میں 3 پاکستانی شہریوں کو منشیات فروشی کے جرم میں سعودی عرب میں گرفتار کیا گیا۔آپ پچھلے چند سالوں کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں۔ آپ کو ایسی خبریں بھی نظر آ جائیں گی، جس میں 100 سے زیادہ افراد پر مشتمل پاکستانی بھکاریوں کا ایک پورا گروہ سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات باقاعدہ بھیک مانگنے کیلئے گیا اور وہ پورا گروہ گرفتار کر کے پاکستان ڈیپورٹ کر دیا گیا۔ مزید برآں، چوری، ڈاکہ زنی، جعلی دستاویزات کے ذریعے سفر کرنے، منشیات فروشی اور دیگر متعدد گھناؤنے جرائم میں گرفتار ہونے والے ہزاروں پاکستانی شہری اس وقت سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کئی دیگر خلیجی ممالک کی جیلوں میں قید ہیں۔ 

میں عرض کر چکا ہوں کہ تفصیل لکھنے سے قاصر ہوں، بات بہت زیادہ طویل ہو جائے گی، بس اتنا جان لیں کہ آج کینیڈا، آسٹریلیا، امریکہ، متحدہ عرب امارات اور یورپ سمیت پوری دنیا کے تقریباً تمام بڑے ممالک میں پاکستانی شہریوں کو جتنے بھی مسائل، پابندیوں اور مشکلات کا سامنا ہے، وہ صرف اور صرف ان غیر قانونی پاکستانیوں کی "عنایت" اور "مہربانی" ہے۔ اس کے باوجود پوری دنیا کے تقریباً تمام بڑے ممالک کی حکومتوں نے محض انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غیر قانونی طریقے سے آئے پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد کو "سیاسی پناہ" یا "اسائلم" دے رکھی ہے، یہاں تک کہ شہریت تک دے رکھی ہے۔ ابھی بھی ان ممالک میں "سیاسی پناہ" یا "اسائلم" کی لاکھوں درخواستیں زیر غور ہیں اور اس تعداد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے ان ممالک میں رہن سہن، خوراک، علاج معالجے اور سیکورٹی کے حالات حد درجہ خراب ہوئے ہیں۔ لاکھوں لوگوں کے رہن سہن، خوراک، علاج معالجے وغیرہ کا سارا خرچہ وہاں کی حکومتوں کو برداشت کرنا پڑھ رہا ہے، جو کہ بلاشبہ ان حکومتوں کے ساتھ ظلم اور "سیاسی پناہ" یا "اسائلم" کیلئے درخواستیں دینے والے اصل ضرورت مند اور مستحق افراد کی کھلے عام حق تلفی ہے۔ ان حالات کے پیش نظر وہاں کی حکومتیں شدید ترین مالی بحران کا شکار ہو چکی ہیں اور اب ان میں غیر قانونی پناہ گزینوں کو برداشت کرنے کی مزید سکت باقی نہیں رہی، لہذا اب اسائلم کیلئے جھوٹی درخواستیں دینے والوں کو گرفتار کر کے فالفور واپس اپنے وطن ڈیپورٹ کیا جا رہا ہے، جو کہ میرے خیال میں بلاشبہ ایک درست اقدام ہے۔

17 دسمبر 2025ء کو "قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانی اور ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ" کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈائریکٹر جنرل ایف-آئی-اے نے کمیٹی کو آف لوڈنگ کے معاملے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صرف سال 2025ء کے دوران سعودی عرب سے 24 ہزار، متحدہ عرب امارات سے 6 ہزار اور آذربائیجان سے تقریباً 3 ہزار پاکستانی شہریوں کو بھیک مانگنے کے جرم میں ڈیپورٹ کیا گیا ہے، جس سے پوری دنیا میں پاکستان کا نام حد درجہ بدنام ہوا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایسا نہیں ہے کہ ایف-آئی-اے ہر پاکستانی شہری کو آف لوڈ کر رہی ہے۔ تقریباً 8 لاکھ 50 ہزار پاکستانی شہری سال 2025ء میں مختلف ویزوں پر بیرون ممالک جا چکے ہیں، تاہم ہزاروں پاکستانی شہری ایسے بھی ہیں، جن کو ایف-آئی-اے نے آف لوڈ کیا ہےکیونکہ ضروری اور مستند سفری دستاویزات کی عدم موجودگی کے ساتھ ساتھ وہ اپنے سفر کرنے کی اصل وجہ بیان کرنے سے بھی قاصر تھے۔ اس ضمن میں تفصیلات بتاتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ایف-آئی-اے کا کہنا تھا کہ اس سال بیرون ممالک جانے والے ایسے لاتعداد پاکستانی شہریوں کو آف لوڈ کیا گیا، جو بظاہر تو عمرہ کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب جا رہے تھے، یا پھر سیر و تفریح کیلئے متحدہ عرب امارات جا رہے تھے، تاہم ان کے پاسپورٹ پر یورپی ممالک کے ویزے بھی لگے ہوئے تھے۔ اس طرح یہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے آگے مختلف یورپی ممالک جاتے ہیں اور وہاں جا کر اپنے اصل مقصد کو پورا کرنے کی بجائے بھیک مانگنے، چوری کرنے اور ویزہ کی مدت ختم ہونے پر سیاسی پناہ کی جھوٹی درخواستیں دینے جیسے جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں، جس سے پوری دنیا میں پاکستان کا نام بدنام اور عزت مجروح ہو رہی ہے۔

بشکریہ اردو کالمز