اِس دنیا میں دو طرح کے لوگ رہتے ہیں، امیر اور غریب۔ امیروں کو لگتا ہے کہ وہ زیادہ قابل، ذہین اور محنتی ہیں اور اسی وجہ سے امیر ہیں، غریب بھی اگر ہمت سے کام لیں، زندگی کو ڈھنگ سے گزارنے کے اصول سیکھیں اور استقامت کے ساتھ مقررہ ہدف کو حاصل کرنے میں جُتے رہیں تو وہ بھی امیر ہو سکتے ہیں۔ غریبوں کی زندگی میں چونکہ نظم نہیں ہوتا، وہ دیہاڑی میں جو کماتے ہیں اُڑا دیتے ہیں، بچت کرنے کا انہیں کچھ پتا نہیں ہوتا سو وہ تمام عمر غربت کے گھن چکّر سے باہر نہیں آ پاتے۔ یہ باتیں کہنی کس قدر آسان ہیں۔ ’اگر آپ غریب پیدا ہوئے ہیں تو اِس میں آپ کا کوئی قصور نہیں لیکن اگر آپ غریب ہی مر گئے تو قصوروار آپ خود ہیں‘۔ چلیے ایک کہانی پڑھتے ہیں۔
”آج سے 31 سال پہلے، پاکستان میں لاہور کے قریب ایک گاؤں میں، ایک 12 سالہ لڑکا اپنے کزنوں کے ساتھ سائیکل چلاتے ہوئے گولی لگنے سے جاں بحق ہو گیا تھا۔ اُس کا نام اقبال مسیح تھا۔ جب وہ صرف چار سال کا تھا تو اس کے خاندان نے 600 روپے (جو کہ 12 ڈالر سے بھی کم بنتے ہیں) کا قرض اتارنے کے لیے اسے قالین بنانےوالی ایک فیکٹری کے مالک کے ہاتھ بیچ دیا تھا۔ اگلے چھ برسوں تک اُسے کھڈی سے زنجیروں کے ساتھ باندھ کر رکھا گیا۔ وہ ہفتے کے ساتوں دن، روزانہ 12 گھنٹے کام کرتا اور اسے صرف چند روپے ملتے تھے۔ جب اُس کے کام کی رفتار سست ہوتی تو اُسے قالین بننے والے کانٹے (فورک) سے مارا جاتا۔ فیکٹری مالکان بچوں کو جان بوجھ کر کم کھانا دیتے تھے تاکہ اُن کی انگلیاں چھوٹی رہیں اور وہ قالین سازی کا باریک کام کر سکیں۔ دس سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اس کا قد صرف چار فٹ تھا جو اس کی عمر کے اوسط لڑکے سے 12 انچ کم تھا۔ ایک صبح وہ وہاں سے بھاگ نکلا۔ وہ ایک ٹریکٹر پر سوار ہو گیا اور بونڈڈ لیبر لبریشن فرنٹ (BLLF) کے اجلاس میں پہنچا۔ وہاں اُس نے ایک شخص کو یہ بتاتے ہوئے سنا کہ فیکٹری مالکان جو کچھ کر رہے ہیں وہ پاکستانی قانون کے تحت غیر قانونی ہے۔ جب اُس شخص نے پوچھا کہ کیا وہ کوئی بات کرنا چاہتا ہے تو اقبال مائیکروفون کی طرف بڑھا۔ اُس کے بعد اس نے کبھی قدم پیچھے نہیں ہٹائے۔ اُس نے پاکستان بھر کی قالین فیکٹریوں سے3ہزار سے زائد بچوں کو جبری مشقت سے آزاد کرانے میں مدد کی۔ اُس نے اسکول کا پانچ سال کا نصاب محض تین سال میں مکمل کیا۔ اُس نے سویڈن اور امریکہ میں بین الاقوامی کانفرنسوں سے خطاب کیا۔ بوسٹن میں نوجوانوں سے بھرے ایک کمرے میں اُس نے کہا کہ وہ وکیل بننا چاہتا ہے تاکہ پاکستان میں غلامی کی زندگی گزارنے والے ہر بچے کو آزاد کرا سکے۔ اُس وقت اُس کی عمر محض12 سال تھی۔ برانڈیز یونیورسٹی (Brandeis University) نے اسے اسکالرشپ کی پیشکش کی اور کہا کہ وہ اس کا انتظار کریں گے۔ جب اُس سے پوچھا گیا کہ وہ اپنی جان کو خطرہ ہونے کے باوجود پاکستان کیوں واپس جانا چاہتا ہے تو اُس نے کہا کہ اُس کا مقصد اس کی زندگی سے زیادہ اہم ہے۔ 1995 میں ایسٹر کے روز، جب وہ سائیکل پر گھر واپس جا رہا تھا تو اُسے پیچھے سے گولی مار دی گئی۔ اُسے شاٹ گن کے 120 سے زائد چھرے لگے۔ اس کے کزنوں کو خراش تک نہ آئی، نشانہ صرف وہی تھا۔ اُس کے جنازے میں 800 افراد نے شرکت کی۔ اُس کی یاد میں لاہور میں3ہزار لوگوں نے مارچ کیا، جن میں سے آدھے بچوں کی عمریں 12 سال سے کم تھیں۔ اُس کی وفات کے بعد، میساچوسٹس (امریکہ) کے ایک اسکول کے ساتویں جماعت کے طلباء نے، جہاں کبھی اقبال نے خطاب کیا تھا،25ہزارڈالر جمع کیے اور پاکستان میں اس کے نام پر ایک اسکول تعمیر کیا۔ امریکی کانگریس نے اس کے اعزاز میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے ’اقبال مسیح ایوارڈ‘ جاری کیا، جو آج بھی ہرسال دیا جاتا ہے“۔ (بشکریہ ایکس اکاؤنٹ، ڈاکٹر لیما)۔
16 اپریل کا دن اقبال مسیح کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ میں جب بھی اقبال مسیح کی کہانی پڑھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ ہم سب خود کو کتنا عظیم، نظریاتی اور انقلابی سمجھتے ہیں، محفلوں میں اپنی پارسائی، دانائی اور فہم و فراست کے قصے سناتے ہیں، لوگوں کوبتاتے ہیں کہ ہم کس قدر سیلف میڈ ہیں، ہم نے رات دن کتنی محنت سے یہ نام ومقام بنایا ہے، ہم نے کیسی دانشمندی سے زندگی کی منصوبہ بندی کی ہے۔ لیکن ایک دس بارہ سال کا بچہ اٹھتا ہے اور ہماری زندگیوں کا کھوکھلا پن ہم پر آشکار کر دیتا ہے۔ اقبال مسیح کی کہانی صرف اُس کی ناقابل یقین جدوجہد کی کہانی نہیں بلکہ یہ متمول طبقے کیلئے ایک ’رئیلیٹی چیک‘ ہے۔ اُن آسوہ حال لوگوں کیلئے جو یہ سمجھتے ہیں کہ غربت محض پیسے کم ہونے کا نام ہے، وہ یہ نہیں جانتے کہ ’ تمام سکھی گھرانے ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں جبکہ تمام دکھی گھرانوں کے غم اپنے اپنے ہوتے ہیں‘۔ اقبال مسیح نے بارہ سال کی عمر تک وہ کچھ کر دکھایا جو اچھے خاصے عالمی سطح کے لیڈر پوری زندگی نہیں کر پاتے۔ وہ پھنّے خان افسران، جو اپنے دفتروں میں بیٹھ کر پاور پوائنٹ پریزنٹیشنز بناتے ہیں، ایک دوسرے کی نوٹنگ پر انگریزی میں اعتراضات لگاتے ہیں اور خود ہی اور اپنی کارکردگی پر پھولے نہیں سماتے، اپنے پورے کیرئیر میں ایک بھی ایسا کام نہیں کر پاتے جس کا موازنہ اقبال مسیح کی کاوشوں سے کیا جا سکے۔ اقبال مسیح کی بارہ سالہ زندگی اِن افسران کی سو سالہ زندگی پر بھاری ہے۔
ہم اقبال مسیح کا قرض تو کبھی نہیں چکا پائیں گے، البتہ کچھ کام ضرور کر سکتے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن اُس کے نام سے ایک وظیفے کا اجرا کرے اور یہ وظیفہ صرف پسماندہ گھرانوں کے بچوں کو دیا جائے، ترجیح اقبال مسیح کے علاقے مریدکے کو دی جائے۔ وزیر اعظم پورے ملک میں دانش اسکول بنا رہے ہیں، ایک اسکول کا نام اقبال مسیح دانش اسکول رکھا جا سکتا ہے۔ اور کچھ نہیں تو کم از کم ایک شاہراہ اِس عظیم بچے کے نام سے منسوب کی جا سکتی ہے۔لیکن اصل کرنے کا کام کچھ اور ہے۔ یہ بچے جو سڑکوں، بازاروں، کارخانوں، ورکشاپوں، گھروں میں اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے کام کرتے ہیں، انہیں اُنکا بچپن لوٹا دیا جائے۔ ٹالسٹائی کا شاہکار افسانہ ’پیالہ‘ یاد آ گیا: ”جس دن سے الیوشا نے چلنا شروع کیا، اسی دن سے گھر کا کام بھی کرنا شروع کر دیا۔ چھ سال کی عمر میں وہ اپنے باپ کی تمام بکریوں کا رکھوالا بن گیا اور کچھ ہی عرصے بعد وہ گھوڑوں کی دن رات نگہداشت پر مامور کر دیا گیا“۔
روس کے الیوشا سے لے کر مریدکے کے اقبال مسیح تک، ہر جگہ ایک ہی کہانی ہے۔ امیر اور غریب کہانی۔ باقی سب خوش کُن باتیں ہیں۔ دل بہلانے کے قصے ہیں۔ فُرصت کے بہانے ہیں۔
