12

آئیڈیل ڈپلومیسی اور اسلام آباد اکارڈ؟

اس وقت ایران امریکا بالواسطہ ڈائیلاگ کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ امریکا جن ایشوز کو اپنی ریڈ لائنز قرار دیتا چلا آ رہا ہے بدلے ہوئے حالات میں ایک نوع کی تبدیل شدہ ایرانی قیادت نے تقریباً وہ تمام شرائط تسلیم کر لی ہیں۔ اب اصل ایشو ایران کیلئے یقین دہانیوں یا مطلوبہ گارنٹیوں کا حصول ہے کیونکہ صدر ٹرمپ کیUnpredictable شخصیت اور یوٹرنز کے باعث ایرانیوں کے خدشات ہیں کہ اپنے مطالبات یا شرائط منوانے کے بعد ٹرمپ کہیں ہمارے ساتھ ہاتھ نہ کر جائیں۔بشمول چائنا کسی کیلئے بھی ٹرمپ کی گارنٹی دینا مشکل ہے اس پس منظر میں ایرانی قیادت یہ تقاضا کر رہی ہے کہ اسلام آباد اکارڈ میں جو کچھ طے پا جائے اسکی گارنٹی یو این سیکورٹی کونسل سے دلوائی جائے لیکن اس میں بھی یہ احتمال موجود ہے کہ موقع نکلنے کے بعد ٹرمپ کو کیسے پابند رکھا جا سکے گا۔ سفارتی حلقوں میں اس نوع کی سوچ بھی پائی جا رہی ہے کہ کیوں نہ ٹرمپ خود اسلام آباد پہنچ کر ایرانی پریزیڈنٹ کے ساتھ مل کر اس متوقع امن معاہدے پر دستخط کریں اور اس پر کاربند رہنے کی یقین دہانی کروائیں۔ پندرہ امریکی مطالبات اور دس ایرانی شرائط کے حوالے سے باہم اشتراک پیدا کرنے اور ہر دو فریقین کو متفقہ لائحہ عمل یا حل پر لانےکیلئے پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے بلا شبہ انتھک محنت کیساتھ ایرانی قیادت کو قائل کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ،جس میں انہیں ترکیہ اور مصری ڈپلومیسی کا بھی پورا تعاون حاصل رہا ہے نیز حسب موقع چائنا کی ہیلپ بھی لی گئی لیکن سب سے بڑھ کر پاکستان کا یہ اصولی موقف نہ صرف ایران بلکہ اسکی ہمسایہ عرب خلیجی ریاستوں پر بھی واضح ہے کہ اگر ازسر نو ایران امریکا جنگ شروع ہوتی یا طول پکڑتی ہے جسکی لپیٹ میںگلف اسٹیٹس اور سعودیہ آتے ہیں تو پاکستان کیلئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ وہ کھلے بندوں سعودیہ کے دفاع میں کھڑے ہو جائے اس سلسلے میں پیش بندی کے طور پر پاکستان اپنے جیٹ لڑاکا طیارے اور فوجی دستےکنگ عبدالعزیز ایئر بیس پر بھیج چکا ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025 کے بعد سے اسٹرٹیجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ (SMDA) کے تحت سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان کیساتھ پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت کی کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔اسی تسلسل میں پاکستان کیلئے یہ ممکن ہوا ہے کہ وہ سعودی عرب اور قطر سے اربوں ڈالرز کی وصولی کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کو معاہدے کے مطابق واجبات کی ادائیگی یا واپسی کر سکے۔ پاکستانی پرائم منسٹر نے حال ہی میں سعودیہ اور قطر کا کامیاب دورہ کرتے ہوئے امریکا، ایران مذاکرات اور مجوزہ معاہدے کے حوالے سے بھی انہیں اعتماد میں لیا۔ پاکستانی پرائم منسٹر کی بھرپور کوشش ہے کہ ایران سعودیہ کے بیچ جنگ کی نوبت نہ آئے۔ اسی شٹل ڈپلومیسی کے تیسرے مرحلے میں اب وہ ریاض اور دوحہ کے بعد انطالیا پہنچے ہیں جہاں بشمول مصر اور ترکی ہر سہ ممالک کے ڈپلومیٹ موجود ہیں۔

دوسری طرف پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے تہران کا دورہ کرتے ہوئے امریکی تجاویز اور ایرانی شرائط پر ڈسکشن کی اور متوقع مذاکرات میں پیش آنیوالی رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے ایرانی قیادت کو اعتماد میں لیا ۔جنرل عاصم منیر کی ایرانی فارن منسٹر عباس عراقچی، ایرانی مجلس کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے علاوہ ایرانی پریزیڈنٹ مسعود پشکیان سے بھی ملاقاتیں ہوئیںشنیدہے کہ انہوں نے نہ صرف واشنگٹن کے موقف پر انہیں اعتماد میں لیا بلکہ یہ بھی امکان ہے کہ وہ انطالیا سے ہوتے ہوئے واشنگٹن جائیں گے۔ دوسری طرف واشنگٹن میںٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے باہرصحافیوں کے سوالات پر جو گفتگو کی ہے وہ بھی صورتحال سمجھنے میں معاونت کرتی ہے،ایک سوال پرٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران امریکا امن معاہدے پر اسلام آباد میں دستخط ہوتے ہیں تو شاید میں بھی اسلام آباد جاؤں،تہران نے واشنگٹن کی تقریباً تمام شرائط مان لی ہیں وہ افزودہ یورینیم بھی ہمارے حوالے کرنے پر رضا مندہے،میرا خیال ہے کہ ہم معاہدہ کرنے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی واضح رہے کہ ایرانی قیادت کیلئے بہت بڑا ایشو لبنانی حزب اللّٰہ کی بقا ہے یا اور ایران چاہتا ہے کہ جنگ بندی میں حزب اللّٰہ کی شمولیت کو بھی لازم بنایا جائے، اس حوالے سے ٹرمپ کی ہدایت پر سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے لبنانی اور اسرائیلی وزرائے خارجہ سے کامیاب مذاکرات کیے ہیں اور کم از کم دس روزہ جنگ بندی پر اتفاق رائے ہو گیا ہے،شنید ہےکہ تہران میں ایرانی اسپیکر باقرقالیباف نے پاکستانی آرمی چیف سے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی ایران کیلئے اتنی ہی اہم ہے جتنی ایران میں جنگ بندی، اس لیے لبنان کو بھی اس جامع جنگ بندی معاہدے میں لازماً شامل کیا جائے تو پاکستانی جنرل عاصم منیر نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ میں لبنان میں جنگ بندی کی اہمیت کو سمجھتا ہوں اور اس پر پوری طرح نظر رکھوں گا۔ دوسری طرف نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انہوں نے لبنان کے ساتھ دس روزہ جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے تاکہ امریکی صدرکی طرف سے اسرائیل اور لبنان میں امن معاہدے کی کوششوں کو وقت دیا جا سکے جبکہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ جلد لبنانی صدر اور اسرائیلی پرائم منسٹر کو واشنگٹن مدعو کرنیوالے ہیں تاکہ انہیں جامع امن معاہدے میں شامل کرایا جا سکے۔ اسکے ساتھ یہ امر بھی واضح رہے کہ ایرانی قیادت نے ایٹمی پروگرام پر میعاد بیس کی بجائے پانچ سال کروانے کے اختلافی نکتے پر بات کرنے کے بعد یہاں تک کہہ دیا ہے کہ دیگر پیچیدہ معاملات پر بریک تھرو ہو گیا ہے اس پس منظر میں نہ صرف مڈل ایسٹ بلکہ پوری دنیا کیلئے یہ ایک خوشگوار لمحہ ہوگا جب اسلام آباد میں ایران امریکا آخری راونڈ کامیابی سے ہمکنار ہوگا اور’جامع اسلام آباد اکارڈ‘کی کامیابی کا اعلان پوری دنیا میں خوشی سے سنا جائیگا۔

بشکریہ ڈان ںیوز